پارٹ۔1 :کیلاش وادی کا حُسن اور کُچھ حسین یادیں


رات کے تقریباً دس بج رہے تھے اور مُجھے میرے ایک جرمن دوست کی کال آئی کہ ہم نے کل کیلاش جانا ہے کیلاشیوں کا چلم جوشی تہوار دیکھنے تو تم ساری بکنگ اور انتظامات کرو، ”ویڑے آئی جنج تے وینو کُڑی دے کن“ کے مصداق وطنِ عزیز کے لوگوں کا یہ رویہ کہ آخری وقت پہ ساری منصوبہ بندی تو اکثر دوستوں سے سُننے اور دیکھنے کو ملتی ہے لیکن ایک جرمن گورا یہ بات کہہ رہا ہے پھر یاد آیا گورا ٹائم کا بھی پابند ہے اگر اُس نے کل کا کہا ہے تو اس کا مطلب کل ہی ہے تو میں نے فوراً پہلو میں رکھا اپنا فون اٹھایا اور ساری بکنگ انجام دیں۔

اگلے دِن شام کو میں اور میری ایک دوست ڈاکٹر جو کہ اسلام آباد کی ہی ایک یونیورسٹی میں لیکچرر ہیں اور جرمن دوست ہم اسلام آباد کے سیکٹر جی۔ 9 کراچی کمپنی کے بس اڈے پر پہنچ گئے ہم نے اپنا سامان بس میں رکھا اور اندر سے ساری بس کا جائزہ لینے لگے کیوں کہ ابھی تک کوئی مسافر نہیں پہنچا تھا اور ہم نے اپنے گورے جرمن کی وجہ سے پابندی کی اور وہ تو شُکر ہے اُس دن کِسی سیاسی یا مذہبی جماعت نے اسلام آباد بند نہیں کیا اور آج قسمت ہمارے ساتھ تھی وگرنہ اِس یاد گار سفر کا یہیں اختتام ہو جاتا۔

کُچھ ہی دیر میں بس کے سبھی مسافر آ چکے تھے اور تقریباً سبھی وادیِ کیلاش ہی جا رہے تھے اور کچھ وہاں کے لوکل بھی تھے جو پورے راستے میں اپنا کلچر اور تاریخ ہم سے بیان کرتے رہے اور یوں اِن کے ساتھ سفر بہت مزے کا گزرا۔

ڈاکٹر صاحبہ نے خاتون ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کھڑکی والی سیٹ پہ قبضہ جما لیا اور ساتھ والی سیٹوں پہ ہم بیٹھ گئے ڈاکٹر صاحبہ کی اِس جنسی عدم مساوات پر جرمن تھوڑا حیران ہوا۔ Relax and savor the experience میں نے اس کو آنکھ مارتے ہوئے کہا۔

رات کے آٹھ کا وقت تھا اور بس اسلام آباد کی چکا چاند روشنیوں سے گزرتی ہوئی موٹروے پر آ چُکی تھی، ہلکی ہلکی موسیقی اور لوگوں کی آپسی گپ شپ سنائی دے رہی تھی اور ہم بات کر رہے تھے سوئٹزرلینڈ کی پہاڑی گرینڈل کی جہاں پہاڑی کے اوپر تک ٹرین جاتی ہے اور آپ کو وہاں سے پورا گرینڈل ورلڈ نظر آ رہا ہوتا ہے، کیا ہی اچھا ہو اگر وطنِ عزیز میں بھی ایسے انتظامات ہو جائیں۔

سفر کرتے ہوئے تقریباً تین گھنٹے گزر چُکے تھے اور بس ایک پختون ہوٹل پہ رکی جہاں سب نے اپنی ضرورت کے مُطابق کھانا چائے وغیرہ لی اور ہم نے نمکین روش منگوایا کیوں کہ گوشت بنانا ایک آرٹ ہے اور پٹھانوں نے یہ آرٹ بہت اچھے سے سیکھا ہے۔

اب بس چلی تو سب مسافر سو چُکے تھے کیوں کہ رات کافی ہو چُکی تھی صرف چترالی موسیقی کے ساتھ ڈرائیور اور کنڈکٹر کی آپسی خُوش گپیوں کی ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی تھی، تقریباً چار گھنٹے مزید چلنے کے بعد کوچ لواری ٹنل پہ رکی جہاں آرمی سیکورٹی کی ایک چوکی تھی ایک جوان سب کے قومی شناختی کارڈ چیک کرنے لگا تو کچھ مسافر تازہ ہوا کے لیے کوچ سے باہر نکل کر کھڑے ہو گئے گرمی کے اِس موسم اسلام آباد کی نسبت یہاں کافی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور دل چاہ رہا تھا یہاں اچھا سا کیفے ہو جہاں گرما گرم کافی کا مزا لیا جائے۔ خیر اتنے میں ایک فوجی جوان سے گپ شپ ہوئی جس نے یہ خواہش پوری کر دی اور گرما گرم چائے لے آیا چائے بہت اچھی تھی اور اِس بات کی تو انڈین آرمی بھی گواہ ہے ہمارے جوان جتنے جرّی و بہادر ہیں چائے بھی اُتنی اچھی پلاتے ہیں۔

