شدت پسندی کیا ہے اور یہ کیسے ختم ہو


وزیر اعظم نواز شریف نے آج اسلام آباد میں ایک بار پھر ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی اجلاس کی صدارت کی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ کابینہ کے سینئر ارکان اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ آج کے ایجنڈے پر بھی ملک سے شدت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ تھا اور اس بات پر اتفاق رائے بھی موجود تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی ملکی سلامتی اور امن و خوشحالی کے لئے خطرہ کا باعث ہے۔ دو روز قبل وزیر اعظم نے لاہور میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے علمائے کرام سے مذہبی بیانیہ تبدیل کرنے پر زور دیا تھا۔ وزیر اعظم کا مؤقف تھا کہ ملک کے دینی مدارس ملی یگانگت اور یک جہتی کی بجائے فرقہ واریت اور منتشر الذہنی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اسی لئے بعض عناصر اسلام کی غلط توجیح کرتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کرنے اور دہشت گردی کو جائز تسلیم کروانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ آج بھی وزیر اعظم نے آپریشن رد الفساد کو تیز کرنے کا حکم دیا اور قومی اور صوبائی سطح پر قومی ایکشن پلان کو نافذ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ تاہم ملک کا عام آدمی جانتا ہے کہ اس قسم کے عزائم کا اظہار اور ان پر عملدرآمد دو مختلف باتیں ہیں۔ عام لوگوں اور حکومت کے درمیان بداعتمادی کا جو رشتہ دن بدن مضبوط ہو رہا ہے ، وہ حکومت کو بے اعتبار اور اس کے اقدامات کو بے اثر بنانے میں کامیاب ہو رہاہے۔ یوں وزیر اعظم کی باتیں اہم ہونے کے باوجود بے مقصد ہو کر رہ جاتی ہیں۔ کیوں کہ یہ باتیں تسلسل سے کی جارہی ہیں اور اسی تسلسل سے ملک کے عوام یہ دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں انتہا پسندی، مذہبی منافرت اور گالم گلوچ کی ثقافت فروغ پارہی ہے۔ ملک کے عام باشندوں کے لئے یہ طے کرنا بھی مشکل ہے کہ شدت پسندی آخر کیا ہے ۔ جب اس سوال کا صائب جواب سامنے آسکے گا تب ہی اس کے حل کی کوئی امید کی جا سکے گی۔

انتہا پسندی اور شدت پسندی کے حوالے سے سوال کا جواب تلاش کرنا، اس لئے بھی اہم ہے کیوں کہ ملک کی قیادت اسے متفقہ طور پر دہشت گردی کا منبع سمجھتی ہے۔ دہشت گردی سے ہر شخص نجات حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اس ملک میں اس بات پر اتفاق رائے موجود نہیں ہے کہ دہشت گرد کون ہے۔ آئے روز اس کی ایک نئی توجیہہ سامنے آتی ہے اور لوگوں کو مزید پریشانی اور فکری انتشار میں مبتلا کرتی ہے۔ چند روز پہلے قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن مراد سعید اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن جاوید لطیف کے درمیان جو ہاتھا پائی ہوئی اور اس کے بعد جاوید لطیف نے جس ڈھٹائی سے مراد سعید کی بہنوں کے بارے میں جس طرح ہرزہ سرائی کی، بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ رویہ بھی انتہا پسندانہ رجحانات کا شاخسانہ تھا۔ اس سے پہلے مراد سعید نے جس طرح جاوید لطیف کی عمران خان پر تنقید کے جواب میں زبانی گفتگو کی بجائے ہاتھا پائی کی کوشش کی، وہ بھی معاشرے میں زور زبردستی اپنی بات منوانے اور جبر مسلط کرنے کے طرز عمل کا نمونہ تھا۔ تاہم جاوید لطیف نے میڈیا کے سامنے جو بدزبانی کی ، اس پر اپنوں اور غیروں نے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور متفقہ طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ اس قسم کی بدکلامی قوم کی نمائندگی کرنے والے رکن اسمبلی تو کجا کسی عام شخص کوبھی زیب نہیں دیتی۔ مراد سعید کی دست درازی پر یوں پردہ پڑ گیا کہ جاوید لطیف کی زہریلی اور خوفناک بدکلامی نے اسے فراموش کرنے پر مجبور کردیا۔ لہذا عمران خان نے مراد سعید کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے جاوید لطیف کے خلاف کارروائی کا مطالبہ داغنا ضروری سمجھا۔ کیا یہ سیاسی رویہ بھی انتہا پسندی کی سرپرستی شمار نہیں ہوگا۔

