بلوچستان کی روح
(جاوید اقبال اعوان سنہ 2005 ء سے 2007 ء تک بلوچستان میں سکریٹری زراعت کے منصب پر فائز رہے۔ سنہ 2008ء میں انھوں نے بلوچستان یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر محمود علی شاہ کی آپ بیتی کا یہ دیباچہ تحریر کیا تھا۔ اس دیباچے کو نذیر ناجی مرحوم نے روزنامہ ”جنگ“ میں اپنے کالم ’سویرے سویرے‘ میں دو قسطوں (6۔7 اگست 2009ء) میں ”بلوچستان کی روح“ کے عنوان سے شائع کیا تھا۔ عمیق مطالعے اور گہرے مشاہدے پر مبنی یہ فکر انگیز تحریر ہم سب کے قارئین کی ضیافت طبع کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔)
*** ***
بلوچستان میں میرا قیام ڈھائی سال کے لگ بھگ رہا۔ فرائض منصبی کی نوعیت ایسی تھی کہ خاص و عام سے ملنے اور دور دراز کے علاقوں کو چھاننے کے بہت مواقع ملے۔ اس وسیع و عریض صوبے کے اندر کئی خطے ہیں جہاں زندگی مختلف سطحوں پر سانس لے رہی ہے۔ سماجیات، معاشیات اور معاشرت میں فرق نظر آتا ہے جس کی واضح بنیاد تعلیمی اور معاشی مواقع اور رسل و رسائل کے ذرائع کا فرق ہے۔ دشوار گزاری نے مقامیت کو جنم دیا ہے۔ جن علاقوں تک نارسائی زیادہ ہے وہاں مقامیت کی عصبیت بھی زیادہ اور غربت اور محکومی کی گرفت بھی سخت ہے۔ جہاں آمد و رفت آسان ہو گئی ہے کشادگی اور فراوانی اپنے جلو میں لے آئی ہے۔
اس خطے کو شاید طائرانہ نظر سے دیکھا جا سکتا ہو لیکن وہاں کے باسیوں کو سرسری نظر سے پرکھنا فاش غلطی ہوگی۔ بلوچ ایک خود مگن، خود دار اور خود پسند انسان ہے جو اپنے بھیتر کو کئی تہوں میں چھپائے رکھتا ہے اور کسی کو اندر جھانکنے کا ادھیکار نہیں دیتا۔ ہاں جو اس کا اعتماد حاصل کر لے، اس کا من جیت لے اس کے لیے کھلی کتاب بن جاتا ہے۔
بلوچ کو سمجھنے کے لیے اس کی انا کو جاننا اور اس کو تسلیم کرنا لازم ہے۔ اس کی انا اس کے استغنا سے پھوٹتی ہے جو ماحول کا جبر اس پر مسلط کرتا ہے۔ بلوچ کو قلیل ترین ضروریات کے ساتھ زیست کرنے کا فن آتا ہے اور یہی اس کی انانیت کو پروان چڑھاتا ہے۔ بلاشبہ یہ انا بعض اوقات ناروا بھی ہو جاتی ہے خصوصاً جب وہ الوہی بلندیوں پر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن یاد رہے کہ اس کی فاقہ مستی کی ہیئت جانے بغیر، اس کی انا کا احترام کیے بغیر بات آگے نہیں چل سکتی۔ قناعت بلوچ کی سب سے بڑی دولت اور طاقت ہے۔ اس کی انا اور قناعت کا آپس میں بے حد گہرا تعلق ہے تاہم گزرتے وقت کے ساتھ اس کی قناعت میں لچک بلکہ کچھ مواقع پر دراڑ پڑتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر سیاسی حلقوں میں اور پھر مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جب انا کی اخلاقی بنیاد ٹل جانے کے باوجود اس پر اصرار باقی رہتا بلکہ بڑھتا جاتا ہے۔
بلوچستان کے لوگوں کو جاننا ہو تو وہاں کے موسموں کو غور سے دیکھا جائے۔ ملک بھر میں سب سے خشک، سخت آب و ہوا اور کم رنگ ماحول وہاں کا ہے لیکن پاکستان کا سب سے رسیلا پھل وہاں پیدا ہوتا ہے۔ کچھ یہی احوال وہاں کے باسیوں کا ہے جو ان کے مزاج کی درشتی اور ظاہری ہیئت و حلیہ پر گیا وہ ان کی شخصیت کے میٹھے رس سے محروم رہ گیا جو ان کی وسیع القلبی، انتہائی مہمان نوازی اور سدا بہار خلوص میں پنہاں ہے۔ بلوچ شخصیت مردانہ وار جینے کا نام ہے جس میں ذاتی وقار، قبائلی عصبیت اور بدلے کے لیے سب کچھ داؤ پر لگایا جا سکتا ہے۔ اس طرز زیست کے بعض پہلو جہاں انتہائی قابل قدر ہیں وہاں ان کی مبالغہ آمیز شکلیں سخت ترین مصائب کو جنم دیتی اور زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیتی ہیں۔
