قرطاس پہ دستک
1۔ ایک بے تکی زندگی کا خلاصہ
میں ساڑھے چار برس کا تھا، جب مجھے علامہ اقبال پبلک سکول شجاع آباد میں داخل کرایا گیا۔ علامہ اقبال ایک معیاری، لیکن آمرانہ مزاج کا حامل سکول تھا۔ میں ٹھہرا سدا کا کھلنڈرا اور کام چور، سیدھا ماں کے پلو سے لپٹ گیا اور لگا رحم کی دہائیاں دینے :
”نی مائے سانوں کھیڈن دے، میرا وت کھیڈن کون آسی!“ (ماں مجھے کھیلنے دے، پھر میرے ساتھ کون کھیلنے آئے گا۔)
اور ماں جی نے جواب دیا:
”پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب!“
ماں جی ایک سادہ لوح اور معصوم عورت تھیں۔ میں بھلا اُنہیں کیسے بتاتا کہ میرے ناتواں کندھے کسی افسری یا نوابی کا بوجھ نہ اٹھا پائیں گے۔ مجھے تو بس اپنے من کی تال پر جھومر کھیلنی ہے، آوارہ پنچھی کی طرح آسمان پر اڈاریاں لگانی ہیں، کٹی پتنگ بن کر ہوا کے سینے پر ڈولتے جانا ہے! اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے!
مجھے اچھی طرح سے یاد ہے جب کبھی میں سکول جانے سے انکار کر دیتا تو میرے والد اور ماموں مجھے ٹنگا ٹولی کر کے لے جاتے، میں ہوا میں مکے اور لاتیں چلاتا رہ جاتا! سنا تھا کہ کچے پیاز کو چھیل کر بغل میں داب لیا جائے تو تھوڑی ہی دیر میں بخار ہو جاتا ہے۔ کئی بار یہ شغل کر کے دیکھا، مگر بخار تو دور، چھینک تک نہ آ پائی، اُسی منہ سے سکول جانا پڑا! میں سکول کا واحد پوزیشن ہولڈر تھا جس نے کبھی ہوم ورک نہیں کیا۔ کاپی دکھانے کی باری آتی تو خاموشی سے گال آگے کر دیتا۔ عام دنوں کی تو خیر تھی، لیکن گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد خالی ہاتھ جانے کی سزا سو تھپڑ یا سو ڈنڈے تھی۔ ایک بار میں نے ورائٹی کے چکر میں ڈنڈوں کے بجائے تھپڑ چُوز کر لیے تو پندرہویں تھپڑ پر ناک، اور اٹھارہویں پر گال پھٹ گیا۔ ابھی ”مار نہیں پیار“ کا سلوگن متعارف ہونے میں کافی دیر تھی، مگر اس کے باوجود میرے ناک اور منہ سے خون بہتا دیکھ کر استادِ محترم کا چہرہ فق ہو گیا۔ انہوں نے فوراً مجھے اپنا ریشمی رومال عطاء کیا اور تقریباً گود میں اٹھا کر واٹر کولر تک لے گئے، جہاں ہمارے درمیان یہ تاریخی معاہدہ طے پایا کہ اگر میں اپنے والدین کے سامنے اِس خون خرابے کا ذکر گول کر جاؤں، تو وہ ہمیشہ کے لیے مجھے ہوم ورک کی قید سے رہا کر دیں گے! یقیناً میں نے وہی کیا، جو ایک ہوش مند بچے کو کرنا چاہیے تھا!
آٹھویں جماعت میں پہلی بار بورڈ کے امتحان آئے تو ہمیں بتایا گیا کہ مڈل سے بڑا امتحان اور کوئی نہیں، اسے اچھے سے بھگتا لیا تو آگے عیش ہی عیش ہیں۔ ہم نے یہ میٹھی گولی خرید لی، مگر عیاشی کا وقت آیا تو آگے میٹرک کا کوہ ہمالیہ سینہ پُھلائے کھڑا تھا۔ وہاں سے جان بچا کر بھاگے تو ایف۔ ایس۔ سی کی دلدل نے ناپ لیا۔ دلدل سے باہر آئے تو سیدھا انٹری ٹیسٹ کی کھائی میں جا گرے۔ کھائی سے نکلے تو آگے ایم۔ بی۔ بی۔ ایس کا بحر الکاہل تھا! میں نے تھکن سے نڈھال ہو کر ایک لمبی ڈبکی لگائی تو سیدھا ایک خونی شارک کے پیٹ میں جا گھسا۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔ لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے!
