پھر سیٹی بجے گی اب کھیل جمے گا


کرکٹ کو پاکستان کا قومی کھیل نہ ہونے کے باوجود ملک میں سب سے زیادہ کھیلا اور پسند کیا جاتا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ہر عمر کا شخص چاہے اس کا تعلق معاشرے کے کسی بھی طبقے یا صنف سے ہو اس کھیل کو دیوانہ وار چاہتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کھیل کسی بھی بڑے مقابلے میں پوری قوم کو ایک مضبوط لڑی میں پرو دیتا ہے جب اپنے اپنے مذہبی، سماجی اور سیاسی مسلکوں میں بٹی ہوئی قوم اپنی ٹیم کی کامیابی کے لیے بدست دعا ہو جاتی ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں کرکٹ کا کھیل متعارف کرانے کا سہرہ انگریز حکمرانوں کو جاتا ہے جنہوں نے عام ہندوستانی کو اس کھیل کی طرف راغب کیا۔ کرکٹ کے میدانوں میں متحدہ ہندوستان کی ٹیم نے شروع سے ہی شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور اس کھیل کو نواب افتخار علی خان پٹودی، عبدالحفیظ کاردار، لالہ امرناتھ، وجے ہزارے، سی کے نائیڈو اور گل محمد جیسے عظیم کھلاڑی فراہم کیے۔

قیام پاکستان کے بعد عبدالحفیظ کاردار کی قیادت میں پاکستان کی نوزائیدہ کرکٹ ٹیم نے اپنے مشہور تیز گیند باز فضل محمود کی شاندار کارکردگی کی بنا پر 1952 میں لکھنؤ ٹیسٹ اور 1954 میں اوول کے میدان میں، ہندوستان اور انگلینڈ کی ٹیموں کو شکست دے کر دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچا دیا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان ایک بڑی طاقت بننے جا رہا ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کا نقطہ عروج 1992 میں آسٹریلیا میں منعقدہ ایک روزہ عالمی کپ میں دیکھنے آیا جب عظیم کرکٹر عمران خان نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت کا بیڑا اٹھایا۔ ایک بار پھر عمران خان کی زبردست کپتانی اور ان کی زیر قیادت ٹیم کی بھرپور کارکردگی کی بدولت پاکستان نے انگلینڈ کی مضبوط ٹیم کو فائنل میں شکست دے کر پہلی بار کرکٹ کا عالمی کپ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس شاندار فتح کی بدولت پاکستان میں کرکٹ کو بہت بڑی عوامی پذیرائی اور فروغ حاصل ہوا۔ بدقسمتی سے بعد ازاں پاکستانی کرکٹ بورڈ میں بڑھتے ہوئے حکومتی اثر و رسوخ اور میرٹ کی عدم موجودگی نے پاکستانی ٹیم کی کامیابیوں کا سورج بڑی حد تک گہنا دیا۔

پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں 2016 ایک بڑا سال تھا جب ملک میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا آغاز ہوا۔ قارئین کرام پی ایس ایل کے دوسرے سیزن جو کہ 2017 میں کھیلا گیا پاکستان کرکٹ بورڈ نے مشہور گلوکار علی ظفر کی آواز میں پی ایس ایل کی تاریخ کے مقبول ترین نغمے کا اجرا کیا

پھر سیٹی بجے گی
سٹیج سجے گا
اور تالی بجے گی
اب کھیل جمے گا

لیکن کون جانتا تھا کہ کھیل کے میدان میں بجنے والا یہ نغمہ ایک دن موجودہ حکمرانوں، ان کے حکومتی ساتھیوں، اہم ریاستی اداروں اور سب سے بڑھ کر اعلیٰ عدلیہ کو اس قدر پسند آئے گا کہ وہ اسے اپنا سرکاری نغمہ قرار دے دیں گے۔

صاحب مضمون اوپر بیان کردہ پس منظر کے تناظر میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے دیے گئے تین اکتوبر کے فیصلے کی طرف بڑھنا چاہتا ہے جس کے تحت ملک کے سب سے بڑے منصف نے اپنے دائیں بائیں بیٹھے چار متنازعہ ججوں کی حمایت سے صدر زرداری کی جانب سے جاری کردہ ایک بے موقع حکم نامے کی بدولت آئین کی شق 63 اے  کی تشریح کرتے ہوئے لوٹا کریسی اور مالی منفعت کے لیے فلور کراسنگ کرنے کے قابل مذمت فعل کو عملی طور پر قانونی قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ موصوف اس سے پہلے پی ٹی آئی کے انتخابی نشان بلے کی ضبطگی اور مخصوص نشستوں کے اجرا کے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کی بدولت اس زیر عتاب جماعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے ہیں۔

مسلم لیگ نون اس کے حکومتی اتحادیوں اور پشت پناہی کرنے والے تمام ریاستی اداروں نے اس فیصلے کو ایمپائر کی جانب سے بجائی گئی اس سیٹی کی طرح لیا ہے جس کے بعد ان سب کو اپنی مرضی کا سٹیج سجانے، تالی بجانے اور لوٹا کریسی کے ذریعے ایک ایسا یک طرفہ میچ کھیلنے کی اجازت مل گئی ہے جس کے تحت وہ آئین میں من چاہی ترامیم کرنے کی اپنی مذموم خواہش کو پورا کر سکتے ہیں۔

