برسوں سے اذیت میں ایک وادی
قبائلی ضلع کرم پچھلے 3 دنوں سے ایک بار پھر فرقہ ورانہ جھڑپوں کی زد میں ہے جس میں ابھی تک دونوں فریقین کی طرف سے تقریباً 12 لوگ موت کا نشانہ جبکہ درجن سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ دُنیا میں ہر جگہ پر جنگیں ہوتی رہتی ہیں لیکن وہاں کے لوگ جنگ کے ساتھ ساتھ اُس کے اصولوں کا احترام بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ ضلع کرم کی یہ فرقہ ورانہ جنگیں عام جنگوں سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ یہاں جنگ جب ایک بار چھڑ جاتی ہے تو دونوں فریق کی طرف سے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے بھی ہو مقابل فریق کو زیر کر دیا جائے پھر اس میں نہ مذہبی روایت کا احترام کیا جاتا ہے اور نہ ہی ثقافتی روایت کی۔ ضلع کرم میں فرقہ واریت جنگوں کی یہی تاریخ رہ چکی ہے کہ ان جنگوں میں نہ صرف جوان موت کا نشانہ بنتے ہیں بلکہ عورتوں سمیت معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔
حالیہ جنگوں سے یہاں زندگی کا نظام بالکل مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ یہاں کے بازار پچھلے کئی دنوں سے بند ہیں جن سے منسلک لوگوں کا کاروبار یک دم متاثر ہوا ہے اور یہاں پہلے سے پسماندہ علاقے کے سارے تعلیمی ادارے مکمل طور بند ہیں اور باقی شعبوں کی طرح تعلیمی ادارے بھی منفی طور پر خاطر خواہ متاثر ہو رہے ہیں۔ دونوں فریق کی طرف سے ایک دوسرے پر سڑکیں بند کر دی گئی ہیں جس سے روزمرہ استعمال ہونی والی اشیاء کا بحران پیدا ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔
ضلع کرم میں جاری فرقہ ورانہ جھڑپیں یہاں کے مقامی لوگوں پر نفسیاتی طور پر بھی کافی اثرانداز ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے یہاں صبح اٹھنے کے بعد سب سے پہلا سوال یہی کیا جاتا ہے کہ دونوں فریق کی طرف سے کتنا جانے نقصان ہو چکا ہے؟ یہاں دکانوں سے لے کر ہر جگہ پر ان جھڑپوں کی بحث ہوتی رہتی ہیں۔ جن سے دونوں فریقین کے بچوں کے ذہنوں میں پچپن سے ہی ایک دوسرے کے لیے نفرتیں پیدا ہو رہی ہیں جو آنے والے وقتوں میں علاقے کے امن کے لئے خطرے کی نشاندہی کے مانند ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ضلع کرم کسی ریاستی صوبے کا حصہ ہے بھی یا برمودا ٹرائی اینگل کی طرح ہے جہاں جو بھی چلا جاتا ہے ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتا ہے؟ جی ہاں کرم بالکل ایک صوبہ، جس کا نام پختون خواہ ہے، کا ایک ضلع ہے لیکن اس صوبے کے حکمرانوں نے اپنے آپ کو ضلع اس قدر نالاں اور بے فکر کر رکھا ہیں کہ یہاں کے لوگ مہینوں تو کیا اگر سالوں سے بھی ایک دوسرے سے لڑتے رہے اُن کو کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔ امن برقرار رکھنے کے ذمہ دار لوگوں کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اس خونی کھیل کو بند کرانے میں صحیح معنوں میں اپنا کردار ادا کریں اور عوام کے ذہنوں میں ان کے کردار پر پیدا ہونے والے شکوک کو دور کرے ورنہ حکومت اتنی کمزور نہیں ہوتی کہ وہ دو فریقوں کے مابین اس جنگ کو ختم نہ کرسکے۔