2۔ دوہری زندگی کا المیہ
یہ سچ ہے کہ میں نے ایک نہیں دو زندگیاں گزاری ہیں، اور ہر زندگی کے دوران مجھے سینکڑوں بار مرنا پڑا۔ دل اور دماغ کسی نقطۂ اتصال پر نہ آ پائیں تو شاید یہی انجام ہوتا ہے۔ دل کہتا ہے کہ اُسی کھلنڈرے بچے کی طرح زندگی گزار دی جائے، عمر میری ہے تو اِسے بسر بھی میں ہی کروں۔ دماغ کہتا ہے کہ زندگی ایک جبرِ مسلسل کی مانند ہے، جہاں قریۂ سنگ ہے اور کانچ کی تصویریں ہیں۔ میں نے ہمیشہ اپنے آپ سے جھوٹ بولا کہ ہم ہر بار ٹوٹ کر پہلے سے بہتر شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جب بھی ہم ٹوٹتے ہیں، ہماری معصومیت، سادگی اور سچائی کے کچھ ٹکڑے ہمیشہ کے لیے فناء ہو جاتے ہیں ؛ ہم پہلے سے کہیں زیادہ گھٹیا اور کمینے ہو جاتے ہیں!
جب ہمارے اندر اچھائی کی آخری رمق بھی دم توڑنے لگے، تو ہمیں اپنی تلاش میں ماضی کا سفر کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنے بدن کی کرچیوں کو اکٹھا کر سکیں اور خود کو یاد دلا پائیں کہ ہم کون تھے اور زندگی نے ہمیں کیا بنا دیا؟ میں نے وقت کی سیما پر الٹی قلابازی کھائی تو سیدھا نشتر کے دالان میں جا گرا! یہی وہ جگہ ہے جہاں میں پہلی بار ٹوٹ کر چکنا چور ہوا تھا اور پھر کبھی نہیں بن پایا تھا! پھر لے آیا دلِ مجبور کیا کیجئے، اُس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
بدن کی راکھ کو ہتھیلیوں پر اکٹھا کرنے کا سمے آ گیا ہے! یک طرفہ عشق کی حدت ہی کچھ اور ہوتی ہے! یہی کالج ہے وہ ہمدم، جہاں ’سلطانہ‘ پڑھتی تھی! پچھلی بار میں یہاں خود آیا تھا، اِس بار مجھے نشتر لٹریری سوسائٹی نے بلایا ہے! تب میں انیس برس کا ایک کھلنڈرا اور پرجوش لڑکا تھا، اب میں اڑتیس سال کا ایک کرم خوردہ اور اداس آدمی ہوں!
کبھی کبھار میں سوچتا ہوں وہ کون لوگ ہیں جو ہماری آنکھوں سے روشنی چُرا کر ہمیں اندر سے کھوکھلا اور خالی کر دیتے ہیں؟ جو ہماری بے ساختہ مسکراہٹ اور خوشیوں کے انمول خزانے پر قابض ہیں، جنہوں نے ہمارے لطیف جذبات کو سونے اور چاندی کے پنجروں میں قید کر رکھا ہے۔ پھر اچانک احساس ہوتا ہے کہ اپنے سب سے بڑے دشمن تو ہم خود تھے، جنہوں نے دل کی سنی، نہ دماغ کی ؛ بس لوگوں کو سنا، اور وہی کیا جو وہ چاہتے تھے! ہم وہ مُورکھ ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھودی، اور خود کو زندہ دفنا دیا!
3۔ نشتر سے مکالمہ
ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی ہے۔ انتیس اگست کی صبح ہے اور جمعرات کا دن۔ ”قرطاس“ کا پنڈال سج چکا ہے۔ عاقب قریشی اور شکیب بھائی یہیں نشتر میں ہیں۔ لیاقت علی، خرم شہزاد اور میڈم عذرا ملتان سے جوائن کریں گے۔ ساحر شفیق دنیا پور سے تشریف لائے ہیں۔ میں ایک رات قبل ہی بہاول پور سے یہاں آ گیا تھا کہ دن کا سفر مجھے نہایت کثیف اور غیر جمالیاتی محسوس ہوتا ہے۔ ملحوظِ خاطر رہے یہ سٹوڈنٹ ویک کا چوتھا روز ہے اور ہم سب اِس کے ابتدائی سیشن میں شرکت کرنے آئے ہیں۔ مجھے یاد ہے آخری بار جب میں نے نشتر میڈیکل کالج کا سٹوڈنٹ ویک اٹینڈ کیا تھا تو میں یہاں کا ایک ایکسپیل شدہ سٹوڈنٹ تھا، جو ہائی کورٹ کے سٹے آرڈر پر کلاسیں لے رہا تھا۔ میں نے ساجد اختر، آصف نور اور شکیل چاچڑ کے ساتھ مل کر ”اصلی پاگل کون ہے“ کا پارٹ ٹو پیش کیا، جسے ڈرامے کی کیٹیگری میں تیسرا انعام ملا!
تب تو اِتنا پتا نہیں چلتا تھا، آج پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اُن دنوں کی نحوست کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔ گھٹن اتنی تھی کہ سانس لینا دوبھر ہو گیا تھا۔ لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ پڑھتے ضرور تھے، مگر اصل میں دو الگ دنیاؤں کے باسی تھے۔ کتابوں میں پھول رکھے جا سکتے تھے، لیکن کوئی خوشبو جیسی بات ممکن نہ تھی۔ ایسے منحوس دن تھے کہ اظہارِ محبت کے لیے بھی سٹیج کا سہارا لینا پڑتا! ہم اداکار نہیں تھے، لیکن ہمیں اداکاری سیکھنی پڑی؛ ہم مکالمے کے لوگ تھے، مگر ہمیں ڈرامہ کرنا پڑا!
”قرطاس“ وہی مکالمہ ہے جو ہم کرنا چاہتے تھے، لیکن کر نہیں پائے۔ سن دو ہزار بائیس میں ”قرطاس“ کی ابتداء ہوئی تو مجھے بھی اِس میں مدعو کیا گیا۔ یہ نشتر کی بہتًر سالہ تاریخ کا پہلا لٹریری فیسٹیول، اور ایک ادھورے خواب کی تعبیر تھا۔ میرا خیال تھا کہ اب سے یہ سالانہ بنیادوں پر منعقد ہوا کرے گا اور ہر بار پہلے سے کچھ مختلف اور نیا کرے گا، لیکن جب دو ہزار تئیس خالی رہا، اور چوبیس بھی آدھا گزر گیا تو کافی مایوسی ہوئی۔ یوں لگا جیسے کوئی نومولود بچہ اپنی دوسری سالگرہ دیکھنے سے پہلے ہی اِس جہانِ رنگ و بو سے کوچ کر گیا ہو۔ اِس دوران کبھی انس فرید، عادل ملانہ یا سعد جہانگیر سے ملاقات ہو جاتی تو اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن چمک اٹھتی، ورنہ اپنے تئیں میں اِس پر قُل پڑھ چکا تھا۔ انس فرید ہی کی زبانی معلوم ہوا کہ ”قرطاس“ کو سٹوڈنٹ ویک میں ضم کیا جا رہا ہے تو ایک کمینی سی خوشی ہوئی کہ اب کی بار لٹریچر کی گھنٹی وہاں بندھ گئی ہے، جہاں سے اِسے اتارنا قریب قریب ناممکن ہو گا۔ بہ قول مصرعہ دہلوی اگر بجانے والا سمجھدار ہو تو تالی ایک ہاتھ سے بھی بج سکتی ہے۔ یہ فرمان بھی غالباً انہی کا ہے کہ اگر سیدھی انگلیوں سے گھی نہ نکلے تو انگلیاں ٹیڑھی کر لینی چاہئیں!
