کیا لکی مروت پولیس کا احتجاج بھی ایک نئی مزاحمتی تحریک بن سکتا ہے؟


تاریخ کے صفحات پر اکثر ایسے لمحے آتے ہیں جب ایک قوم یا طبقہ اپنے حقوق کی جدوجہد کے لیے اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ پاکستان میں حالیہ واقعات، خصوصاً خیبر پختونخوا کی پولیس اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی سرگرمیاں، ایسے ہی واقعات میں شمار کی جا سکتی ہیں، جنہوں نے قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

لکی مروت پولیس کا حالیہ احتجاج ایک نئی تحریک کا آغاز نظر آتا ہے، جس میں غریب اہلکاروں نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور ثابت کر دیا کہ انقلاب کا راستہ ہمیشہ غریب طبقہ ہموار کرتا ہے۔ اس احتجاج کے دوران، یہ بات قابل ذکر ہے کہ کسی جاگیردار، سرمایہ دار یا بڑے سیاسی شخصیت کو اس میں شامل نہیں دیکھا گیا۔ احتجاج کرنے والے صرف وہی لوگ تھے جو اپنی نوکریوں کے ساتھ ساتھ اپنی جانوں کی بھی بازی لگا رہے تھے۔ ان کا مقصد واضح تھا: فوج کو ضلع سے نکال کر امن و امان کی ذمہ داری پولیس کے سپرد کرنا۔

غریب طبقے کی قربانیاں

احتجاجی پولیس اہلکاروں کا موقف بہت مضبوط تھا۔ انہیں دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ اگر وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہ ہٹے تو انہیں نوکری سے برخاست کیا جائے گا یا پھر جان سے مار دیا جائے گا۔ لیکن ان کی ثابت قدمی اور اپنے موقف پر پہاڑ کی طرح جمے رہنا، ان کے حوصلے اور عزم کی گواہی دیتا ہے۔ انہوں نے قرآن پاک پر حلف اٹھا کر کہا کہ وہ اپنی نوکری سے زیادہ اپنی زندگی کو اہمیت دیتے ہیں اور اپنے بچوں کو یتیم کرنے کے بجائے بھوکا رہنے کو ترجیح دیں گے۔

یہ وہی عزم ہے جو چھ سال قبل پشتون تحفظ موومنٹ نے دکھایا تھا۔ منظور پشتین کی قیادت میں جب 22 نوجوان ڈیرہ اسماعیل خان سے اسلام آباد روانہ ہوئے تھے، انہیں بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اس وقت حکومت نے ان کے چار مطالبات تسلیم کیے تھے، لیکن اس کے باوجود ان نوجوانوں نے احتجاج کو معطل کر دیا تاکہ ان پر کوئی الزام نہ لگ سکے کہ وہ تسلیم شدہ مطالبات کے بعد بھی دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لیکن مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کے وجہ سے تحریک کے سرگرمیوں کے ساتھ عوامی سطح پر دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے

پی ٹی ایم اور لکی مروت پولیس کا مشترکہ عزم

پی ٹی ایم کے کارکنان اور رہنما، جنہیں ریاستی سطح پر غداری اور دہشتگردی کے الزامات کا سامنا ہے، بھی اسی راہ پر چل رہے ہیں جس پر لکی مروت پولیس گامزن ہے۔ پی ٹی ایم نے گزشتہ چھ سالوں میں ملک کے مختلف حصوں میں بڑے بڑے عوامی اجتماعات کا انعقاد کیا ہے، جہاں ان کا واحد مطالبہ یہی تھا کہ پشتون علاقوں میں نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ختم کیا جائے، جس نے 90 ہزار سے زائد لوگوں کی جان لی اور لاکھوں کو اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبور کیا۔

منظور پشتین کی قیادت میں پی ٹی ایم نے اپنے موقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹی، اور یہی عزم ہمیں لکی مروت کے پولیس اہلکاروں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ فوج کو ضلع سے واپس بلایا جائے اور امن و امان کی ذمہ داری پولیس کے حوالے کی جائے۔ اگرچہ انہیں بھی نوکری سے برخاست کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، لیکن ان کا عزم اتنا ہی مضبوط ہے جتنا کہ پی ٹی ایم کے کارکنان کا۔

