سیاسی تماشا


آئینی ترامیم کے نام پر کچھ عرصے سے ملک میں ایک سیاسی تماشا لگا ہوا ہے اور اس تماشے کا کچھ لوگ دفاع بھی کر رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ صحافیوں کے عجیب و غریب تبصرے دیکھنے کو ملے۔ جو صحافی کسی سیاسی جماعت کا حصہ ہیں ان سے غیر جانبدار تبصرہ کرنا ممکن نہیں اور کچھ صحافی ایک مخصوص جماعت سے بے حد نفرت کرتے ہیں، اس لیے ان کے تبصروں میں وہ ہر سیاسی خرابی اسی جماعت پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے وہ نفرت کرتے ہیں۔ میری کوشش یہی رہے گی کہ میں غیر جانبدار رہ کر آئینی ترامیم پر اپنا تجزیہ پیش کر سکوں۔

ان آئینی اصلاحات اور ترامیم کے پیچھے حکومت کی نیت صاف نظر آتی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فل بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں چاہتی، کیونکہ حکومت کسی بھی صورت تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں نہیں دینا چاہتی۔ اس لیے شہباز حکومت کی مجبوری ہے کہ پیپلز پارٹی کا سہارا لے کر ایسی ترامیم کی جائیں تاکہ تحریک انصاف کا راستہ روکا جا سکے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ یہ ایک سنہری موقع ہے کہ کچھ آئینی اصلاحات کر لی جائیں کیونکہ جب مسلم لیگ نون بحران کا شکار ہوتی ہے تو وہ پیپلز پارٹی کے مشوروں پر عمل کرتی ہے۔ اس وقت مسلم لیگ نون ایک سیاسی بحران میں مبتلا ہے اور حکومت بھی نہیں کر پا رہی، اس لیے مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی کی شرائط مان لے گی۔ یہ بالکل وہی صورتحال ہے جو 18 ویں ترمیم کے وقت تھی، جب مسلم لیگ نون کو تیسری بار وزیر اعظم بننے کی پابندی ختم کرانی تھی تو انہوں نے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا اور 18 ویں ترمیم منظور ہوئی۔ اگر مسلم لیگ نون کی یہ مجبوری نہ ہوتی تو وہ کبھی 18 ویں ترمیم کی حمایت نہ کرتی اور این ایف سی ایوارڈ کی شرائط بھی قبول نہ کرتی۔

آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ جب 19 ویں ترمیم آئی تھی تو نواز شریف نے چوہدری افتخار کا ساتھ دیا تھا اور آئین کے آرٹیکل 175 کی ذیلی شقوں میں تبدیلی کر کے سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کو دے دیا گیا تھا، جب کہ پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ چیف جسٹس کی تقرری کا اختیار وزیراعظم یعنی چیف ایگزیکٹو کے پاس ہونا چاہیے اور اس کا ذکر چارٹر آف ڈیموکریسی کی شق نمبر 2 میں بھی موجود ہے جس پر نواز شریف نے دستخط بھی کیے تھے۔ لیکن جب چوہدری افتخار کو پیپلز پارٹی کے خلاف میدان میں اتارا گیا تو نواز شریف اپنے کیے ہوئے وعدے سے پھر گئے جو انہوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی میں کیا تھا۔ اس وقت نواز لیگ اپوزیشن میں تھی، اس لیے اس وقت انہیں سپریم جوڈیشل کونسل بہت اچھی لگ رہی تھی اور وہ پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم کو یہ اختیارات نہیں دینا چاہتے تھے۔ افسوس کی بات ہے کہ اب نواز لیگ حکومت میں ہے اور ان کا موقف بدل گیا ہے، اب وہ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس کی تقرری کے اختیارات وزیراعظم کے پاس ہونے چاہئیں۔ اگر کوئی صحافی اس منافقت کا دفاع کرے تو اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی والے سمجھتے ہیں کہ اگر آئینی ترامیم ہوتی ہیں تو یہ ان کی فتح ہے کیونکہ ان کے موقف کی تائید ہو جائے گی اور نواز لیگ سیاسی طور پر ناکام نظر آئے گی۔ یہ تو حکومت اور پیپلز پارٹی کا موقف ہے، اب آئیں آئینی ترامیم اور ان کے طریقہ کار پر کچھ روشنی ڈالیں۔

