تاریخ ِفرعون


اس کتاب کو خواجہ حسن نظامی نے لکھا ہے، اس کی دوبارہ اشاعت 2019 میں ہوئی تھی۔ میں نے ایک کاپی آن لائن حاصل کی ہے۔ ایک بات کی وضاحت کردوں آن لائن کُتب بیچنے والے بھی اپنی دیانت کے حوالے سے اُتنے ہی دیانت دار ہیں جتنا کہ سبزی فروٹ والے، چونکہ آرڈر کرنے والا پاس نہیں ہوتا، اس لیے بوقت پیکنگ گلا سڑا مال پیک کر دیتے ہیں۔ کتاب کے صفحات 248 ہیں۔ یہ کتاب 1941 میں لکھی گئی تھی۔ اِس میں فراعین مصر کے بارے میں بہت جانکاری پائی جاتی ہے۔ پڑھتے ہوئے ایسے لگتا ہے کہ قاری اس دور میں پہنچ گیا ہے یا ایسے کہہ لیں مصر کی سیر کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ کتاب کے لیے مواد قُرآن، تورات اور اس وقت کی مِصری تحریروں سے اکٹھا کیا گیا ہے۔ کتاب کے مطابق مصر پر حکومت کرنے والے خاندانوں کو تیس خاندانوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔

اریٹیریا موجودہ حبشہ سے ایک فاتح گرو آیا جسے ہوارس کہتے ہیں اُس گرو نے مِصر میں پہلی بادشاہی قائم کی۔ پہلے دو خاندانوں کی چار سو برس حکومت رہی۔ فرعونوں کے تیسرے خاندان کے بانی کا نام فاسی فانموئی بتایا گیا ہے۔ ان کے دورِ حکومت میں مصر خوب آباد تھا، خوب ترقی پر تھا، پروی کاغذوں پر لکھنے کا رواج تھا۔ اچھے انتظام کی خاطرمُلک کو ضلعوں میں بانٹ دیا گیا تھا۔ تمام اختیارات کا مالک خود فرعون ہوا کرتا تھا۔

چھٹے خاندان کا آغاز سیتی اول سے شروع ہوتا ہے، یہ فرعونوں کے محلات کا داروغہ بتایا گیا ہے جو کسی نہ کسی طرح فرعون بن گیا۔ کتاب کے مطابق رعمیسس دوم کے زمانے میں حضرت موسیٰ پیدا ہوئے، بنی اسرائیل کی تعداد کو کنٹرول کرنے کے لیے فرعون نے بنی اسرائیل میں نَر پیدائش پر پابندی لگائی ہوئی تھی، اس وقت مصر میں اسرائیلیوں کی تعداد چھ لاکھ بتائی گئی ہے۔

سامریوں کے بارے بتایا گیا ہے کہ اِن سے فرعون کسی وجہ سے ناراض تھا انہوں نے بھی حضرت موسیٰ کے ساتھ نقل مکانی کی، راستے میں انہوں نے بچھڑے کا بُت بنا کر حضرت موسیٰ کی قوم کو اسی کی پوجا پر لگا دیا، اس اختلاف پر وہ حضرت موسیٰ سے الگ ہو کر افغانستان آئے، وہاں انہوں نے ہری موجودہ ہرات نام کا شہر بسایا وہاں سے ہندوستان آ گئے، ہندوستان میں گائے کی تقدیس، منوسمرتی اور عوام کو چار ذاتوں میں تقسیم کی کہانی کو سامریوں سے جوڑا جاتا ہے۔

ہتسی پشت نامی لڑکی (مصر کی نپولین بھی کہا جاتا ہے ) اپنے باپ کی وفات کے بعد فرعون کے منصب پر فائز ہوئی جو کہ اپنے والد کی بہو بھی تھی۔ یہ ملکہ زبردست ملکہ ثابت ہوئی، مُلک میں بہت امن تھا، اس کے دور میں سرحدیں محفوظ تھیں اور کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ فرعون تھمو تھمیس مفتوحہ علاقے کے تمام سرداروں کو حُکم دیتا تھا کہ وہ اپنے بیٹوں کو شاہی کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجیں۔ ہندوستان میں گورے کا حکومتی بندوبست مصر کے مذکورہ بادشاہ سے مِلتا جُلتا تھا۔ امن ہوتب بڑا خون خوار فرعون گِنا گیا ہے، تمام باغیوں کو اس نے کُچل دیا، اس نے سیاسی شادیوں کی رسم ڈالی۔ اخناتون ایک انقلابی فرعون ہوا ہے، اس کے دور میں مصر دُنیا کا سب سے زیادہ مہذب، سب سے زیادہ جنگی، فاتح اور سب سے زیادہ خوش حال مُلک تھا۔ حضرت موسیٰ کا جس فرعون سے واسطہ پڑا اس کا نام منفتاع بتایا گیا ہے۔ رعمیسس سوم ایک زبردست بادشاہ گُزرا ہے، یہ زمینی کے ساتھ سمندری لڑائی کا بھی ماہر تھا، مُلک میں بھر پور امن و امان تھا، خوش حالی تھی، سایہ دار درخت لگوائے، سرائے بنوائیں، عورتوں کو آزادی اور تحفظ تھا، چھاؤنیاں بنوائیں، غیر مُلکی فوجیوں کو شہروں سے دور رکھا جاتا تاکہ مصری نسل میں ملاوٹ نہ ہو، عدالتی نظام موجود تھا، جج کسی کو رعایت نہیں دیتے تھے خواہ کوئی شاہی خاندان سے کیوں نہ ہو۔ رعمیسس سوئم کا بیٹا توہم پرست تھا، جادو ٹونے بُت خانوں اور بُتوں سے بہت ڈرتا تھا، مندروں، مہنتوں کو اس نے بہت نوازا یہاں تک کہ ان میں سے کئی فرعون سے طاقتور ہو گئے۔ شہر تھیبس کے بڑے مندر امن دیوتا کے بڑے مہنت نختو نے اپنی حکومت کی بنیاد رکھ دی۔ مہنت نختو اور اس کے بیٹے نے نو فرعونوں کو دیکھا جن کے دور حکومت میں نختو ہی اصل حاکم تھا۔ فرعون بس نام کے فرعون تھے۔

