ہری پور کی مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل


آئین پاکستان کے مطابق ریاست مذہبی اقلیتوں کو ہر طرح کے تحفظ اور ان کے عقائد کے مطابق مکمل مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کی ضمانت دیتی ہے۔ لیکن اس کے بر عکس مذہبی اقلیتیں مختلف شعبوں میں اپنے ساتھ امتیازی سلوک کی شکایات کرتی ہیں، خوش قسمتی سے ہری پور میں مذہبی منافرت کے باعث کوئی ناخوشگوار واقع تو کبھی رپورٹ نہیں ہوا لیکن صوبے یا ملک کے دیگر علاقوں میں پیش آنے والے ایسے افسوسناک واقعات کے باعث یہاں بسنے والی مذہبی اقلیتیں تشویش کا شکار رہتی ہیں۔

ضلع ہری پور میں عیسائیت اور سکھ مذہب کی پیروکار اقلیتی برادریاں آباد ہیں جن کی مجموعی آبادی 1800 ہے۔ کرسچن کمیونیٹی کی تعداد سکھوں سے زیادہ ہے جن کے 25 گھرانے تحصیل ہری پور میں واقع محلہ عید گاہ، کوٹ نجیب اللہ اور حطار میں آباد ہیں۔ تحصیل غازی کے علاقوں تربیلہ، غازی، رائٹ بنک کالونی، صوبڑا سٹی اور واپڈا کالونی میں ساڑھے تین سو گھرانوں کی آبادی ہے۔ تحصیل ہری پور میں ایک جبکہ غازی میں اقلیتی برادری کی تین عبادت گاہیں قائم ہیں۔ جہاں اقلیتیں مکمل مذہبی آزادی کے ساتھ اپنی عبادات کرتی ہیں۔

طویل عرصہ قبل پنجاب کے مختلف اضلاع سے روزگار کے سلسلے میں آ کر آباد ہونے والی مذہبی اقلیتوں کو کچھ مسائل کا بھی سامنا ہے۔ جن میں سر فہرست قبرستان کی اراضی کی کمی اور تعلیمی نصاب میں آبائی مذہب کی تعلیمات شامل نہ ہونا ہے۔ ان مسائل کے متعلق موقف جاننے کے لیے ہری پور اور غازی کی کرسچن کمیونیٹی کی سرکردہ شخصیات سے تفصیلات جاننے کی کوشش کی ہے۔

تحصیل کونسل ہری پور کے اقلیتی ممبر اور سماجی رہنما ڈاکٹر عرفان ناصر نے بتایا کہ ضلع ہری پور میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کو قبرستان اراضی کی کمی کا مسئلہ سنگین ہو رہا ہے۔ جو اراضی قبرستان کے لیے سرکاری طور پر مہیا کی گئی تھی اس میں بہت کم گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحصیل غازی میں 15 مرلے اراضی قبرستان کے لیے مختص تھی جس میں اب صرف 2 مرلے خالی جگہ باقی بچی ہے۔ ریلوے اسٹیشن ہری پور کے قریب 10 مرلے قبرستان کی اراضی تھی جس میں سے آدھی استعمال ہو چکی ہے۔

عرفان ناصر نے کہا کہ آبادی میں اضافے کے پیش نظر قبرستان کے لیے زیادہ اراضی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2013 میں بھی وہ تحصیل کونسل میں اقلیتی نشست پر ممبر تھے۔ اس وقت بھی کونسل میں اراضی کی فراہمی کے لیے بھرپور آواز اٹھائی تھی اور ایک قرار داد بھی پاس کروائی تھی لیکن فی الحال تک اس قرارداد پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ عرفان ناصر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو بھی اس حوالے سے بار رہا رابطہ کیا جا چکا ہے اور سول سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ مختلف تقریبات میں بھی اقلیتی برادری کے اس دیرینہ مسئلے پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

تحصیل کونسل ہری پور کی سابق خاتون ممبر نگینہ بھٹی نے بھی مذہبی اقلیتوں کے لیے قبرستان کی اراضی کی جلد فراہمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ مذہبی اقلیتوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلع ہری پور بہت پر امن، تعلیم یافتہ اور باشعور لوگوں کا شہر ہے۔ یہاں ہمیں ہر طرح کی آزادی اور تحفظ حاصل ہے۔ یہاں کی اقلیتیں مسلم کمیونیٹی کے ساتھ گھل مل کر رہتی ہیں۔

انہوں نے تعلیمی نصاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی اقلیتی برداری سے تعلق رکھنے والے بچے مسلم تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وہاں انھیں مسلمان بچوں کے ساتھ اسلامیات بھی پڑھائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے گھروں یا عبادت گاہوں میں ان بچوں کو اپنا آبائی مذہب سکھاتے ہیں۔ اس طرح بچوں کے ذہنوں میں ابہام پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے جس کی شق 22 کے مطابق کسی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم کسی شخص کو مذہبی تعلیم حاصل کرنے یا کسی مذہبی تقریب میں حصہ لینے یا مذہبی عبادت میں شرکت کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اگر ایسی تعلیم، تقریب یا عبادت کا تعلق اس کے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے ہو۔