پروگرام شروع ہونے میں ابھی کچھ دیر تھی۔ ہم وارڈ نمبر دس سے ہوتے ہوئے ہاسپٹل برِج پر آ نکلے، جو ایک دور میں کالج کا سب سے مشہور پوائنٹ ہوا کرتا تھا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں بیٹھ کر میں نے اپنی زندگی کی پہلی سگریٹ پی تھی اور خود کو زمانے سے جدا جانا تھا۔ یہیں وہ پریاں اور جنات دکھائی دیے جن کے ہونے سے زندگی طلسمِ ہوش ربا لگتی تھی۔ پھر ایک دن اِس کی دیواروں پر گملے رکھ دیے گئے تو یہاں بیٹھنے کی جگہ نہ رہی۔ اُس سال بہار آئی تو یہاں ہر رنگ کا پھول کِھلا، مگر انہیں سراہنے کے لیے کوئی ایک پرندہ بھی موجود نہ تھا۔ برِج باقی رہا، مگر جن کے دم سے اِس کی رونق تھی، وہ جا چکے تھے!
برِج سے تھوڑا آگے سینٹرل لائبریری ہے، جسے میڈیکل سٹوڈنٹس ریڈنگ روم کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ میں بھی کچھ عرصہ صبح آٹھ بجے سے لے کر رات دس بجے تک اِس کی خاک چھانتا رہا۔ بی۔ ڈی چوراسیہ اور گائٹن کی اوٹ سے دنیا بہت بھلی اور شانت معلوم ہوتی تھی، مگر یہ ایکسپیل ہونے سے ذرا پہلے کا قصہ ہے۔ تب تک ٹرین اِتنی دور جا چکی تھی کہ میں چاہ کر بھی اُسے نہ روک پایا!
ٹھیک اسی لمحے ہم نے لائبریری کراس کی اور فارماکالوجی ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیاں اتر کر کواڈرینگل میں آ گئے۔ کبھی یہ جگہ میرے ست رنگے خوابوں کا مسکن ہوا کرتی تھی۔ ایک ایک کر کے کئی دھندلے منظر آنکھوں کے سامنے لہرائے اور بھاپ بن کر ہوا میں تحلیل ہو گئے! کواڈرینگل کے اوپن ائر سٹیج پر ڈی۔ جے بابو آسن جمائے بیٹھے ہیں، فل والیوم میں ٹیکنو بج رہا ہے، اور ہم سب آگ کے گرد ایک بڑا سا دائرہ بنا کر ناچ رہے ہیں ؛ یہ ہماری زندگی کی پہلی بون فائر ہے! میں را سلک کا کرتا اور ملتانی کھسہ پہن کر چیپسٹر ڈے منانے چلا آیا ہوں، جیسے یہ کوئی فینسی ڈریس شو ہو۔ ایسے لوگوں کو کالج کی ڈکشنری میں سکوٹر کہا جاتا ہے۔ سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے! فن فیئر کا موقع ہے اور وہ نشیلی آنکھوں والی سنگدل حسینہ بلڈ ڈونر سوسائٹی کی لوو جیل میں بند ہے۔ میں شادی سٹال والوں کو منہ مانگی رقم دیتا ہوں اور اسے رہا کروا کر دلہن کی کرسی پر لے آتا ہوں۔ پسِ منظر میں عاطف اسلم کا ایک سریلا گیت بج رہا ہے۔ سٹال والے مجھے گلاب کی ایک کلی مہیا کرتے ہیں۔ میں اسے وہ کلی تھمانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ نفی میں سر ہلا دیتی ہے اور اپنی ہتھیلی کے عقب میں چھپنے کی کوشش کرتی ہے۔ میں اصرار کرتا ہوں تو اس کی آنکھیں اور رخسار بھیگنے لگتے ہیں۔ اچانک میں شرمندگی کی پاتال میں جا گرتا ہوں۔ مجھے اپنے آپ سے گِھن آتی ہے۔ میں بے اختیار نفی میں سر ہلاتا ہوں اور دولہے کی کرسی چھوڑ کر منچلوں کی بھیڑ میں گم ہو جاتا ہوں۔ سبز پری تو اِس کے بعد بھی زندہ رہی، لیکن اُس روز وہ چھلاوہ مر گیا، جو خود کو شہزادہ گلفام سمجھتا تھا!


