دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے


مڈل ایسٹ میں تیزی سے بدلتی صورت حال کے بارے میں سرِدست کوئی پیش گوئی تو ممکن نہیں تاہم بظاہر یہی سمجھ لیا گیا کہ حسن نصراللہ کی شہادت اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف تباہ کن حملوں کے ذریعے اسرائیل نے غزہ جنگ میں بالادستی حاصل کر لی اور اب وہ ایران میں عسکریت پسند گروپ کے ”حامیوں“ کے ساتھ براہ راست تصادم کی طرف جائے گا لیکن اسرائیل کی بے لگام جارحیت اُس کی حربی ناکامیوں کا غبار نظر آتی ہے، اگر ہمارا اندازہ درست ہے تو پھر صیہونی قوتیں دنیا کو تیسری عالمی جنگ کا مزہ چکھانے کی کوشش ضرور کریں گی۔ مغربی ماہرین بھی یہی کہتے ہیں کہ لبنان میں تازہ اسرائیلی جارحیت نے علاقائی طاقت کی حرکیات میں ”ٹیکٹونک تبدیلیوں“ کی راہ ہموار کر دی، یعنی وہ اب محسوس کرتے ہیں کہ حزب اللہ اسرائیل کے لئے کوئی خطرہ نہیں رہی، اگرچہ امریکی حکام نے اسرائیل کو ایران اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ بڑھتے تنازعہ میں کمی لانے کا کہا تاہم نیتن یاہو کی فوجی حکمت عملی کو کنٹرول کرنے کی امریکی صلاحیت محدود ہونے کی وجہ سے منگل کے ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں اسرائیل براہ راست ایران کو نشانہ بنا کر کسی بڑی جنگ کی شروعات کر سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتے کے روز کہا کہ حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کا قتل خطہ کے لیے طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی طرف پہلا قدم ثابت ہو گا یعنی اسرائیل کے رہنما اِسے مشرق و سطیٰ میں جغرافیائی تشکیل نو کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاہم اسرائیل کی مکمل فتح کی توقع مضحکہ خیز ہے۔

جو لوگ کامل تسخیر کے خواہشمند ہیں انہیں پچھتاوا ہو گا۔ یہ بجا کہ 17 ستمبر کے بعد سے، اسرائیل نے لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ کو ایک کے بعد ایک جسمانی دھچکوں سے دوچار کیا، پہلے پیجر اور واکی ٹاکی دھماکے، پھر جنوبی بیروت پر سفاکانہ فضائی حملے جس میں سینئر کمانڈر ابراہیم عاقل کے مارے جانے سمیت تین دن کی وحشیانہ بمباری میں کم و بیش دو ہزار انسان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور جمعہ کی شام تک جب، حسن نصراللہ بم دھماکہ میں مارا گیا اُس کے بعد گویا حزب اللہ کی پوری اعلیٰ قیادت موت کی وادی میں اتار دی گئی لیکن اس سب کے باوجود غزہ بلکہ اسرائیل کے اندر اب بھی مزاحمت جاری ہے۔ ایک طرف حالیہ تاریخ اسرائیلی رہنماؤں کے لیے تلخ اسباق کے سوا کچھ نہیں، دوسرے لبنان اور مشرق و سطیٰ میں جو لوگ عمومی طور پر ٹیکٹونک تبدیلیوں کے لیے بلند عزائم سے سرشار ہیں، انہیں پلٹ کر ذرا ماضی کے دریچوں میں بھی جھنکنا چاہیے۔

جون 1982 میں، اسرائیل نے جب فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کو کچلنے کی خاطر لبنان پر حملہ کیا، اس وقت بھی اس نے بیروت میں عیسائی اکثریتی حکومت قائم کرنے اور شامی افواج کو ملک سے باہر دھکیلنے کی امیدیں باندھی تھیں مگر وہ یہ تینوں اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ البتہ، لبنان میں امریکی معاونت سے ایسا معاہدہ کرانے میں ضرور کامیاب ہوا جس کے تحت فلسطینی مسلح گروہوں کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کیا گیا تھا، جس نے فلسطینیوں کو تیونس، یمن اور دیگر جگہوں پر جلاوطنی پر مجبور کیا لیکن پی ایل او کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی قومی امنگوں کو کچلنے کا مشن ناکام رہا، صرف پانچ سال بعد ، غزہ میں پہلی فلسطینی انتفاضہ پھوٹ کر پورے مغربی کنارے تک پھیل گئی اور ظلم و بربریت کی طویل تادیب کے باوجود آج بھی غزہ میں فلسطینی اتنے ہی ڈٹے ہوئے ہیں جتنے وہ پہلے دن اسرائیلی قبضے کو مسترد کرنے کے لئے پُرعزم تھے۔ 1982 میں حملے کے وقت لبنان میں اسرائیل کا اہم اتحادی بشیر الجمائل، جو میرونائٹ عیسائی ملیشیا کا رہنما تھا جسے پارلیمنٹ نے چُن لیا تھا لیکن عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی مشرقی بیروت میں بم دھماکے میں مار دیا گیا، بعد ازاں اُس کے بھائی امین نے اس کی جگہ لی، امین کی قیادت میں مئی 1983 میں امریکی حوصلہ افزائی اور فعال شمولیت کے ساتھ لبنان اور اسرائیل نے معمول کے دو طرفہ تعلقات کے قیام کے لئے معاہدے کر لیا مگر شدید مخالفت کے باعث فروری میں امین حکومت گر جانے کے ساتھ متذکرہ معاہدہ منسوخ کرنا پڑا۔ امریکہ، جس نے ستمبر 1982 کے صابرہ اور شتیلا کے قتل عام کے بعد بیروت میں اپنی فوجیں اتاری تھیں، اکتوبر 1983 میں امریکی میرینز اور فرانسیسی فوج کی بیرکوں سے منسلک اس کے سفارت خانے پر دو بار بمباری کے بعد وہاں سے نکلنے پہ مجبور ہو گیا جس کے نتیجہ میں لبنان کی خانہ جنگی دوبارہ شروع ہو کر چھ سال سے زائد عرصے تک جاری رہی۔ شامی افواج، جو 1976 میں عرب لیگ کے مینڈیٹ کے ساتھ ”ڈیٹرنس فورس“ کے طور پر لبنان میں داخل ہوئی تھیں، سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کے قتل کے بعد 2005 تک وہاں موجود رہیں۔