بلوچستان میں اس وقت سنگین انتظامی خلفشار ہے۔ طاقت کے مراکز کئی ہیں لیکن ٹھوس فیصلہ سازی کہیں نہیں ہوتی۔ ہر کوئی دوسرے کی طرف دیکھتا ہے اور عوام سب کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ انتظامی مسئلہ کو سیاسی رنگ دے دیتے ہیں اور کچھ قبائلی۔ قبائلی رنگ دینا شاید اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ سردار کی کمزور پڑتی گرفت کو سہارا دیا جائے۔ درحقیقت سردار اپنی اخلاقی اصل کھو چکے ہیں۔ اصل سردار تب ہوتا تھا جب سنڈیمن نظام ابھی نہیں آیا تھا۔ سردار کا ایک طرح انتخاب ہوتا تھا اور قبیلے کی نادر روزگار شخصیت کے سر پر تاج سجتا تھا۔ سردار کی جگہ خالی ہونے پر قبیلے میں پھر چھان پھٹک ہوتی تھی اور اہل ترین شخص جو دلیری، جوانمردی، انصاف اور دیگر اوصاف حمیدہ میں یکتا ہو قبیلہ اس کی سرداری قبول کرتا تھا اور اجتماعی ذمے داریوں سے عہدہ برا ہونے کے لیے سردار کی مالی معاونت بھی کرتا تھا۔ جائیداد قبیلے کی ہوتی تھی اور سانجھ کے اصول پر حصہ داریاں ملتی تھیں۔ لیکن پھر انگریز سنڈیمن نے سرداری کو موروثی شکل دے دی اور نسل در نسل تسلط نے جائیداد کو بھی اجتماعی سے ذاتی بنا دیا۔ قبیلہ کے اندر بھی برابری کی جگہ آقائیت نے لے لی۔ سردار اور قبائلی کے درمیان بڑھتی ہوئی معاشرتی اور معاشی خلیج اب کسی کے پاٹنے سے نہیں پٹ سکتی۔ اگر چہ سردار کو نئے ضلعی نظام سے وقتی سنبھالا ملا ہے کہ قبائلی سیاسی اور انتظامی اختیارات نے یکجا ہو کر اس کے تن و توش میں اضافہ کر دیا ہے لیکن سردار کے ادارے کو اندر سے گھن لگ چکا ہے کیونکہ قبائلیت کا جوہر، جو اجتماعیت اور اشتراک پر بنی تھا، رخصت ہو رہا ہے۔
عام آدمی اس موڑ پر بہت اکیلا ہو گیا ہے۔ ریاست اس تک پہنچتی نہیں، سردار اس کو پوچھتا نہیں، ریاست میں اس کی مرضی کو عام طور پر ادھر ادھر دھکیل دیا جاتا ہے۔ وہ حیران بھی ہے اور پریشان بھی۔ جدید زندگی سے رفتہ رفتہ پیدا ہونے والی شناسائی اور آگاہی نے اس کے اندر تبدیلی کی خواہش کو جنم دیا ہے۔ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، خوشحال ہونا چاہتا ہے، امن اور تہذیب میں جینا چاہتا ہے لیکن حکومتیں اور محکمے جو نا اہلی اور لالچ سے لبریز ہیں اس کو رسائی نہیں دیتے۔ اس کا مقامی نظام اور آقا اس کی راہ روکتے ہیں۔ وہ غربت اور منفی قدامت کی دلدل سے باہر نکلنا چاہتا ہے لیکن اس کو اپنا حق یا تو سب کچھ بیچ کر خریدنا پڑتا ہے یا اپنی عزت نفس گروی رکھ کر مستقل باج گزار بننا پڑتا ہے یا پھر تنگ آ کر چھیننا پڑتا ہے۔
بلوچستان میں بہت سے لوگ اب تہہ در تہہ نظام سے تنگ ہو رہے ہیں۔ یہ نظام چاہے قبائلیت، علاقائیت یا پھر ملک کے نام پر ان پر تھوپا جائے وہ ہر اس نظام سے باغی ہو رہے ہیں جو ان کو آبرو مندانہ زندگی کی ضمانت نہیں دیتا۔ یہ وقت دراصل ریاست کے آگے بڑھنے کا تھا، تنہائی کو دور کرنے، زخمی دلوں پر مرہم رکھنے کا تھا۔ یہ انتظام کرنے کا تھا کہ ریاست کے پروگرام، منصوبے اور وسائل حقدار تک پہنچ جائیں لیکن ریاست کو تو سیاسی جعل سازوں کی ناز برداریوں اور ترقیاتی کاموں کی ٹھیکے داریوں سے ہی فرصت نہیں۔