اس دوران یہ اہم سوال پیش نظر رہا کہ ملک سے انتہا پسندانہ رویہ سے نالاں وزیر اعظم اپنی ہی جماعت کے ایک رکن کے غیر انسانی اور غیر مہذب رویہ پر کسی رد عمل کا اظہار کریں گے۔ لیکن وزیر اعظم نے اس پر کوئی تبصرہ کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ وہ اب تک اس بارے میں خاموش ہیں گویا قومی اسمبلی میں رونما ہونے والے واقعات اور ان کی اپنی پارٹی کے ارکان کے ادا کردہ کلمات سے انہیں کوئی غرض نہ ہو، خواہ ملک بھر میں اس پر کتنی ہی لعن طعن کیوں نہ ہو رہی ہو۔ وزیر اعظم کی یہ خاموشی کیا انتہا پسندانہ مزاج اور مخالفین کے ساتھ ہر قیمت پر حساب برابر کرنے کے رویہ کی توثیق کی مترادف نہیں ہے۔ اگر ملک کا با اختیار وزیر اعظم اور اپنی سیاسی پارٹی کا سربراہ اپنے ٹکٹ پر منتخب لوگوں کی یاوہ گوئی کو مسترد کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا تو وہ ملک میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خلاف تحریک کی قیادت کس طرح کرسکتا ہے۔ ایسا لیڈر کیوں کر ملک کے مذہبی لیڈروں سے یہ توقع کرے گا کہ وہ مذہبی انتہا پسندی کو متبادل بیانیہ کے ذریعے روکنے کی کوشش کریں جو اپنے سایسی رفیقوں کی اخلاقی زبان درازی کو روکنے کی استطاعت سے محروم ہے۔

آخری خبریں آنے تک قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے دونوں ارکان اسمبلی کی رکنیت چند روز کے معطل کی ہے۔ اگرچہ جاوید لطیف کا جرم زیادہ مانتے ہوئے ان کی رکنیت زیادہ دنوں کے لئے معطل کی گئی ہے۔ لیکن کیا اس سے مخالفین کے بارے میں شدت پسندانہ اور جارحانہ طرز کلام کی روک تھام ہو سکے گی۔ اور کیا اس طرح اس ملک کی تمام سماجی اور اخلاقی اقدار کے علاوہ مذہبی بنیادی اصولوں کو تاراج کرنے والے شخص پر اعتماد بحال ہو جائے گا۔ اگر وزیر اعظم اس شخص کو اپنی پارٹی سے نکالنے کا حوصلہ نہیں کرتے اور اگر وہ جاوید لطیف کے الفاظ کی مذمت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے افراد کو ساتھ لے کر وہ ملک میں بھائی چارے اور بقائے باہمی کے اصولوں کا پرچار کرسکتے ہیں تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ وزیر اعظم پر اعتبار کرنا مشکل ہوگا۔ ایک رہنما کے طور پر انہیں جاوید لطیف کے رویہ کو مسترد کرتے ہوئے یہ علامتی اشارہ دینے کی ضرورت تھی کہ وہ سیاسی مفادات کو ملک و قوم کے وسیع تر مفادات پر ترجیح نہیں دیتے۔ انہیں بتانا چاہئے تھا کہ حکومت اس وقت انتہا پسندی کے خلاف جد و جہد کررہی ہے ، سیاسی اختلاف پر خواتین کے بارے میں بد کلامی بھی انتہا پسندی اور جارحیت کی بد ترین قسم ہے جس کا قلع قمع کرکے ہی قومی مفاہمت کا عظیم مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک وزیر اعظم نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی سیاسی مجبوریاں انہیں وسیع تر قومی مفادات کے بارے میں سوچنے کی مہلت نہیں دیتیں۔

