پاکستانی سیاست، عوامی شعور اور مسائل


پاکستان میں آج کل عوامی مسائل ایک ایسے تالاب کی طرح ہو چکے ہیں، جس میں پانی تو ہے، لیکن تازہ ہوا اور روشنی نہیں۔ ہمارا سیاسی اور معاشی نظام اس قدر محدود اور الجھا ہوا ہے کہ عوام کے حقوق، فرائض، اور مسائل کو گہرائی سے سمجھنے کا وقت کسی کے پاس نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ عوام بھی اسی اسی خوش فہمی میں مبتلا ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔

آئین پاکستان کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو برابر کے حقوق فراہم کرتا ہے، جس میں تعلیم، روزگار، اور زندگی کی بہتر سہولیات شامل ہیں۔ لیکن یہ حقوق کتابوں میں زیادہ اور عملی زندگی میں کم دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستانی عوام کو نہ تو اپنے حقوق کا پورا شعور دیا گیا اور نہ ہی وہ طاقتور طبقوں کے شکنجے سے باہر نکل پائے ہیں۔ اگر ہم آئین پاکستان کے آرٹیکل 140۔ اے پر غور کریں، تو اس میں صاف لکھا ہے کہ ”لوکل گورنمنٹ سسٹم“ کو نافذ کیا جائے گا تاکہ عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے، پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم کو بار بار روکا جاتا رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عوام کے چھوٹے مسائل جیسے کہ سیوریج، پانی، سڑکیں، اور دیگر بنیادی سہولیات آج بھی معلق ہیں۔

”لوکل گورنمنٹ کی عدم موجودگی“

لوکل گورنمنٹ کا نظام عوام کو اپنے مقامی مسائل حل کرنے کا موقع دیتا ہے، لیکن جب یہ نظام موجود نہ ہو یا معطل کر دیا جائے، تو عوام کو حکومت کے مرکزی اداروں کا سہارا لینا پڑتا ہے، جو کہ اکثر دور دراز علاقوں کی چھوٹی چھوٹی مشکلات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، صاف پانی، سڑکیں، صفائی اور سیوریج کا مسئلہ ایک اہم شہری مسئلے ہیں، لیکن اس کے حل کے لیے حکومت کی جانب سے مناسب توجہ نہیں دی جاتی۔ یہی حال مین سڑکوں، پانی کی فراہمی، اور بجلی کے مسائل کا ہے۔

ایک صاحب نے بڑے مزاحیہ انداز میں کہا تھا، ”ہمارے گاؤں میں سڑکیں اس قدر خراب ہیں کہ اگر آپ گاڑی میں بیٹھ کر چلیں، تو آپ کی ہڈیاں بھی کسی دن ہار مان جائیں گی“ یہ بات کسی حد تک مزاحیہ لگ سکتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی ہے۔ مقامی مسائل اور عوام کی بے بسی جب عوام کو سیوریج، سڑکوں، یا پانی جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہوتا ہے، تو وہ کس سے رجوع کریں؟ مرکزی حکومت اکثر ایسے مسائل کو حل کرنے کے بجائے بڑے بڑے منصوبوں اور میٹرو جیسے پراجیکٹس پر توجہ دیتی ہے، جن کا مقامی لوگوں کی زندگی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

ایک جانب عوام کو چھوٹے مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے، اور دوسری جانب انہیں ایسے خواب دکھائے جاتے ہیں جو عملی طور پر ممکن نہیں۔ یہاں پر ہمارے سیاستدان عوام کے مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑے بڑے بیانات دیتے ہیں۔ جیسے انڈیا کی اسمبلی میں آج کل ایک بات بہت گردش کر رہی ہے کہ ایک پارٹی کا نیتا کسی جگہ پر گیا اور عوام کو بولا کہ میں یہاں پر ہی تمہارے دو مسئلے حل کرو گا بتاؤ دو مسئلے جو تمہارے لیے بہت اہم ہیں لوگوں نے بتایا کہ جناب ہمارے پاس پینے کا صاف پانی نہیں نیتا جی نے فون نکالا اور کسی سے بات کی اور کہا کہ فوری یہاں پر صاف پانی کا انتظام کرو اور پھر پوچھا عوام سے کہ بتاؤ تمہارا دوسرا مسئلہ کیا ہے عوام نے بتایا کہ جناب یہاں پر فون سروس بالکل بھی نہیں چلتی ہمارے ٹاور نہیں لگے ہیں اب نیتا جی شرم کے ساتھ چپ چاپ واپس چلے گئے کیونکہ وہاں پر فون کے سگنل تک ہی نہیں آتے تھے تو پھر نیتا جی نے کیسے بات کی فون پر اور کیسے کسی کو حکم دیا کہ صاف پانی کا انتظام کرو پاکستان میں بے روزگاری بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر ہر بار سننے کو ملتا ہے کہ اس دفعہ اتنی نوکریاں دی جائیں گی اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی مستقل حکمت عملی نہیں بنائی جاتی۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 38 میں حکومت کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ عوام کو روزگار فراہم کرے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی لاکھوں نوجوان بے روزگار ہیں۔ ایک نوجوان نے کہا، ”بھائی، ہم نے ڈگریاں تو لے لیں، مگر نوکریاں تو بندر بانٹ میں جا رہی ہیں“ یہ حقیقت ہے کہ نوکریوں کی تقسیم میں شفافیت کی کمی ہے، اور اداروں میں میرٹ کے بجائے سفارش اور تعلقات کو ترجیح دی جاتی ہے۔

