لڑکپن کا خواب اور توہینِ رسالت کا تنازع


لڑکپن میں میرا ایک خواب تھا۔ وہ یہ کہ کسی دن کوئی شخص توہینِ رسالت کا ارتکاب کرے اور میں اسے چھریاں مار مار کر قتل کر دوں۔ یقین کیجیے یہ صرف مجھ اکیلے دیوانے کا خواب نہیں تھا۔ صرف ایک علاقے اور شہر کا بھی نہیں، ایک نسل کا بھی نہیں، یہ نسلوں کا خواب تھا اور ہے، اور نہ جانے کب تک دِکھتا رہے گا۔ جذباتیت کو ہمارے اندر باقاعدہ سیاہی کی طرح بھرا گیا ہے، اور پھر جب عقل و خرد سے بے نیاز یہ قلم چلتا ہے تو خون آشام داستانیں رقم کرتا چلا جاتا ہے۔ ہمارے گھروں میں غازیوں کی کہانیاں باقاعدہ عقیدت کے ساتھ سنائی جاتی رہیں اور منبروں سے فلک بوس نعرے عرصے تک گونجتے رہے۔ اب جب اس عقیدت نے آنکھوں میں اندھیرا بھر دیا ہے اور وہ گونج کانوں کو سُن کرنے لگی ہے تو کوئی راستہ سجھائی نہیں دیا اور ایک سیکولر ملک میں پناہ لینا مجبوری بن گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ توہینِ رسالت کی باؤنڈری کیا ہے؟ کیا ایک ایسا ملک جہاں شریعت کے ایک حکم پر اختلاف کو بنیاد بنا کر اپنا فرقہ، پہچان اور اٹھنا بیٹھنا الگ کر دیا جائے، اور مخالف پر تکفیر و زندقت کے زہریلے نشتر برسائے جائیں، تو وہاں ان حدود کا تعین ہو سکتا ہے؟ اگر میں وہابی ہوں تو بریلوی کے نزدیک گستاخ، اگر بریلوی ہوں تو دیوبندی کے نزدیک، مماتی ہوں تو حیاتی کے نزدیک، شیعہ ہوں تو سنی کے نزدیک۔ میرا تعلق کسی بھی مسلک اور فرقے سے ہو، گستاخ تو بہرحال مانا ہی جاتا ہوں۔ اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ ہر انسان خطا کا پتلا ہے، نیز ہر شخص کا نقطۂ فکر، اظہارِ عقیدت کا طریقہ، اور شخصیت پرستی کی حدیں الگ الگ ہیں اور یہی تخلیقِ خالق کا کمال ہے۔ سب انسانوں کو ایک ہی طرح سوچنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ہیں کہ بولنے والے کا ہر لفظ اپنے دماغ میں رکھے ناقص ترازو میں تولنا چاہتے ہیں اگرچہ وہ سنار کے ترازو سے بھی چھوٹا کیوں نہ ہو۔

پھر ہم مقدس اور روشن ترین کتاب، علوم و معارف پر مشتمل احادیث کے خزینے اور فلسفے و حکمت پر مشتمل بے بہا تصانیف ہونے کے باوجود (اگرچہ وہ مصنفین بھی زندیق اور نامراد ہی کہلائے ) اقوامِ عالم سے جو پیچھے رہ گئے ہیں، اس کی ایک بہت بڑی وجہ شارٹ کٹ کی تلاش ہے۔ سوال یہ ہے کہ میں لڑکپن میں علم دین اور عامر چیمہ بننے کے خواب تو دیکھتا تھا، لیکن ابو الکلام اور علامہ اقبال بننے کے کیوں نہیں؟ میں ابن رشد اور ابن تیمیہ کیوں نہیں بننا چاہتا تھا؟ میرے لیے آئن اسٹائن اور سر آئزک نیوٹن کیوں مثال نہیں تھے؟ جواب بہت آسان ہے۔ ان سب تک پہنچنے کے لیے ایک بہت بڑی محنت درکار ہے، جب کہ دوسری طرف بندوق کی دو گولیوں اور چاقو کے چار واروں سے کام بن رہا ہے۔ غازیوں کو ہیرو تو بنایا ہی گیا، لیکن اس ہیرو ازم میں ایسا افراط پھونک دیا گیا کہ اب ہر کوئی وہی بننا چاہتا ہے اور اس کے لیے ملنے والا کوئی بھی ”گولڈن چانس“ ضائع نہیں کرنا چاہتا۔

ہمارے مکرم فیس بکی رفیق ابو الحسین آزاد کے بقول حل یہی ہے کہ جس طرح سر تن سے جدا والے نعروں پر طویل محنت ہوتی رہی ہے اسی طرح اب جیو اور جینے دو والا نظریہ سکھانے کی ضرورت ہے۔ جہاں جہاں پر ماضی میں خون آشام جذباتیت کا امتحان لیا گیا تھا وہاں وہاں سے اب دلیل اور منطق کا شعور بیان ہونا چاہیے۔ قانون کا احترام، حسن ظن اور خطاکار کی مقدور بھر اصلاح اور تربیت والا مزاج بنانا اب ذمہ داری بن گیا ہے۔ جب معمولی سے فیصلے بھی ہم جذبات سے متاثر ہو کر کرنے کو تیار نہیں تو ان ہی جذبات سے مغلوب ہو کر کسی انسان کی جان لینا کتنا خطیر عمل ہے۔

معاشی صورتِ حال نے ویسے بھی ہمارے تازہ اور جوان جوانوں کو غریب الوطن کر دیا ہے۔ اگر ذہنی صورتِ حال بھی یہی رہی اور ہم نے اندھی عقیدت کی کالی پٹی اتار کر فکری، علمی اور منطقی روشنی کا خیر مقدم نہیں کیا تو یقین کیجیے! ذرا دور، ذرا سے فاصلے پر مؤرخ کا سفاک قلم ہماری عبرت ناک داستان لکھنے کو تیار بیٹھا ہے۔

Facebook Comments HS

سیف الرحمن ادیب

میرا نام سیف الرحمن ہے۔ سیف الرحمن ادیؔب کے قلمی نام سے لکھتا ہوں۔ 2000 ء میں کراچی میں پیدائش ہوئی، آبائی تعلق جنوبی پنجاب کی تحصیل کہروڑپکا سے ہے۔ تحریری میدان میں اب تک کوئی خاص کارنامہ انجام تو نہیں دیا لیکن بہرحال لکھنے کا بہت شوق ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک شارٹ اسٹوریز لکھتا رہا ہوں۔ سو الفاظ کی کہانیوں کا ایک مجموعہ ”تصویر“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ جامعہ فاروقیہ کراچی فیز 2 سے 2021 ء میں فراغت حاصل کی ہے۔ آج کل ضلع خانیوال کے ایک نواحی گاؤں میں امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔

saif-ur-rahman-adeeb has 2 posts and counting.See all posts by saif-ur-rahman-adeeb

2 thoughts on “لڑکپن کا خواب اور توہینِ رسالت کا تنازع

  • 04/10/2024 at 9:14 شام
    Permalink

    اللّٰہ تعالیٰ آپ کو ھدایت دے

  • 05/10/2024 at 4:41 شام
    Permalink

    ماشاءاللہ تبارک الرحمن احسن اللہ الیک یا اخی الغالی ۔

Comments are closed.