شدت پسندی کی ایک قسم بؤوہ بھی ہے ، جس کا مظاہرہ ان دنوں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس شوکت عزیز کی طرف سے کیا جارہاہے۔ وہ توہین مذہب کے بارے میں بعض فیس بک پیجز کو بند کروانے کی ایک درخواست پر غور کرتے ہوئے ایسے لب و لہجہ اور طرز عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے اس ملک میں نعوذ باللہ ان کے علاوہ باقی سب اسلام سے دور اور حب رسول اللہ ﷺ سے محروم ہیں۔ وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ توہین مذہب والے صفحات رکوانے کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔ سرکاری افسروں کو لتاڑتے ہوئے وہ نامعلوم افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دے رہے ہیں اور مسلسل اس مقدمہ کی سماعت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک کے قانون دانوں اور ججوں سے یہ توقع کرنا ہر شہری کا حق ہے کہ وہ غیر جذباتی طور پر قانون کے میرٹ اور اپنی قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے فیصلے اور اقدام کریں گے۔ جسٹس شوکت عزیز اپنے جائز قانونی اختیار کے تحت کسی بھی معاملہ میں فیصلہ دینے کے مجاز ہیں۔ لیکن جب وہ ایک معاملہ کو عقیدے سے منسلک کرکے ایک قانون دان اور منصف سے زیادہ فریق یا مبلغ کا طرز عمل اختیار کرتے ہیں تو اسلام کے مقرر کردہ اصولوں اور رسول اللہ ﷺ کے قائم کردہ عدل کے معیار سے تجاوز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ رویہ ملک کے انہی انتہا پسند عناصر کو قانون سے بالا ہونے کا اعلان کرنے کا حوصلہ اور موقع فراہم کرتا ہے جن کے خاتمہ کے لئے وزیر اعظم ملک کے علما سے بیانیہ تندیل کرنے کی اپیل کرچکے ہیں۔ کسی کو اپنے عقیدے کا پرچار کرتے ہوئے دوسرے کے عقیدے کو کمتر سمجھنے کا حق نہیں ہے۔ خواہ وہ اعلیٰ عدالت کے جج کی کرسی پر ہی کیوں نہ بیٹھا ہو۔ بلکہ اس حیثیت میں تو اس کی ذمہ داری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کیا جسٹس شوکت یہ باور کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ خدا نخواستہ وہ نہ ہوں تو اس ملک میں ناموس رسول ﷺ کے لئے بات کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ حضرت محمد ﷺ سے محبت ہر مسلمان کا جزو ایمان ہے۔ کسی بھی شخص کو کسی بھی مسلمان کے اس جذبہ پر شک کرنے کا حق نہیں دیا جانا چاہئے کہ یہیں سے انتہا پسندی اور شدت پسندی کے سفر کا آغاز ہو تا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر ملک کی سپریم جوڈیشل کونسل میں متفرق شکایات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس لئے ان سطور میں ان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ اس ریفرنس کا فیصلہ ہونے تک توہین مذہب جیسے حساس معاملہ کی سماعت کرنے کی بجائے اپنے خلاف الزامات کا دفاع کرلیں ورنہ ان کی نیت کے بارے میں شبہات پیدا ہونا فطری ہے۔ ان کا یہ طرز عمل رسول پاکؐ کی تعلیمات کے مطابق ہوتا اور وہ زیادہ سرخرو ہو سکتے تھے۔ لیکن اس کی بجائے وہ کمرہ عدالت میں یہ اعلان کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف جوڈیشل کونسل کی کارروائی قذافی اسٹیڈیم میں کی جائے تاکہ میڈیا اور عوام بھی اس کارروائی کو دیکھ اور سن سکیں۔ وہ اس قسم کے جذباتی اعلانات سے اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا ایک ایماندار جج کے طور پر وہ کسی مقدمہ کی سماعت کے دوران اپنے معاملات پر گفتگو کے مجاز ہیں۔ اور کیا وجہ ہے کہ ان کے خلاف شکایت کی سماعت ان کی خواہش کے مطابق ہو جبکہ دیگر ججوں کے خلاف شکایت کی سماعت ایک مسلمہ طریقہ کار کے مطابق ہوتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ وہ اس مخصوص طریقہ کے مطابق ہونے والی سماعت کے تحت خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی بجائے کھلی عدالتی کارروائی پر اصرار کررہے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ ان کی ان باتوں سے کن لوگوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انہیں کہاں اور کس انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کیا یہ عدالتی دیانتداری ہے۔

انتہا پسندی اور شدت پسندی محض کسی مسجد کے پیش امام ، مدرسے کے معلم یا مذہبی رہنماؤں کی نفرت انگیز باتوں سے نہیں پھیلتی۔ ایک سیاست دان، کوئی جج یا صحافی بھی اپنے رویہ اور طریقہ کار سے اس کا پرچار کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لئے ملک میں خود کو اعلیٰ اور درست اور دوسروں کو کمتر اور غلط سمجھنے کا رویہ ترک کئے بغیر انتہا پسندی کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ با اختیار افراد کے رویے عام لوگوں کی سوچ اور عمل پر زیادہ تیزی سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لئے سیاست دان، جج اور صحافی پر اس بارے میں زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ مشکل راستہ ہے۔ اس مشکل سفر کو صرف اس صورت میں طے کیا جا سکتا ہے جب معاشرے کا ہر فرد اس بارے میں اپنی ذمہ داری محسوس کرے گا۔ بصورت دیگر وقفے وقفے سے اجلاس ہوتے رہیں گے اور پرانی باتیں دہرائی جاتی رہیں گی ۔ ایک کے بعد دوسری حکومت سابقہ حکمرانوں پر الزام تراشی کرکے خود انہی غلطیوں کاا رتکاب کرتی رہے گی۔ لیکن امن اور اعتماد کا راستہ کھوٹا ہی رہے گا۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali