سپریم کورٹ کا ایک نیا ’سیاسی‘ فیصلہ
سپریم کورٹ کے 8 ججوں نے دو ماہ بعد مخصوص نشستیں تقسیم کرنے کے بارے میں بالآخر الیکشن کمیشن کے اس استفسار کا جواب دیا ہے کہ ان ارکان اسمبلی کے بارے میں کیسے فیصلہ کیا جائے جنہوں نے کاغذات نامزدگی میں تحریک انصاف کے ساتھ وابستگی ظاہر نہیں کی تھی۔ سپریم کورٹ کے فاضل ججوں نے ان تمام ارکان کو تحریک انصاف کا رکن تسلیم کرنے کا حکم دیا ہے جن کی رکنیت اور حلف نامے کے بارے میں بیرسٹر گوہر علی نے پارٹی چیئرمین کے طور پر سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں۔
عدالت کے آٹھ فاضل ججوں نے حکم دیا ہے کہ الیکشن کمیشن ان ارکان کو تحریک انصاف کا رکن اسمبلی تسلیم کرتے ہوئے فوری طور سے پارٹی کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں تقسیم کرے۔ ایسا کرنے میں تاخیر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوگی اور اس کے آئینی نتائج ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں میں تحریک انصاف کو حصہ دینے کے حوالے سے 12 جولائی کو سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ایک خط میں سپریم کورٹ سے استفسار کیا تھا کہ قومی اسمبلی کے 80 ارکان تحریک انصاف سے تعلق بتاتے ہیں لیکن ان میں سے صرف 39 ارکان نے کاغذات نامزدگی میں اپنی پارٹی وابستگی ظاہر کی تھی۔ باقی 41 ارکان نے اس کا حوالہ نہیں دیا تھا۔ کمیشن کے مطابق اس وقت تحریک انصاف کا کوئی منظور شدہ انتظامی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق یہ سرٹیفکیٹ کون جاری کر سکتا ہے۔
اکثریتی فیصلہ کرنے والے سپریم کورٹ کے آٹھ ججوں نے الیکشن کمیشن کے استفسار کو مسترد کرتے ہوئے اسے تاخیری حربہ قرار دیا ہے اور عدالت عظمی کے حکم پر عمل نہ کرنے کی صورت میں الیکشن کمیشن کو نتائج کی دھمکی دی ہے۔ مختصر وضاحتی نوٹ پر جسٹس منصور علی شاہ کے علاوہ اکثریتی فیصلے میں شامل تمام ججوں کے دستخط ہیں۔ ان میں جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمدعلی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں۔ حکم نامہ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ’فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے سنگین نتائج ہوں گے۔ 12 جولائی کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس حکم کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنایا ہے‘ ۔ ججوں کا کہنا ہے کہ واضح معاملہ پیچیدہ بنانے، ابہام پیدا کرنے کی کوشش مسترد کی جاتی ہے۔ کمیشن کے ذریعے جاری فہرست محض انتظامی عمل ہے۔ مقصد تمام متعلقہ افراد کو معلومات اور سہولت فراہم کرنا ہے۔ قانونی طور پر عائد ذمہ داری پوری کرنے میں ناکامی یا انکار کے نتائج ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا الیکشن کمیشن ذمے داری فوری پوری کرے۔
4 صفحات پر مشتمل اس حکم نامہ میں زیادہ زور الیکشن کمیشن پر الزام تراشی اور اس کے خط کو بالواسطہ طور سے بدنیتی قرار دینے پر صرف کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایک واضح اور دو ٹوک مختصر حکم کے بعد اس پر عمل کرنے کی بجائے، وضاحت کے نام پر سپریم کورٹ سے استفسار کر کے دراصل معاملہ لٹکانے کی کوشش کی ہے۔ اس ہتھکنڈے کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اس حکم میں تحریک انصاف کی طرف سے پیش کی جانے والی دستاویزات اور الیکشن کمیشن کے ساتھ خط و کتابت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ حکم میں بتایا گیا ہے کہ ان خطوط اور دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ موقف غلط اور غیر قانونی ہے کہ تحریک انصاف کا کوئی انتظامی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن خود بیرسٹر گوہر علی کو چئیرمین پارٹی کے طور پر خط لکھتا رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس نے بیرسٹر گوہر علی کو تحریک انصاف کا چیئرمین تسلیم کیا ہے۔ فیصلہ کرنے کے بعد کمیشن کے پاس اس سے مفر کی گنجائش موجود نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے اکثریتی ججوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلہ میں شامل آٹھ ججوں کے علاوہ اس فیصلہ سے اختلاف کرنے والے تین ججوں نے بھی واضح کیا تھا کہ تحریک انصاف سیاسی پارٹی کے طور موجود تھی اور اب بھی موجود ہے۔ الیکشن کمیشن بھی عدالت کے سامنے تحریک انصاف کو رجسٹرڈ پارٹی قبول کرچکا ہے۔ پارٹی سے انتخابی نشان واپس لینے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس پارٹی کا وجود ختم ہو گیا۔ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا تھا کہ اس پارٹی سے وابستگی رکھنے والے منتخب ہونے والے ارکان تحریک انصاف کے رکن شمار ہوں گے۔ اور پارٹی کو ان ارکان کی تعداد کے حساب سے مخصوص نشستوں میں حصہ دیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کا تازہ حکم کئی لحاظ اہمیت کا حامل ہے لیکن سب سے زیادہ پریشان کن بات الیکشن کمیشن کے بارے میں حکم کا لب و لہجہ اور اسے نتائج کی دھمکی دینے پر اصرار ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے۔ اس کے سربراہ کی حیثیت رتبے او ر عہدے کے اعتبار سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یا جج سے کمتر نہیں ہے۔ ایک ہم ادارے اور فرد کے بارے میں بات کرتے ہوئے فاضل ججوں کو محتاط اور قانونی زبان استعمال کرنے تک محدود رہنا چاہیے تھا۔ الیکشن کمیشن کو خود بھی اپنی آئینی اور قانونی پوزیشن کا احساس ہو گا۔ اسے کسی اسکول کے بچے کی طرح مختصر حکم میں یہ باور کرانا ضروری نہیں تھا کہ اگر اس نے حکم نہ مانا تو اس کے نتائج ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے چیئرمین ہی نہیں بلکہ اس کے ارکان کو بھی بخوبی علم ہے کہ آئینی حدود کی خلاف ورزی قبول نہیں کی جا سکتی۔ سپریم کورٹ کے حکم کا لب و لہجہ خاص طور سے ملک میں موجود سیاسی بداعتمادی کی موجودہ فضا میں ایک خاص سیاسی نقطہ نظر کی حمایت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس میں الیکشن کمیشن کی جانبداری اور آئینی مقام و مرتبہ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس حکم کو پڑھنے سے یوں لگتا ہے کہ جیسے الیکشن کمیشن جانبدار اور یک طرفہ فیصلے کرنا والا ادارہ ہے جس کی سرزنش بے حد ضروری ہے۔ تحریک انصاف الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری کے بارے میں متعدد بار اعلانات کرتی رہی ہے اور چیف الیکشن کمیشن کی کردار کشی کے لیے مہم جوئی کی جاتی رہی ہے۔ سپریم کورٹ کو اپنے حکم میں سیاسی جوش و خروش کا مظاہرہ کرنے سے احتیاط برتنی چاہیے تھی۔
سپریم کورٹ کے آٹھ فاضل ججوں کی یہ ناراضی تو قابل فہم ہے کہ ان کے حکم پر اب تک عمل نہیں ہوا اور الیکشن کمیشن کے استفسار سے اس معاملہ میں تاخیر ہوئی ہے۔ لیکن انہیں خود اپنے طرز عمل پر بھی غور کرنا چاہیے۔ دو ماہ پہلے بھیجے گئے ایک مختصر استفسار کا اب جواب دیا گیا ہے۔ حالانکہ جیسے الیکشن کمیشن نے چند سطروں میں سوال بھیجا تھا، اسی طرح اس کا مختصر جواب روانہ کیا جاتا کہ بیرسٹر گوہر علی سپریم کورٹ کے نامزد کردہ تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں۔ اکثریتی ججوں کے تازہ حکم کا یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ گوہر علی کو پارٹی چیئرمین قرار دینے کا حکم تحریک انصاف کی فراہم کردہ دستاویزات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس پارٹی معاملے میں کسی بھی سطح پر فریق نہیں تھی۔ یوں بھی انصاف و قانون کے تقاضے کے مطابق کسی متنازعہ معاملہ میں کسی نتیجہ تک پہنچنے کے لیے صرف ایک فریق کی معلومات پر انحصار نہیں کیا جاسکتا بلکہ دوسرے فریق سے بھی جواب مانگا جاتا ہے تاکہ اصل صورت حال کا اندازہ کیا جا سکے۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے 8 ججوں نے یہ حکم جاری کرتے ہوئے اس بنیادی اصول انصاف پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔
یہاں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں میں حصہ دینے کے بارے میں قانونی حلقوں میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ کسی قاعدے یا قانون کے تحت کوئی عدالت کسی ایسے فریق کو کوئی ’انعام‘ عطا نہیں کر سکتی جو کسی معاملے میں فریق ہی نہ ہو۔ مخصوص نشستوں کے حوالے سے سنی اتحاد کونسل نے شکایت کی تھی لیکن اس کی درخواست نظر انداز کر کے اس کی سیاسی ’حیثیت‘ ہی ختم کردی گئی جو تحریک انصاف سے سنی اتحاد میں آنے والے ارکان اسمبلی کی وجہ سے قائم ہوئی تھی۔ قانون دان مسلسل کوئی ایسی قانون نظیر مانگ رہے ہیں جس کے تحت درخواست دہندہ نہ ہونے کے باوجود کسی فریق کو ایسا بڑا فائدہ دیا گیا ہو جو تحریک انصاف کو دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ دو ماہ سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود اس حکم کا تفصیلی فیصلہ ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا۔ ان آٹھ ججوں نے اضافی مختصر حکم تو جاری کیا ہے لیکن تفصیلی حکم جاری کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ حالانکہ قانون کی عام تفہیم یہ بھی کہتی ہے کہ کسی اختلافی فیصلہ پر اپیلیں سنے بغیر اسے حتمی نہ مانا جائے۔ اگر سپریم کورٹ کے 8 جج تفصیلی حکم ہی جاری نہیں کریں گے تو اس حکم کی قانونی وجوہ و بنیاد بھی سامنے نہیں آئے گی۔ اسی لیے سپریم کورٹ اس وقت تک نظر ثانی کی درخواست قبول نہیں کرتی جب تک تفصیلی فیصلہ سامنے نہ ہو۔ حکومت اور متعدد دیگر پارٹیوں و افراد نے 12 جولائی کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیلیں دائر کی ہوئی ہیں۔ ان اپیلوں پر فیصلہ ہونے سے پہلے مختصر حکم پر عمل کرنے پر اصرار بھی اسی طرح ناجائز ہے جیسے سپریم کورٹ کی طرف سے ایک آئینی ادارے کی سرزنش کا طریقہ اور اس کی ساکھ و اعتبار کو نقصان پہنچانا افسوس ناک ہے۔
سپریم کورٹ کے 8 ججوں کا فیصلہ اتفاق سے اسی روز سامنے آیا ہے جس وقت حکومت کی طرف سے آئینی ترامیم کا ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔ ان ترامیم میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی مدت ملازمت اور دیگر معاملات پر اہم فیصلے ہونے کا امکان ہے۔ حکومت سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمبر پورے کرنے کے لیے شدید تگ و دو کر رہی ہے۔ البتہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو فوری طور سے مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا حکم دے کر پارلیمنٹ کے فیصلے اور حیثیت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ سیاسی فیصلہ کہا اور سمجھا جاسکتا ہے۔ سپریم کورٹ پارلیمنٹ کی آئین سازی کے تحت قائم ہونے والا ایک آئینی ادارہ ہے۔ اسے پارلیمنٹ کا دست و بازو بننا چاہیے لیکن عدالت عظمی کے 8 فاضل ججوں نے پارلیمنٹ کی حیثیت پر اثر انداز ہونے کی بالواسطہ کوشش کر کے پارلیمنٹ کو غیر موثر کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس حکم کے بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے تحریک انصاف کو نشستیں دینے اور ان کے حلف اٹھانے سے پہلے پارلیمنٹ شاید آئین سازی کا کام نہیں کر سکتی۔ یا ایسی کسی ترمیم کو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کرنے کی درخواست دائر ہو سکتی ہے۔ یہ اصول بجائے خود ناقابل فہم ہونا چاہیے کہ سپریم کورٹ کے 8 ججوں کو پارلیمنٹ کے لگ بھگ ساڑھے چار سو ارکان کی رائے پر برتری حاصل ہو جائے۔ پارلیمنٹ پر اثر انداز ہونے والے اس حکم کو یوں بھی تشویش کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے کہ پارلیمنٹ میں جن آئینی ترامیم کی بات کی جا رہی ہے، ان کا تعلق عدلیہ سے ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ عدلیہ میں اصلاح کی ضرورت ہے، اسی لیے یہ ترامیم لائی جا رہی ہیں لیکن دانستہ یا نادانستہ سپریم کورٹ کے 8 فاضل ججوں نے ان ترامیم کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے۔
عام طور سے اسٹیبلشمنٹ کو ملک کی سب سے طاقت ور سیاسی پارٹی کہا جاتا ہے۔ لیکن اب لگتا ہے فوج اور عدلیہ پر مشتمل اس ’اسٹیبلشمنٹ‘ کی پسلی سے ایک نئی ’سیاسی پارٹی‘ درآمد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فوج کے بعد اب سپریم کورٹ ملکی سیاست پر اثر انداز ہونے کے راستے پر گامزن ہے۔ آئینی حکمرانی کے اصول کے لیے یہ بہت خطرناک چیلنج ہو گا۔


