لکسمبرگ کے ارتقاء کی تاریخ

لکسمبرگ مغربی یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ جس کی کل آبادی 653102 نفوس پر مشتمل ہے اور رقبہ 2526 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کے مشرق میں جرمنی جنوب میں فرانس اور مغرب اور شمال دونوں اطراف سے بلجیم نے گھیرا ہوا ہے۔ اس کے دارالحکومت کا نام بھی لکسمبرگ سٹی ہے۔ جو یورپی یونین کے چار دارالحکومتوں میں سے ایک ہے۔ لکسمبرگی یہاں کی سرکاری زبان ہے اس کے علاوہ فرانسیسی اور جرمن بھی سرکاری زبانیں ہی تصور کی جاتی ہیں۔ یہاں کا طرزِ حکومت برطانیہ کی طرح آئینی بادشاہت ہے۔ یعنی آئین پارلیمنٹ الیکشن، کابینہ، وزیراعظم مکمل پارلیمانی نظام ِ حکومت رائج ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں پر ایک گرینڈ ڈیوگ آف لکسمبرگ بھی موجود ہے۔ جو اس ملک کا آئینی سر براہ ہے۔
لکسمبرگ میں انسانی سکونت کی تاریخ 5140 ء قبل مسیح تک محیط ہے۔ لیکن اس وقت کے باشندوں کے متعلق کوئی خاص معلومات موجود نہیں ہیں۔ سب سے پہلے باقاعدہ طور پر اس علاقے کو 450 ء قبل مسیح میں دوبلجی قبائل ٹریویری (Trereri) اور میڈیومیٹریسی (Mediometrici) نے آباد کیا اور یہ دونوں قبائل 53 قبل مسیح تک یہاں مکین رہے۔
مختلف اوقات میں یہ علاقہ مختلف ریاستوں کا حصہ رہا۔ کبھی یہ رومن ایمپائر کا حصہ رہا، کبھی جرمن اور کبھی فرانس کا اور کبھی بلجک بھی اس کے حکمران رہے۔ اس کو پہلی بار آزادانہ حیثیت 963 ء میں ملی جب آرڈی نیز (Ardennes) کے شہزادے سگفرائیڈ نے اپنی بہت بڑی جاگیر کا تبادلہ سینٹ میکسم کی لکسمبرگ کی چھوٹی سی جاگیر کے ساتھ کیا۔ گو کہ شہزادے کی جاگیر کے مقابلے میں یہ ایک بہت ہی چھوٹی سی جاگیر تھی لیکن اپنے محل ِوقوع کی وجہ سے یہ شہزادے کو بہت پسند تھی۔ شہزادے کو اس جاگیر میں دریائے الزٹ کے کنارے پر بنا ہوا ایک رومن قلعہ اور اس قلعے کے اندر تعمیر شدہ ایک خوبصورت محل بہت پسند آیا اور شہزادے کی یہی پسندیدگی اس تبادلے کی بنیادی وجہ تھی۔ اس تبادلے کے نافذ العمل ہونے کے فوراً بعد شہزادے نے اس محل میں رہائش اختیار کر لی۔
شہزادے کے یہاں سکونت پذیر ہونے کی وجہ سے نہ صرف یہ محل او ریہ قلعہ آباد ہو گیا بلکہ اسی وجہ سے قلعے کے باہر بھی کچھ لوگوں نے اپنی رہائش اختیار کر لی جس نے بڑھتے بڑھتے ایک گاؤں کی شکل اختیار کرلی اور یہی گاؤن بڑھتے بڑھتے شہر کی شکل اختیار کر گیا۔ جس کا نام اس قلعے کے نام پر لکسمبرگ رکھا گیا۔
اس شہزادے کے جانشین اپنی اس جاگیر میں مختلف طریقوں سے اضافہ کرتے رہے اسی خاندان کا ایک وارث کونرڈ بہت فعال اور ہر دل عزیز منتظم تھا۔ اس نے پہلی بار اپنے لیے ڈیوک کا خطاب استعمال کیا اور اپنی ریاست کے نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے انقلابی اقدامات اٹھائے۔ اسی نواب کونرڈ کی عظیم پوتی شہزادی اِرم سنڈ ریاست لکسمبرگ کی ایک ہر دل عزیز حکمران تھی۔ اس عظیم شہزادی کا پوتا 1308 ء میں عظیم رومن سلطنت کا بادشاہ بن گیا۔ گویا کہ اب یہ خاندان لکسمبرگ کے علاوہ رومن سلطنت کا حاکم بھی بن گیا لیکن قانون قدرت ہے کہ ہر کمالے راز والے۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس حکمران خاندان میں لاپرواہی، غیر ذمہ داری، تساہل، کمزوری اور کاہلی جیسی منفی عادات پروان چڑھتی گئیں۔ جس کی وجہ سے ریاست پر ان کی گرفت کمزور ہوتی چلی گئی۔ 1443 ء میں یہاں پر اس خاندان کی وارث الزبتھ حکومت کر رہی تھیں جو کہ رومن ایمپائر کے شہنشاہ سگیسمنڈ کی بھتیجی تھیں۔ برگنڈی قبیلے کے سربراہ فلپ سوم نے ریاست لکسمبرگ پر حملہ کر دیا۔ الزبتھ نے اپنی بچی کھچی طاقت کو یک جا کر کے مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان خانہ بدوش سخت جان قبائلیوں کا مقابلہ کرنا اس کے بس سے باہر تھا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ لکسمبرگ پر برگنڈیوں نے قبضہ کر لیا اس طرح سیگفریڈ خاندان کی حکمرانی کا جو سفر 963 ء میں شروع ہوا تھا وہ 1443 ء میں الزبتھ کی شکست پر تمام ہوا۔ لیکن برگنڈی بھی یہاں پر زیادہ دیر تک قابض نہ رہ سکے اور 1477 ء میں ہابس برگ نے برگنڈیوں سے چھین کر اسے اپنے ساتھ ملا لیا۔ لیکن۔ 56 1555 ء میں جب ہابس برگ کے علاقوں کو تقسیم کیا گیا تو لکسمبرگ کا علاقہ سپینی ہابس برگ کے ساتھ ملا دیا گیا۔
لکسمبرگ نے سپین کے بادشاہ فلپ دوئم کے خلاف چلائی جانے والی طویل تحریک میں حصہ لینے سے گریز کیا لیکن جب فرانس 1635 ء میں اس جنگ میں شریک ہوا تو لکسمبرگ بھی زیرِ عتاب آ گیا۔ یہ لکسمبرگ کی تباہی کا دور تھا۔ جنگ، غربت اور وبائی امراض نے اس ریاست کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
1679 ء میں فرانس کے بادشاہ لوئنیس ششم نے لکسمبرگ کے علاقوں کو سپین سے آزاد کروانا شروع کر دیا اور 1697 ء تک لکسمبرگ کے تمام علاقوں کو سپین سے واگزار کروا لیا گیا۔ 14 1713 ء میں لکسمبرگ اور بلجیم کے علاقے آسٹرین ہابس برگ کے پاس چلے گئے۔ لیکن انقلاب فرانس کے چھ سال بعد لکسمبرگ دوبارہ فرانسیسی حکومت کا حصہ بن گیا۔ یہاں کے مقامی لوگ فرانس کے غلبے سے ناخوش تھے لیکن بر بنائے مصلحت خاموش تھے۔
لیکن جب حکومتِ فرانس نے لازمی فوجی سروس کا قانون متعارف کروایا تو یہاں کے باشندوں نے علم بغاوت بلند کر دیا لیکن فرانسیسیوں نے اس بغاوت کو بڑی سختی، بے دردی اور جبر کے ساتھ کچل دیا۔ لیکن جب 1814 ء کو معرف فرانسیسی راہنما نپولین بونا پارٹ کو شکست ہوئی تو لکسمبرگ پر فرانسیسیوں کا تسلط تو ختم ہوا لیکن نپولین کے مخالف اتحادیوں نے لکسمبرگ کو ایک ریاست کا درجہ دے کر نیدرلینڈ کے بادشاہ کی سلطنت کا حصہ بنا دیا۔
