ایک لمحہ فکریہ


ہم عموماً اپنی زندگیوں میں اتنے محو ہوتے ہیں کہ کبھی ان لوگوں کے بارے میں سوچتے ہی نہیں کہ جن کی وجہ سے ہم کسی قابل ہوئے اور دنیا کی بہترین مصروفیات ہمیں مل سکیں۔ ہم ان کی تنہائیوں میں ہمیشہ اضافے کا باعث ہی بنتے ہیں۔ میں یہاں ذکر کر رہی ہوں میرے اور آپ کے بزرگوں کا ، بزرگ تو جیسے ہماری زندگیوں میں اب کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتے۔

کچھ عرصہ سے یہ کو شش رہی ہے کہ اپنے وقت میں سے کچھ وقت اولڈ ایج ہومز میں ان لوگوں سے مل کہ گزاروں جن کہ پاس بہت وقت ہے اور صرف تنہائی ہے۔ اسی سلسلے میں اس ہفتے ایک اولڈ ایج ہوم ”سہارا“ کا دورہ کیا اس بار یہ عجب بات دیکھی جو کہ اس سے پہلے خال خال ہی نظر آئی کہ پہلے معاشرتی رویوں میں صرف بزرگوں ہی سے ناروا سلوک عام طور پر نظر آیا کرتا تھا اب کہ ”سہارا“ میں نوجوان اور ادھیڑ عمر کہ بھی بہت سے لوگ نظر آئے۔

ایک موقع پر تو جیسے بے یقینی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی جب ہم نے دیکھا کہ دو کمسن بچیاں بھی اس ”سہارا“ کا حصہ ہیں کہ جن کی عمر گھر میںکھیلنے، پڑھنے اور والدین سے ناز اٹھوانے کی ہے۔ وہ اس کمسنی میں بے گھر ہونے کا عذاب جھیل رہی تھیں اور ان کو یہاں تک لانے والے بھی ان کے اپنے ہی تھے۔ کسی کہ چچا، کسی کہ ماموں، کسی کی بہن، کسی کہ بھائی نے انھیں بوجھ محسوس کرتے ہوئے یہاں تک پہنچا دیا اور ان معصوموں کی جائیداد کو بھی اپنا حق سمجھتے ہوئے قبضے میں کر لیا لیکن ان معصوموں پر رحم نہ آیا۔

اس بار وہاں موجود لوگوں سے نہ صرف بات چیت کی بلکہ ان کے مسائل اور خواہشات پہ بھی بات کرنے کی کوشش کی، بہت معصوم سی خواہشات محسوس ہوئیں۔ زیادہ تر لوگ اپنی گزشتہ زندگیوں میں گم نظر آئے اور یہی خواہش لیے ہوئے تھے کہ کسی طرح اپنے گھر، بچوں کے ساتھ رہیں۔ان کی یہ خواہش ہر سطح پر ہر پہلو سے جائز اور قابلِ عمل ہے۔ اگر ہم سمجھیں اور مل کر کرنا چا ہیں تو ۔

ہم ہر معاملے میں اسلام اور اس کی تعلیمات کا ذکر کرتے نہیں تھکتے لیکن جہاں بات والدین کے حقوق کی آ جائے وہاں صرفِ نظر کر جاتے ہیں۔ یہی ہماری کوتاہی ہے اس پہ اپنے بزرگوں کے اپنے رویوں پہ نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ احسان مندی کا تقاضا بھی ہے کہ جب ہم کسی قابل نہ تھے تو انھوں نے اپنا آرام اپنا چین سب کچھ ہم پہ قربان کر دیا۔ آج ہم اپنا کچھ وقت، کچھ پیسہ اور کچھ توجہ ان پر دے سکتے ہیں جن کا وہ ہم سے زیادہ تقاضا بھی نہیں کرتے۔

اس سلسلے میں میں اس ادارے کی انتظامیہ اور اہلکاروں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کہ وہ اس ا اجتماعی ذمہ داری کو انفرادی ذمہ داری سمجھ کہ اٹھا رہے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ اپنا دل ان سب کے لئے اور بڑا کریں کہ جو کام وہ کر رہے ہیں اس کا اجر انھیں دنیا کا کوئی ایوارڈ اور انعام کی صورت میں ان کو نہیں مل سکتا بلکہ ان کے لئے اجر عظیم اللہ سبحان و تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے جو کہ روزِ قیامت ضرور ملے گا انشا اللہ۔

Facebook Comments HS