اغلب امکان ہے کہ عدالت عظمی کی جانب سے بجائی جانے والی سیٹی کی بدولت ملک میں جاری سیاسی بحران اب ایک منظم رقص ابلیس میں تبدیل ہو جائے گا جہاں ہر ذی ہوش یہ کہنے پر مجبور ہو گا:

اسی کائنات میں اے جگر کوئی انقلاب اٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے

یاد رہے کہ پاکستان کے موجودہ منصف اعلیٰ ہمیشہ سے آئین کے ٹیکسٹ اور آئینی اداروں کی سربلندی کے حامی رہے ہیں۔ لیکن زیر بحث فیصلہ دیتے ہوئے وہ اس بات کو مکمل فراموش کر بیٹھے کہ وہ اس سے پہلے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کے سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے سے محض اس لیے انکار کر چکے ہیں کہ یہ بات آئین میں کسی جگہ درج نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ جسٹس جمال مندوخیل کے دیے ہوئے فیصلے جس کے تحت مخصوص نشستیں پارلیمنٹ میں موجود دوسری جماعتوں کو دی گئیں تھیں سے مکمل اتفاق کر چکے ہیں حالانکہ یہ بات بھی آئین کی کسی شق میں درج نہیں تھی۔ مزید براں اپنے موجودہ فیصلے میں جس کے تحت منحرف رکن کا ووٹ گنا جائے گا وہ ایک دفعہ پھر یہ بات بھول بیٹھے کہ آئین اس بارے میں بھی مکمل خاموش ہے۔

قارئین کرام یہ بات ہر ذی شعور شہری بخوبی جانتا ہے کہ کسی بھی آئینی شق کی وضاحت کرنے سے پہلے متعلقہ منصف کو آئین کی مجموعی روح اور اس کو بنانے والوں کی منشا کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن 63۔ A کی تشریح کرنے والے منصفوں نے اس اہم نقطے کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے خود کو محض اس شق کے ٹیکسٹ تک محدود کر دیا جو بادی النظر میں سراسر نا انصافی اور عدالتی قتل کے مترادف ہے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ 1973 کے آئین سازوں نے تو تمام تر صدق دل کے ساتھ 63۔ A کی شق محض اس لیے لکھی اور منظور کی تھی کہ وہ اس کے ذریعے فلور کراسنگ کے گھناونے عمل کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے تھے لیکن وہ تمام آئین ساز اپنی مجموعی حکمت کے باوجود اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھے کہ آنے والے دنوں میں ریاستی جبر، ذاتی منفعت اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے ذریعے فلور کراسنگ کو قانونی قرار دے دیا جائے گا۔

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے دیے گئے حالیہ فیصلے کی روشنی میں مجوزہ آئینی ترامیم اب چند دنوں کی بات ہے جس کے لیے حکومت نے اطلاعات کے مطابق متعدد پی ٹی آئی ممبران کو زور زبردستی اور کثیر رقوم دے کر اپنے ساتھ شامل کر لیا ہے۔ ان ترامیم کی منظوری کے بعد موجودہ چیف جسٹس تین سال کے لیے مجوزہ آئینی عدالت کے سربراہ مقرر کر دیے جائیں گے اور موجودہ سپریم کورٹ کو بھی ان کے ماتحت کر دیا جائے گا۔ اسی آئینی عدالت کے ذریعے پی ٹی آئی جیسی بڑی اور مقبول جماعت کو ملک دشمن سرگرمیوں کے الزام میں پابندی کے فیصلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد ملک کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو بذریعہ فوجی عدالت ملک دشمن اور غدار قرار دیتے ہوئے سخت ترین سزا کا مستحق قرار دیا جائے گا۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر اور ان کے ساتھی اراکان انتخابات کے چوری کرنے اور اپنی تمام تر آئینی اور قانونی چیرہ دستیوں کے باوجود ایک بار پھر مزید پانچ سال کے لیے ملک پر مسلط کر دیے جائیں گے۔ مرے کو مارے شاہ مدار کے عین مصداق اہم ریاستی اداروں کے سربراہ بھی اپنی مدت ملازمت میں من چاہا اضافہ حاصل کرنے کے حقدار ہوں گے۔

قارئین کرام اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں ملک میں جاری سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور اس سے عوام الناس اور اہم ریاستی اداروں میں پہلے سے موجود دوری اور بداعتمادی کی خلیج مزید گہری ہو سکتی ہے جو کہ ملک کی وحدت اور بین الصوبائی یکجہتی کے لیے کسی سم قاتل سے کم نہ ہوگی۔ لیکن اس اہم بات سے قطع نظر موجودہ غیر قانونی اور غیر نمایندہ حکومت اور ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے اہم ریاستی ادارے اگرچہ نیرو کی طرح بانسری تو نہیں بجا رہے لیکن بلند آواز سے اس نغمے کی گردان کرنے میں عملی طور پر مصروف نظر آرہے ہیں :

پھر سیٹی بجے گی
سٹیج سجے گا
اور تالی بجے گی
اب کھیل جمے گا

Facebook Comments HS