جو ترقیاتی عمل لوگوں کے مطالبات و ضروریات کے مطابق ہے، عام آدمی کے قریب ہے اور جہاں مشاورت ہے اس کی بے حد پذیرائی ہے۔ بڑے منصوبے البتہ بد گمانیوں کا شکار ہیں اور کئی سیاسی رہنما اس کو انگریز راج کی پالیسی کا تسلسل سمجھتے ہیں جس کے مطابق خطہ میں ذرائع رسل و رسائل کو فروغ اس لیے دیا جاتا تھا کہ منڈی کی معیشت کو سستا خام مال مل سکے۔ بلوچ کی ترقی کو بڑھتے ہوئے عمل اور اس سے پیدا ہونے والے دخل سے متعلق منفی تاثر کو دور کرنا ضروری ہے۔ بلوچستان کے خزینے اور دفینے ہر ایک کو مالا مال کر سکتے ہیں لیکن جس نے صدیوں اس کی حفاظت کی ہے اس کا فائق حق تسلیم کیا جانا ضروری ہے۔ محض سرمایہ کاری سے تمام حقوق حاصل نہیں ہو سکتے۔ پرکھوں سے چلی آئی مایا کے بر آنے پر بھرنے والا پہلا دامن مراد اس کے جغرافیائی وارثوں کا ہونا چاہیے۔
مرکز بار بار بھولتا ہے کہ پاکستان، بلوچستان کی شکل میں دنیا بھر کی نظروں کا مرکز اور سرگرمیوں کا محور ہے۔ بلوچستان قومی اسمبلی اور سینٹ کی 25 / 20 سیٹوں کا نام نہیں ملک کی بقا و فنا کا معاملہ ہے۔ یہ ملک کا تاج ہے جو اسے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا سے سر بلند ہو کر ملواتا ہے، جو اس وقت پوری دنیا کی معاشی اور فوجی سرگرمیوں کا مرکزی نقطہ ہیں۔ دنیا کے بڑے کھلاڑیوں اور ابھرتے ستاروں کو یہاں پاؤں جمانے کی ضرورت درپیش ہے۔ کچھ ریاستی انتظام کے اندر سے راستہ نکالنا چاہتے ہیں، کچھ اپنا آزاد بندوبست چاہتے ہیں اور زیادہ سمجھدار دونوں طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ مرکز کو دیوار پر لگے نقشوں اور ایوانوں میں سجی دستاروں سے ہٹ کر ان عوام پر توجہ دینا ہوگی جن کی تعداد اب ایک کروڑ کے لگ بھگ ہو چکی ہے جو اچھی زندگی کا حق مانگتے اور ملکی نظام میں حقیقی شمولیت کا ڈھنگ ڈھونڈتے ہیں۔ اس طلب اور تلاش کا جواب بارود میں نہیں، انصاف اور قانون میں ہے، نمائندہ سیاست اور ملکی و صوبائی اور مقامی سطح پر وسائل کی منصفانہ تقسیم میں ہے اور بہتر انتظامی بندوبست میں ہے۔
سرداری نظام میں شکست و ریخت کو قبائلی نظام کا انہدام سمجھنا غلط ہو گا۔ یہ معاشرت اب بھی عام آدمی کو فوری انصاف اور تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔ اس کو عجلت میں بے حس پولیس اور بے روح عدالت سے بدلنا عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔
بلوچ معاشرہ تمام تر توڑ پھوڑ کے باوجود ایک توانا معاشرہ ہے جو اپنی تہذیبی روایات، جن کے ڈانڈے خطہ عرب سے جا ملتے ہیں، کی بدولت ملک کی دیگر قومیتوں کی معاشرت سے منفرد اور ممتاز ہے۔ اس کی تہذیب کی تفہیم اور تطابق سے ملک کی مجموعی معاشرت پر بے حد خوشگوار اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً عورت اور اقلیت کے حقوق و احترام کے حوالے سے۔ تاہم اس تہذیب کے چند پہلوؤں کو نئی تدوین کی ضرورت بھی ہے، خاص طور پر منفی قدامت کو۔
