آدم اور گربہ: افسانہ


کاغذوں کے پلندے اسود ہوچکے تھے اور مصنف تھکان کے باوجود توقف پر راضی نہیں تھا چونکہ تسلسل نہ رہتا تو آمد رک جانے کا یقین تھا۔ کہانی روانی سے چل رہی تھی۔

” چائے لاؤ۔“ تیز آواز قلم کے سفر کی طرح تھی۔

” قہوہ دستیاب ہے فی الوقت۔ آج پھر بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا ہے۔ فریج کے دروازے کا ربڑ ڈھیلا ہے۔ واردات مکرر ہو چکی ہے۔“ لکھاری کی زوجہ بھی کم اہل زباں نہیں تھی۔

” اوہو یہ گربہ بھی زمانہ ساز ہے۔ بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوتی ہے۔“ مصنف نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔

” کیا ہی خوب ہوتا کہ آپ فلسفہ بگھارنے کے بجائے فریج کا دروازہ مرمت کرا لیتے تاکہ بلی صاحبہ بآسانی حلیبِ تازہ سے فیض یاب نہ ہو پاتی۔“

” بخوبی علم رکھتی ہو کہ اس دماغی کام کے دوران میں چائے کتنی اشد ضروری ہے۔ ابھی صد شکر ادا کرو کہ سگریٹ کا شوق نہیں رکھتے وگرنہ جتنے تفکراتِ عالم ہیں گھر بھر کو دھواں دھواں کر دیتے۔“ بند آنکھوں سے کہا گیا جملہ۔

” اچھا ٹھیک ہے ابھی کچھ کیے دیتی ہوں لیکن آئندہ یا فریج کا کچھ کیجیے یا جانور کا۔“
” بہت اچھا۔ ہم اس گربہ جی کو اتنے فاصلے پر چھوڑ کر آویں گے کہ واپسی کی راہ نہ پاوے گی۔“

مصنف موصوف اپنے ایک دوست کی اس کوٹھی میں ہمراہِ زوجہ بنا کسی کرایہ کے گزشتہ ایک سال سے مقیم تھے۔ دوست کا کہنا تھا کہ وہ کم سے کم دس برس بیرون ملک قیام کرے گا اور اس عرصے میں مصنف اسے اپنی ہی جگہ سمجھے۔ لکھت سے جو کمائی ہوتی اس سے گزر بسر ہو جاتی تھی۔ گھر سے زیادہ مصنف کو عالمی معاملات سے دل چسپی تھی۔

” اب اس گھر میں یا ہم رہیں گے یا بلی۔“ بڑے ہی پیار سے پچکار کر گربہ محترمہ کو ایک جالی دار بورے میں ڈال لیا گیا۔ بلی کے کلبلانے پر مصنف نے اسے تسلی دی کہ وہ اسے کسی بہتر جگہ پر ہی چھوڑیں گے جہاں اسے خورد و نوش کے مسائل کا سامنا نہ ہو۔

مہم کامیابی سے طے پا گئی لیکن اس وقت، وقت کا شدید زیاں محسوس کیا گیا جب محترمہ دو روز بعد گھر لوٹ آئیں۔

” اس سے بہتر تھا کہ فریج درست کراتے تاکہ اس کا دروازہ محض بلی کے پنجے سے نہ کھل پاتا۔ اب دیکھیے نتیجہ بی بی صاحبہ پھر آ گئی ہیں۔“ زوجہ نے احتجاج کیا۔

سوچوں میں گم مصنف نے ہوں ہاں کی۔ شاید بات سن ہی نہیں پائے۔
” اگلی بار مثبت نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔“ فالتو تسلی دی گئی۔

بارہا گربہ کی گھر میں مداخلتِ بے جا اور متعدد بار گوشت اور دودھ سے بد تمیزی پر سے گھر میں کشیدگی کا ماحول رہا۔ زوجہ نے حتمی طور پر ارشاد فرما دیا ”جو شخص ایک خراب چیز درست نہیں کروا سکتا وہ سارے معاشرے کو راہِ راست پر لانے کی تراکیب سوچتا ہے۔“

” میں بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ گربہ کی موجودگی باعث تشویش ہے سو اس بار اسے گھر سے نکال کر رہوں گا۔“
ایک بار چائے سے گربہ کی مونچھ کا بال برآمد ہوا تو مصنف نے بال نکال کر چسکیاں لیں۔

” میری زلف کا بال سالن سے نکل آئے تو آپ کھانے سے ہی انکاری ہو جاتے ہیں اور اس محترمہ کے موئے مبارک آپ کو ناگوار نہیں گزرے۔“ حاسدانہ لہجے میں کہا گیا۔

” دیکھو تم سے محبت اور ازدواجی رشتہ اپنی جگہ لیکن زلف پہ کلام کیا جا سکتا ہے اسے طعام نہیں کیا جاسکتا۔ واہ وا کیا عمدہ قول مجھ سے سرزد ہوا۔“ لکھاری اپنی ہی بات پر جھوم اٹھا۔

چند ایام بعد بالآخر گربہ کی رخصتی ایک بند بورے میں کی گئی۔ اس بار موٹر بائک پر چالیس کوس کا فیصلہ طے کر کے ایک راہ گیر کے ذمے لگایا گیا کہ وہ مصنف کے جانے کے نصف گھنٹے بعد موصوفہ کو آزاد کردے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلے کرسکے۔

ایسا ہی ہوا اور اب سب کچھ ٹھیک ہوا۔ مہینہ بھر ہونے کو آیا بلی جی واپس نہیں آئیں۔

ایک روز مصنف کے دوست مالک مکان کا فون آیا جسے سنتے ہی مصنف کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ زوجہ بھانپ گئی ”اے ہے کیا ہو گیا جی؟“

” یہ کوٹھی میرے دوست نے فروخت کردی ہے اسی ماہ ہمیں کہیں اور جانا ہو گا۔“ عالمی سوچ محدود ہو چکی تھی۔

” لیکن کیوں جی۔ اس نے تو کہا تھا کہ اسے دس برس اس کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔“ صدا نحیف ہو گئی۔

” بالکل کہا تو یہی تھا لیکن اس کا کہنا ہے کہ اسے نہ صرف کاروبار میں سخت نقصان ہوا بلکہ جسمانی عوارض پر بھی بہت سرمایہ لگ گیا۔ اب وہ پاکستان واپس آ رہا ہے تاکہ اپنی جائیداد بیچ ڈالے۔ اس کوٹھی کا بیعانہ وہ لے چکا ہے۔“ مصنف کی اپنی کہانی میں اچانک نیا موڑ آ گیا تھا۔

سامان اٹھانے اور کرائے کے مکان میں جانے کا مرحلہ طے ہو رہا تھا۔ مسودات اور کتب ردی کی طرح اٹھائے جا رہے تھے۔ اسی وقت بچھڑی ہوئی گربہ جی کود کر آ نکلی اور ایک کھڑکی سے جھانک کر بولی ”میاؤں۔“

Facebook Comments HS