”معاشی نظام اور طاقتور طبقے“

پاکستان کا معاشی نظام چند بڑے خاندانوں اور طبقوں کے زیر تسلط ہے، جو کہ عوامی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی دولت اور اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ آئین پاکستان کے مطابق ہر شہری کو برابر مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں، لیکن حقیقت میں یہ مواقع چند لوگوں کے ہاتھ میں مرکوز ہو چکے ہیں۔ ملکی سیاست اور معاشی نظام میں یہی خاندان بار بار اقتدار میں آتے ہیں اور عوام کو ہمیشہ نئے وعدوں اور خوابوں میں الجھا دیتے ہیں۔ یہاں پر ایک اور مزاحیہ واقعہ یاد آتا ہے ”سیاستدانوں نے عوام سے کہا کہ ہم تمہیں ایسا پاکستان دیں گے جس میں دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی، اور عوام نے کہا بھائی، پہلے ہمیں پانی تو دو۔

”عوامی شعور کی کمی“

آج کی گلوبل دنیا میں ہر ملک اپنی عوام کو تعلیم اور شعور کے ذریعے مضبوط کر رہا ہے، لیکن پاکستان میں عوام کو شعور دینے کے بجائے انہیں مسائل میں الجھا دیا جاتا ہے۔ عوام کو بار بار یہ باور کروایا جاتا ہے کہ ان کے مسائل کا حل سیاستدانوں کے پاس ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تک عوام خود اپنے حقوق کے لیے نہیں اٹھیں گے، کوئی تبدیلی نہیں آئے گی پھر چاہے اپ کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہی کیوں نہ ہو۔

” حقوق کا تحفظ“

آئین پاکستان کا آرٹیکل 19۔ اے عوام کو معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔ اس حق کا مطلب یہ ہے کہ عوام کو حکومت کے ہر فیصلے اور پالیسی کی تفصیلات معلوم ہونی چاہئیں، لیکن بدقسمتی سے، عوام کو اس حق کا ادراک ہی نہیں۔ جب عوام کو یہ معلوم ہو گا کہ ان کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے اور ان کے حقوق کیا ہیں، تب ہی وہ اپنے مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے پر آج عوام کو اپنے حقوق سے زیادہ اپنے پیٹ کی ہے غربت بے روزگاری اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال ایک ایسا گورکھ دھندا بن چکی ہے کہ ایک عام آدمی کی سوچ اور سمجھ سے بالاتر ہے لیکن اس گورکھ دھندا کو سلجھانے کے لیے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ شعور کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے عوام کو اپنے حقوق اور فرائض کا ادراک ہونا چاہیے، اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں لوکل گورنمنٹ کے نظام کے ذریعے اپنے مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے کے لیے مضبوط ہونا چاہیے۔

جب تک عوام اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ ان کے مسائل کا حل ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ صرف چند خاندانوں کے شکنجے سے باہر نکلا ہے، تب تک پاکستان کے سیاسی اور معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ صرف ٹوپی والے بندر کے چکر میں نہ آئیں، بلکہ خود اپنی طاقت اور حقوق کو سمجھیں اور ان کے لیے آواز اٹھائیں اور خاص طور پر اپنی نوجوان نسل کو تعلیم کی طرف مائل کریں کیونکہ تعلیم ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے تعلیم کے بغیر انسان کی حیثیت ایک مفلوج انسان سی کی طرح نظر آتی ہے یاد رکھیں اگر اپ کے پاس تعلیم نہیں تو کم سے کم ایسا ہنر ہونا چاہیے جس سے دوسرے نوجوانوں کا فائدہ ہو سکے اور وہ بھی اپ کے ساتھ مل کر ملک اور قوم کی ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کر سکیں۔

Facebook Comments HS