نگینہ بھٹی نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں مختلف مذاہب کی تعلیمات کو نصاب میں شامل کیا جائے جو متعلقہ مذہب کے بچوں کو پڑھائی جائیں۔

تحصیل غازی کے رہائشی زرنیل جان نے اور حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کی لیبر کالونی میں رہائش پذیر عامر چاند نے بھی قبرستان کی اراضی اور اسکولوں میں اسلامیات پڑھائے جانے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان دو مسائل کو لے کر ہری پور کی اقلیتی برادری پریشانی میں مبتلا ہے۔ زرنیل جان نے کہا کہ غازی کے قبرستان میں صرف 25 قبروں کی گنجائش باقی رہ گئی ہے اگر جلد از جلد سرکاری طور پر قبرستان کی اراضی الاٹ نہ کی گئی تو تدفین کے لیے سخت مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کے بیشتر افراد کی آمدن بہت قلیل ہے جس میں وہ بمشکل گزر بسر کر پاتے ہیں وہ قبرستان کے لیے اراضی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور غازی جیسے دور افتادہ علاقے سے میت کو تدفین کے لیے ہری پور میں واقع قبرستان لے کر جانا بھی کافی مشکل ہے کیوں کہ سفری اخراجات برداشت کرنا بس سے باہر ہیں۔

تعلیمی نصاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عامر چاند نے کہا کہ وہ بچوں کو اپنے طور پر عیسائیت کی تعلیمات دیتے ہیں جبکہ اسکولوں میں اسلامیات پڑھائی جاتی ہے۔ بچے نا سمجھ ہوتے ہیں۔ ایسے ان سے کسی بھی مقدس مذہب کی بے ادبی سرزد ہونے کا اندیشہ رہتا ہے جس سے مذہبی منافرت پھیلنے کا خطرہ جنم لے سکتا ہے۔ اس وجہ سے وہ اکثر بچوں کو تمام مذاہب

کا احترام سکھانے اور معاشرے کے دیگر افراد سے بھائی چارے کا درس دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ سابق تحصیل ممبر شوکت جلال نے بھی ایسی ہو رائے کا اظہار کیا۔

دوسری جانب حکومتی موقف دیتے ہوئے محکمہ لوکل گورنمنٹ اور دہی ترقی کے ضلعی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جمیل احمد نے بتایا کہ اقلیتی برادری کی قبرستان اراضی کے حصول کے لیے ایک طریقہ کار ہے جس کے تحت تحصیل کونسل سے قرارداد منظور کروائی جائے اس کی روشنی میں تحصیل ناظم ایک کمیٹی بنائیں گے وہ کمیٹی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے فزیبلٹی رپورٹ تیار کرے گی اور ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں محکمہ مال کی مدد سے زمین خرید کر اقلیتی برادری کے لیے وقف کر دی جائے گی لیکن اس وقت فنڈز کی شدید کمی کی وجہ سے زمین کی خریداری مشکل ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ حل طلب ہے۔

اقلیتی برادری کو درپیش اسی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے تحصیل میونسپل افسر کے نمائندہ ابرار احمد علوی نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی کا اقلیتی ممبر یا متعلقہ حلقے سے ممبر صوبائی اسمبلی فنڈ کی منظوری کروائیں تو وہ فنڈ ٹی ایم اے کو موصول ہوتے ہی ٹی ایم اے ضلعی انتظامیہ کی وساطت سے محکمہ مال کے ذریعے زمین خرید کر قبرستان کے لیے وقف کر دے گی۔ اور اس طرح اقلیتی برادری کا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے بچوں کو سکول میں اسلامیات کی تعلیم دینے کے مسئلے پر جب اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر سرفراز خان ترین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے ضلع میں اقلیتوں کی تعداد بہت ہی کم ہے اور ضلع کے چند اسکولوں میں اقلیتی ممبران کے چند بچے پڑھتے ہیں جس کے باعث اس طرف توجہ نہیں دی گئی اب یہ مسئلہ اجاگر ہونے پر ہم صوبائی سیکرٹیریٹ سے پالیسی اور طریقہ کار حاصل کر کے آئین کے مطابق مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے دوسرے اضلاع میں جاری پریکٹس سے بھی رہنمائی لی جائے گی۔ تاکہ اس کی روشنی میں ہم بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوشش کریں۔

ضلع ہری پور کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر مذہبی اقلیتوں کو درپیش متذکرہ بالا ہر دو مسائل کا سامنا ہے جن کے فوری حل کے لیے مقامی و صوبائی حکومت کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔ ضلعی انتظامیہ و تحصیل حکومت قبرستان کی اراضی کا مسئلہ حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ صوبائی وزارت تعلیم نصاب کے معاملے پر اقلیتی برادری کے تحفظات پر توجہ دے اور آئین و قانون کی روشنی میں قابل قبول حل نکالنے کی کوشش کرے تاکہ ضلع ہری پور میں بین المذاہب ہم آہنگی کا قابل تعریف ماحول قائم رہے۔

Facebook Comments HS