دوسو باون ق۔ م میں ایران کے آتش پرست شہنشاہ کمبوجیہ نے مصر پر حملہ کیا، اس نے سارا مصر فتح کر لیا، جس طرح سارے بادشاہ ضرورت کے مطابق مذہب تبدیل کرتے ہیں اسی طرح آتش پرست شہنشاہ کمبوجیہ نے مصریوں کا مذہب قبول کیا اور فرعون بن گیا۔ کمبوجیہ کے والد عراق فتح کرنے کے بعد عراقی مذہب میں داخل ہو گیا تھا۔ کمبوجیہ خاندان مصر پر حکومت کرنے والا ستائیسواں خاندان ہے۔

کتاب میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ مصر کے فرعونوں میں ایک خاندان ہیکوس بھی تھا، جو کہ عرب سے مصر آیا تھا، یہ خاندان حضرت اسماعیل کی اولاد سے تھا، مصنف کی تحقیق کے مطابق فرعون حضرت اسماعیل کی اولاد سے اور اس کا وزیر اعظم (یوسف) حضرت اسحاق کی اولاد سے تھا۔ جب حضرت یوسف نے فرعون سے مُلاقات کے لیے اپنے والد کو دربار میں بلایا اور فرعون کے سامنے پیش کیا اور حضرت یعقوب نے فرعون کے حق میں دعائے خیر کی۔

ہند میں مہمان کے پاؤں دھونے کی رسم اور اچھوت کا خیال بھی مصر سے آیا ہے، اُس وقت مصری عبرانیوں کو اچھوت کہتے تھے۔ فرعون اور مہنت جو کچھ کہتے تھے وہی شہریت اور اسی کو حُکمِ خداوندی کہا جاتا تھا۔ اکثر دیوتا کیڑوں مکوڑُوں اور جانوروں کی شکل کے مانے جاتے تھے۔ امن کی صورت مینڈھے کی، سبک کی صورت مگرمچھ کی، را اور بس کی صورت سپاہی کی، بستیت کی صورت بلی کی، انوپیس کی صورت کتے کی، اپیس کی صورت بیل کی، لخوت کی صورت بندر کی، توریس کی صورت سُور کی، ازوریس کی صورت خرگوش کی بناتے تھے۔

مصریوں کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ دیوتا اُن کی طرف سے لڑتے ہیں۔ مصریوں کا خیال تھا کہ انسانوں کی طرح دیوتاؤں کو بھی دھوکا دیا جاسکتا ہے۔ شاہد اسی لیے گناہوں سے گھبراتے نہیں تھے۔ جنگی فتوحات کی وجہ سے امن دیوتا بہت مشہور اور مقبول کر دیا۔ اسی وجہ سے آہستہ آہستہ واحدنیت کی طرف راغب ہو گئے، فرعون اخناتون نے اپنی طاقت کے زور پر لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ صرف ایک خدا کو مانیں۔ مندروں کے ہر حصہ میں ہر بندہ نہیں جاسکتا تھا۔

ممی بنانے کے کئی طریقے تھے ممی کرنے کا سب سے مہنگا طریقہ یہ تھا، نتھنوں کی راہ سے دماغ نکال لیتے تھے، نوکیلے اوزاروں سے لاش کے پہلوں میں سُوراخ کر کے آنتیں کھینچ لیتے، آنتوں کو صاف کر کے کھجور کی تاڑی اور خُوشبووں میں کچھ دن رکھ کر لاش میں لوٹا دیتے، اس کے پیٹ میں ایلونے کا سفوف، دارچینی اور خوشبوئیں بھر کر سوراخ کو سی دیتے، پھر دو مہینے دس دن لاش کو بورہ ارمانی میں رکھ کر غسل دیتے اور عربی گوند میں سوتی کپڑے کی پٹیاں بھگو اور سکھا کر لاش لپیٹ دیتے اور وارثوں کو واپس کر دیتے۔ مصریوں کا خیال تھا کہ دِل جھوٹ نہیں بولتا، اس لیے وہ ڈرتے تھے کہ آخرت میں دِل بول پڑا تو پکڑے جائیں گے اس خوف سے وہ مُردوں کے دِل نکال لیا کرتے تھے اور اس کی جگہ جسم کے اندر کوئی اور چیز بنا کر رکھ دیتے تھے۔

Facebook Comments HS