لیبر فورس میں عورتوں کی شمولیت: رکاوٹیں


پاکستان کی لیبر فورس میں عورتوں کی شراکت دنیا کے مقابلے میں اور خود اپنے جنوبی ایشیا کے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بھی کم ہے۔ پاکستان کی لیبر فورس میں 2019 میں پندرہ سے 64 سال کی عمر کی عورتوں کا حصہ 22.6 فی صد تھا جو 2023 میں بڑھ کر 23.18 فی صد ہو گیا۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ ٓاخر ہم عورتوں کے لیبر فورس میں شامل ہونے پر زور کیوں دیتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت مرد اور عورت کے درمیان طاقت کا جو توازن ہے، عورتوں کے کام کرنے سے اس میں تبدیلی آئے گی اور معاشرے میں صنفی مساوات پیدا ہو گی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عورتوں کو کام کرنے سے کیا چیز روکتی ہے۔ بلکہ یہ پوچھنا بہتر ہو گا کہ معاشرے کے ٹھیکیدار عورتوں کو کام کرنے سے کیوں روکتے ہیں؟ ظاہر ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے سماجی ضابطے یا رسم و رواج ہیں جو عورتوں اور مردوں کو علیحدہ رکھنے میں یقین رکھتے ہیں۔ اسی لئے پاکستانی عورتوں کو لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے میں مشکل پیش آتی ہے مگر پاکستانی آجر حضرات عورتوں کو ملازمت دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں کیونکہ تجربے نے ان کو سکھایا ہے کہ عورتیں دل لگا اور محنت سے کام کرتی ہیں۔

اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو بانیٔ پاکستان محمد علی جناح تو عورتوں کے حقوق کے سب سے بڑے علم بردار تھے اور قوم کی تشکیل اور پبلک لائف میں عورتوں کی شمولیت کے زبردست حامی تھے۔ حالیہ برسوں میں بھی حکومتیں صنفی مساوات کے لئے مختلف اقدامات کرتی رہی ہیں۔ لیکن بہت سی اسٹرکچرل، سماجی اور ثقافتی رکاوٹیں ابھی بھی عورتوں کی نقل و حرکت کی راہ میں موجود ہیں۔ ہم ایک سخت گیر پدر سری معاشرے میں رہ رہے ہیں۔

ہمارے سماجی رسوم و رواج رجعت پسندانہ ہیں اور صنفی اسٹیریو ٹائپ کی وجہ سے عورتوں کے خلاف امتیاز روا رکھا جاتا ہے اور ان پر تشدد بھی ہوتا ہے۔ اس حوالے سے عالمی اشاریوں اور رپورٹوں میں پاکستان کا نمبر دنیا کے آخری دو تین ممالک میں آتا ہے۔ اگر ہم لیبر فورس میں عورتوں کی شمولیت کی بات کریں تو اس میں مسلسل تھوڑا تھوڑا اضافہ ہو رہا ہے لیکن یہ زیادہ تر غیر رسمی شعبے میں ہو رہا ہے۔ لیبر فورس میں اگر مرد 84 فی صد ہیں تو عورتیں صرف 26 فی صد ہیں۔

پاکستان میں عورتیں سب سے زیادہ زراعت کے شعبے میں کام کرتی ہیں۔ اس کے بعد سروس سیکٹر ( 16 فی صد) اور مینوفیکچرنگ سیکٹر ( 14 فی صد) کا نمبر آتا ہے۔ وہ ساری عورتیں جو دفاتر یا اداروں میں کام کرتی ہیں، ان میں سے 88 فیصد تعلیم و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ سات فی صد صحت کے شعبے میں کام کرتی ہیں اور 2.5 فی صد سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینیئرنگ کے شعبے میں کام کرتی ہیں۔ 95 فیصد عورتیں مارکیٹ سے متعلق ہنر مند زرعی کارکنوں کے طور پر کام کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ 91 فی صد عورتیں فوڈ پراسیسنگ، ووڈ ورکنگ اور گارمنٹس سے متعلق شعبوں میں کام کرتی ہیں۔ (یو این ویمن اور NCSWرپورٹ 2023 ) ۔ پاکستان کی، اس کے سارے شہریوں کی خاص طور پر عورتوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ ریاست ان کے لئے تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرے۔ اگر ہم جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک پر نظر ڈالیں تو 2003 ء سے 2016 ء کے دوران بنگلہ دیش میں عورتوں کی لیبر میں شمولیت کی شرح میں دس سے چھتیس فی صد تک اضافہ ہوا ہے۔

اس کا کریڈٹ ریڈی میڈ گارمنٹس اور لائیو اسٹاک سیکٹر کو جاتا ہے۔ وہاں حکومت کے پنج سالہ منصوبوں میں صنفی مساوات اور علاقائی اور بین الاقوامی تجارت میں عورتوں کی شراکت اور کاروباری تنظیم کاری پر بہت زور دیا گیا۔ یوں عورتوں کے لئے کاروبار شروع کرنے اور ڈیجیٹل اکانومی تک رسائی کے لئے حالات ساز گار ہوئے جب کہ ورلڈ بنک کی 2023 ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لیبر فورس میں عورتوں کی شمولیت کی شرح صرف 23.18 فی صد تھی۔

اگر اس جینڈر گیپ کو 25 فی صد کم کر دیا جائے تو ہماری GDPمیں 9 فی صد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لیبر فورس میں عورتوں کی شراکت بڑھانے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اس کے بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز قائم کرنا ضروری ہے۔ عورتوں کو معلومات فراہم کی جائیں کہ ان کے لئے کام کے کون کون سے مواقع موجود ہیں۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ شوہر حضرات اور سسرال والوں کو سمجھایا جائے کہ وہ عورتوں کو ملازمت سے نہ روکیں۔

ان کے لئے فیملی کونسلنگ سروسز شروع کی جائیں اور سماجی و جذباتی مہارتوں کی تربیت دی جائے۔ سارے شہریوں کو سماجی تحفظ فراہم کیا جائے، سیفٹی نیٹ بنائے جائیں اور پبلک ورکس پروگرامز شروع کیے جائیں۔ ٹیکنیکل ٹریننگ دی جائے اور مختلف مہارتیں سکھائی جائیں۔ دیہی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ گھر سے باہر نکل کر عورت خود کو غیر محفوظ نہ سمجھے، ستمبر کے اوائل میں جیکب آباد میں ایک پولیو ورکر کے ساتھ ڈیوٹی کے دوران ہونے والی جنسی زیادتی نے ایک بار پھر ہمارے سامنے ایک سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اگر پاکستان کو ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنا ہے تو اس طرح کے واقعات کا سد باب انتہائی ضروری ہے۔

Facebook Comments HS