یہ وقت بلوچ کے بھی سوچنے کا ہے۔ اسے دیکھنا ہو گا کہ مقامی قومیتوں کی باہم بد گمانیوں کا ابھار، اہل افراد کا اخراج، محنت طلب کاموں سے احتراز، تعلیم میں سست کوشی پر اصرار، مصنوعی سیاسی قیادت کا نفرت پر انحصار، تاریخ اور عصر کی طاقت سے انکار اور منفی قدامت پر اعتماد کہیں اس کی ترقی کا سفر کھوٹا تو نہیں کر رہے، اس کا مستقل مفاد کہاں ہے، کون اس کی دوستی، وفا اور اعتماد کا زیادہ اہل ہے اور کیا وقتی بدگمانیوں کی دھندلاہٹ اور گدلاہٹ سے پار دیکھنا اس کے اپنے مفاد میں نہیں؟ یہاں کے پہاڑ اور چٹانیں مستقبل میں اس کی ترقی کے سفر کا تمام زاد راہ اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہیں۔ عالمی منڈی کی معیشت میں ان کا مقامی تصرف میں رہ جانا اب ممکنات میں سے نہیں۔ مقامی، ملکی یا بین الاقوامی کوئی نہ کوئی فرہاد تو اب یہاں سے نہر نکالنے کو ہے۔ کیا اس کے راستے میں مصنوعی دیوار کھڑی کی جا سکتی ہے یا زیادہ مناسب یہ ہو گا کہ بہاؤ کا رخ اپنی طرف کر لیا جائے لیکن اس کے لیے انہیں زیادہ خطرہ ان بھاری بھرکم چٹانوں سے ہے جو انسانوں نے ان کے راستے میں کھڑی کر دی ہیں جو کھوکھلی تو ہو رہی ہیں لیکن راستے سے ہٹنے کو تیار نہیں۔
جناب محمود علی شاہ نے اپنی حیات پرکار کے احوال کے ذریعے سے بلوچ معاشرت کے عیاں اور نہاں کو خوبصورتی سے قلم بند کیا ہے۔ ان کے سفر حیات میں قاری شکر کے کئی مقام پائے گا، خاص طور پر یہ جان کر کہ صرف ایک دو نسل پہلے کی کڑی صعوبت کی زندگی سے گزر کر اب بلوچستان میں ترقی کا سفر کتنا فاصلہ طے کر چکا ہے۔ تاہم ایسے مقام بھی آئیں گے جہاں شدت سے احساس ہو گا کہ ترقی مصنوعی رہی یا آہستہ رو۔
محمود علی شاہ کی اس بلوچستان بیتی کا ماحصل یہ ہے کہ بلوچستان کی اہمیت کو ریاست اس کے جغرافیائی تناظر میں دیکھے نہ کہ عددی تناظر میں جبکہ بیرون کے دوست و دشمن اس کو اس کے اصل تناظر میں دیکھ رہے اور اس کے مطابق پیش قدمی کر رہے ہیں۔ اور یہ کہ نا انصافی، تفریق، تہدید اور حق تلفی پر مبنی مقامی سیاسی اور انتظامی نظام سے نالاں اور بیزار لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو صرف معیاری تعلیم کے بہترین مواقع کے ذریعے سے اچھی زندگی گزارنے کی امید دی جا سکتی ہے بلکہ انتظام کیا جاسکتا ہے۔ ریاستی، صوبائی اور مقامی انتظامیہ کی پالیسیاں اگر بر وقت نہ بدلی گئیں اور معیاری تعلیم اور مساوی مواقع کا بر وقت بندوبست نہ کیا گیا تو ایک نسل بعد آنے والے بھونچال کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
محمود علی شاہ کی اس بلوچستان بیتی کا ماحصل ہے کہ ریاست، بلوچستان کی اہمیت کو اس کے جغرافیائی تناظر میں دیکھے نہ کہ عددی تناظر میں جبکہ بیرون کے دوست و دشمن اس کو اس کے اصل تناظر میں دیکھ رہے اور اس کے مطابق پیش قدمی کر رہے ہیں۔ اور یہ کہ نا انصافی تفریق، تہدید اور حق تلفی پر مبنی سیاسی اور انتظامی نظام سے نالاں اور بیزار لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو صرف معیاری تعلیم کے بہترین مواقع کے ذریعے سے اچھی زندگی گزارنے کی امید دی جا سکتی ہے بلکہ انتظام کیا جاسکتا ہے۔ ریاستی، صوبائی اور مقامی انتظامیہ کی پالیسیاں اگر بر وقت نہ بدلی گئیں اور معیاری تعلیم اور مساوی مواقع کا بروقت بندوبست نہ کیا گیا تو ایک نسل بعد آنے والے بھونچال کو کوئی نہیں روک سکے گا۔