لواری ٹنل کو دیکھتے ہوئے مجھے وہ وقت یاد آ گیا جب میری پہلی ملازمت لواری ٹنل پہ ہوئی اور یہ میرے پیشہ ورانہ سفر کا پہلا اور یادگار پروجیکٹ تھا، جب ہم یہاں کام کرتے تھے تو چونکہ ٹنل ابھی بن رہی تھی اور پہاڑی کے ایک طرف سے دوسری طرف جانے کے لیے مسافر ایک طرف سے چڑھتے اور دوسری طرف اترنے کے لئے ٹائر کا ایک کٹا ہوا ٹکڑا لے کر نیچے رکھ کر اُوپر بیٹھ جاتے اور پہاڑی کے اُوپر سے بچے کی طرح گِھیسی کرتے ہوئے نیچے آ جاتے اور مضحکہ خیز بات یہ ہوتی کے کبھی کبھار ٹائر نیچے سے کھسک جاتا اور پینٹ یا جینز رگڑ سے پوری طرح سے پھٹ کر اتنا کپڑا ہی غائب ہو جاتا تو صاحب اپنے بیگ سے یا ٹوپی سے اپنے اثاثہ جات چُھپا رہے ہوتے۔

چلتے چلتے کوچ عیون پہنچ گئی اور یہی ہماری آخری منزل تھی، میں جاگا، آنکھیں ملتے ہوئے نظر دوڑائی تو باہر روشنی ہو چُکی تھی تاہم سُورج نکلنے میں ابھی کافی وقت تھا۔ کوچ میں بہت آرام دہ سفر گزرا کوچ کھلی ڈھلی ہونے کی وجہ بہت اچھی نیند آئی۔

ڈاکٹر صاحبہ اور جرمن دوست گھوڑے بیچ کے سو رہے تھے اُن کو ہلایا تو خوابی دُنیا سے حقیقی دُنیا میں سانس بحال کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ نے سوالیہ انداز میں پوچھا ”پہنچ گئے؟“ میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا تھوڑی دیر اور نا اترے تو چترال پہنچ جائیں گے۔ ہم یکے بعد دیگرے نیچے اتر رہے تھے اور بس کی چھت پر سے کنڈکٹر لڑکے نے ہمارے بیگ نیچے لٹکائے جو میں نے سفر کا انچارج ہونے کے ناتے پکڑ کر نیچے اتارے۔

موسم بہت ہی پُر لطف تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور سامنے نیلے آسمان کو چھوتے ہوئے پہاڑ اُف۔ یہ منظر دیکھ کر مُجھے میری گُرو شہناز من اللہ یاد آ گئی جو اکثر جب خوشی سے حیران ہوتی ہیں تُو اُنکے منہ سے بے اختیار نکلتا ہے ہائےئےئےئے۔

تُو میں نے کیا ہائےئےئےئے۔ اور میری اِتباع میں جرمن دوست بھی کُچھ جرمن اور انگلش لہجے میں بولا ہائیئیئیئی۔ لاہور کراچی یا اسلام آباد جیسے میٹرو پولیٹن شہر میں رہنے والا انسان جب ایسا خوبصورت قدرت کا نظارہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے گا تو یقیناً اس کا ایسا ہی رد عمل ہو گا۔

یہاں سے آگے وادیِ کیلاش چونکہ کچے راستے ہیں اور جیپ کا سفر ہے ابھی صبح کا وقت تھا اور سورج بھی نکلنے کے قریب تھا تو آگے جیپ کا سفر شروع کرنے سے پہلے ہم نے ناشتہ کرنے کا سوچا اور یہاں عیون سٹاپ پہ ہی ایک کُھلے ہوٹل پہ آؤٹ ڈور بیٹھے گئے اور ہماری دائیں جانب جیپیں قطار در قطار کھڑی تھیں اور سامنے تھی پوری وادیِ عیون پہاڑ اور کھُلا نیلا آسمان۔

Facebook Comments HS