حکومت اور ریاستی اداروں کا ردعمل

حکومت نے پی ٹی ایم پر الزام لگایا ہے کہ وہ بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ فوج کے سابق ترجمان، آصف غفور نے بھی کہا تھا کہ پی ٹی ایم کو بھارت، افغانستان اور دیگر ممالک سے مالی معاونت حاصل ہو رہی ہے۔ لیکن منظور پشتین نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی اور کہا تھا کہ اگر حکومت کے پاس کوئی ثبوت ہے تو ایک کمیشن بنایا جائے تاکہ معاملے کی تحقیقات ہو سکیں۔

لکی مروت پولیس کے احتجاج پر آئی جی خیبر پختونخوا پولیس نے کہا ہے کہ کہ کچھ عناصر اندر اور کچھ عناصر باہر سے معاملات خراب کرنے کے کوشش کر رہے ہیں

انہوں نے کہا ہے کہ پولیس قیادت اُن کے مذموم مقاصد سے بخوبی آگاہ ہے، عوام، پولیس اور فوج کی وجہ سے صوبے میں امن و امان قائم ہوا اور مستقبل میں بھی یہ مثالی تعلق قائم رہے گا

تحریک کی وسعت

لکی مروت پولیس کے احتجاج سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب ایک صوبائی تحریک کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ اس احتجاج میں دوسرے اضلاع کے پولیس اہلکاروں نے بھی حمایت کی، اور یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ تحریک صرف لکی مروت تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پورے خیبر پختونخوا کی پولیس اس میں شامل ہوگی۔ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو یہ تحریک مزید وسعت اختیار کر سکتی ہے، جس کی بنیاد پی ٹی ایم نے چھ سال قبل رکھی تھی۔

لکی مروت پولیس کا مطالبہ اور مستقبل کا لائحہ عمل

لکی مروت پولیس کے 1300 اہلکاروں کا ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ فوج کو چھ دن کے اندر ضلع سے نکال لیا جائے۔ اگر حکومت نے ان کے اس مطالبے پر عمل نہیں کیا تو یہ تحریک دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ اس مطالبے کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے، سرکاری حلقوں میں بھی بحث شروع ہو گئی ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس، جو کہ گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر ہے، کو مزید جدید اسلحہ، آلات اور شہداء کے پیکجز کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں اضافہ فراہم کیا جائے۔

یہ سب اقدامات، اگرچہ لکی مروت پولیس کی تحریک کا نتیجہ ہیں، لیکن اس کا اثر پورے صوبے کی پولیس پر پڑے گا۔ یہ تحریک اب پورے خیبر پختونخوا کی پولیس کے لیے امید کی ایک کرن بن چکی ہے، اور اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ تحریک پی ٹی ایم کی طرح ایک بڑی عوامی تحریک میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

تاریخ گواہ ہے کہ انقلاب کا راستہ ہمیشہ غریب طبقہ ہموار کرتا ہے۔ لکی مروت پولیس اور پشتون تحفظ موومنٹ کی جدوجہد اس بات کی عکاس ہے کہ جب غریب عوام اپنے حقوق کے لیے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں، تو ان کی طاقت کو کوئی بھی طاقت روک نہیں سکتی۔ اس تحریک نے ثابت کر دیا ہے کہ جب عوام ایک بار عزم کر لیں تو وہ اپنے حقوق حاصل کر کے رہتے ہیں۔

لکی مروت پولیس اور پی ٹی ایم کی مشترکہ جدوجہد ایک مثال ہے کہ غریب اور متوسط طبقہ جب ایک مقصد کے تحت متحد ہو جائے، تو وہ اپنے حق کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا لکی مروت پولیس کا احتجاج بھی ایک نئی مزاحمتی تحریک بن سکتا ہے؟

  • 18/09/2024 at 12:49 شام
    Permalink

    تحریک تو اپنی جگہ، آپ نے جو ذکر کیا یہاں اس کے لیئےبے حد محبت

Comments are closed.