جب 18 ویں آئینی ترمیم ہوئی تھی تو اس پر کم از کم ڈیڑھ سال لگا تھا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا تھا، یہاں تک کہ سول سوسائٹی کو بھی 18 ویں ترمیم کے مشوروں میں شامل کیا گیا تھا۔ مگر اس وقت صورتحال بالکل مختلف ہے، حکومت اپنے اتحادیوں کو راضی کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور ترامیم کے ڈرافٹ کو وزیروں اور سینیٹرز سے بھی چھپایا جا رہا ہے۔ روایتی طور پر جب بھی آئینی ترمیم کی جاتی ہے تو اسے پیش کرنے سے پہلے اسمبلی میں بحث کی جاتی ہے اور جب تمام اسمبلی ممبران اس پر اپنی رائے دیتے ہیں تب اس ترمیم کو اسمبلی میں باقاعدہ پیش کر کے پاس کیا جاتا ہے۔ مگر اس وقت کسی بھی روایت کو اہمیت نہیں دی جا رہی اور اسی لیے لوگوں کے شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں۔

اس وقت حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت بھی موجود نہیں ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں 214 حکومتی اور اتحادی ممبرز ہیں جب کہ قومی اسمبلی میں 224 ممبران کی ضرورت ہے۔ سینیٹ میں 64 سینیٹرز کی ضرورت ہے جو مولانا فضل الرحمٰن کی سپورٹ سے پوری ہو سکتی ہے۔ حکومتی مشیر کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے ممبران جن کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، وہ ہوا میں ہیں، اس لیے وہ بھی ووٹ دیں گے۔ اسی ہارس ٹریڈنگ کے لیے حکومت آئین کے آرٹیکل 63 اے میں تبدیلی کر رہی ہے تاکہ دوسری جماعت کے ممبران ووٹ بھی دے سکیں اور نا اہل بھی نہ ہوں۔ یعنی تحریک انصاف کے راستے میں مکمل رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اسے آئینی اصلاحات کا نام دیا جا رہا ہے۔

آئندہ جسٹس منصور علی شاہ ایک ایماندار جج ہیں، لیکن انہیں چیف جسٹس بننے سے روکنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے، اور اس کے لیے آئین کے آرٹیکل 175 میں تبدیلی لائی جا رہی ہے تاکہ حکومت اپنی مرضی کا چیف جسٹس مقرر کر سکے۔ جسٹس منصور علی شاہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کریں گے، اسی لیے حکومت انہیں چیف جسٹس بننے سے روکنا چاہتی ہے تاکہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کر سکیں۔

فیڈرل جوڈیشل کورٹ آف پاکستان، جس کا ذکر چارٹر آف ڈیموکریسی کے آرٹیکل 4 میں کیا گیا ہے، اسے بھی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور اس کا پہلا چیف جسٹس وزیراعظم مقرر کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان سے ”پاکستان“ کا لفظ ہٹا کر صرف ”سپریم کورٹ“ رکھا جائے گا، اور موجودہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اختیارات بھی کم کیے جائیں گے۔ چھوٹے صوبے اس کی حمایت اس لیے کر سکتے ہیں کیونکہ اس میں تمام صوبوں کو برابر نمائندگی دی جائے گی، لیکن جس طریقے سے یہ آئینی ترامیم لائی جا رہی ہیں، اس پر اعتراض کیا جا سکتا ہے۔ ہم سب جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، اور اگر ہم ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں تو ہمیں یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ اس وقت پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ اگرچہ ہمارے ان سے اختلافات بھی ہیں، لیکن جب ملک کی سب سے بڑی جماعت کو اعتماد میں لیے بغیر آئینی ترامیم کی جائیں گی تو اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ جو بھی آئینی ترامیم کی جائیں، ان میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر کی جائیں، تاکہ ملک کے عوام ان کو قبول کر سکیں۔

Facebook Comments HS