1839 ء میں لندن معاہدے کے وقت لکسمبرگ کے دو حصے کر دیے گئے۔ لکسمبرگ کا بڑا حصہ جہاں فرانسیسی زبان بولی جاتی تھی اُسے بلجیم سے ملا دیا گیا اور وہ حصہ جہاں جرمن زبان بولی جاتی تھی اُسے آزاد ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔ جنگ ِ عظیم اول اور جنگ ِ عظیم دوم میں اس ریاست کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا لیکن 1945 ء میں لکسمبرگ یو این او کا بنیادی رُکن بن گیا۔ اس کے بعد 1948 ء میں یہ معاہدہ برسلز میں اور بعد میں نیٹو میں بھی شامل ہو گیا۔
1993 ء میں جب یورپی یونین کا وجود قیام میں آیا تو لکسمبرگ نے اس میں بہت اہم کردار دادا کیا اور اس کے شہریوں جیکس سینٹر اور کلاڈ جنکر نے یورپی یونین کے لیے بڑا فعال کردار ادا کیا۔ 1995 ء میں جیکس سنٹر یورپین کمیشن کا صدر بن گیا۔ 1999 ء میں پارلیمان کے انتخابات ہوئے اور جنکر لکسمبرگ کا وزیرِاعظم منتخب ہو گیا اور 2000 ء میں 79 سال کی عمر میں لکسمبرگ کے ڈیوک جین نے مستعفی ہو کر اپنے ولی عہد اور بیٹے ہنری کو گرینڈ ڈیوک آف لکسمبرگ کے منصب پر سر فراز کر دیا جو آج بھی اسی منصب پر موجود ہے۔ یہ مضبوط معیشت کے ساتھ یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ اس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار سٹیل کی صنعت اور بنکنگ پر ہے۔ حالاں کہ اس ملک کے ساتھ سمندر کہیں سے بھی نہیں ملتا لیکن اس سے اس کی معیشت پر کوئی خاص منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ اس کی فی کس آمدنی 80.288 ڈالر ہے۔
یہ دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ فری ہے۔ یہاں پر بسوں اور ٹرینوں کے کرائے عملاً ختم کر دیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد نہ صرف ملکی سڑکوں اور شاہراہوں پر رش کو کم کرنا ہے بلکہ اس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کو بھی کم کرنا ہے اور اس کے علاوہ لکسمبرگ کے اُن شہریوں کی مالی مدد کرنا بھی مقصود ہے جن کی آمدنی اوسط ً آمدنی سے کم ہے۔ اس امیر یورپی ملک کی سرحدیں جرمنی، بلجیم، اور فرانس سے ملتی ہیں۔ یہ ملک یورپی بنکاری کی صنعت کا بھی ایک بہت بڑا مرکز ہے۔ صرف انہی تینوں ملکوں سے ہر روز دو لاکھ چودہ ہزار کارکن مختلف شعبوں میں کام کرنے کے لیے لکسمبرگ آتے ہیں اور شام کو واپس اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔
لکسمبرگ حکومت ریلوے نٹ ورک کو بھی ماڈرن اور پر آسائش بنانے کے لیے اس پر چار بلین یورو خرچ کرنے جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس عرصے میں ملک بھر میں بسوں کا نظام بھی جدید تر بنایا جائے گا اور اس ملک کی جرمنی، فرانس اور بلجیم کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ایسے پارک اینڈ رائیڈ اسٹیشن بھی بنائے جائیں گے۔ جہاں ان ممالک کے شہری اپنی گاڑیاں پارک کر کے ٹرینوں، ٹراموں اور بسوں کے ذریعے مفت سفر کرتے ہوئے لکسمبرگ میں اپنے اپنے روزگار کی جگہوں تک باآسانی آ جا سکیں گے۔ لکسمبرگ دنیا کا پہلا اور واحد ملک ہے جہاں ملک بھر میں اب ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ پر مفت سفر کیا جاسکتا ہے۔