1982 کے اسرائیلی حملے کا سب سے اہم نتیجہ حزب اللہ کی پیدائش تھی، جس نے مسلسل ایسی ہولناک گوریلا جنگ چھیڑی جو اسرائیل کو جنوبی لبنان سے یک طرفہ انخلاء پر مجبور کر گئی، یوں پہلی بار کسی عرب فوجی قوت نے کامیابی کے ساتھ اسرائیل فوج کو پسپائی پہ مجبور کیا۔ پی ایل او کے عسکریت پسندوں کے برعکس، عرب سرزمین پہ حزب اللہ جیسا نیا گروپ، ایران کی مدد سے، اس سے کہیں زیادہ مہلک اور موثر ثابت ہوا، جسے اسرائیل نے کامیابی کے ساتھ لبنان سے بھگا دیا تھا۔ 2006 کی جنگ میں حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھی اور ازاں بعد ایران کی مدد سے بتدریج مضبوط ہوتی گئی۔ آج واضح طور پر امریکی انٹیلی جنس کی دراندازی کی بدولت اگرچہ حزب اللہ بوجوہ اپاہج اور بے ترتیبی کا شکار ہے لیکن پھر بھی، اس کے حتمی انجام کے بارے میں پیش گوئی قبل از وقت ہو گی۔

لبنان اور اسرائیل کے علاوہ، عراق پر 2003 کے امریکی حملے کی مثال ہمارے سامنے ہے، امریکی حملہ کے نتیجہ میں عراقی فوج کی تسخیر کے بعد جیسے ہی امریکی افواج بغداد میں داخل ہوئیں، بش انتظامیہ نے یہ سمجھ لیا کہ صدام حسین کا زوال تہران اور دمشق میں استبدادی حکومتوں کے خاتمے کا باعث بن کر پورے خطے میں لبرل جمہوریتوں کی بہار لہرا دے گا لیکن اس کے برعکس عراق پر امریکی قبضہ فرقہ ورانہ تشدد کے لہو کے غسل میں بدل گیا، جس میں امریکہ نے خود بھی خون اور خزانے کی قیمت ادا کی مگر عراق کے لوگوں نے اس سے کہیں زیادہ قیمتی جانیں گنوا دیں۔ صدام حسین کے قتل نے ایران کو بغداد میں سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے دل تک اپنا اثر و رسوخ پھیلانے کا موقع دیا جس کے تدارک کے لئے افغانستان پر امریکی حملے کے نتیجہ میں بکھری ہوئی القاعدہ کو عراق میں سنی مثلث کی صورت میں دوبارہ منظم کرنا پڑا جو آخر کار شام اور عراق میں داعش کی خونخوار شکل میں نمودار ہوئی۔ 2006 کی اسرائیل حزب اللہ جنگ کے دوران اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا تھا کہ تمام خونریزی اور تباہی جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں، نئے مشرق و سطیٰ کی پیدائش کا دردِ زہ ہے لیکن جنگوں کے نتائج اُن کے دعوی کی تردید کرتے ہیں۔ چنانچہ آج بھی ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں جو نئی صبح، نئے مشرق و سطیٰ کے طلوع اور خطے میں طاقت کے نئے توازن کی نوید سنا رہے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں، لبنان مڈل ایسٹ کی کائنات اصغر کا بلیک ہول ہے جو سب کو غلط ثابت کر سکتا ہے کیونکہ یہ غیر متوقع نتائج کی سر زمین ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، پچھلے ایک سال کے بیشتر عرصے میں، لبنان کو مسلسل اسرائیلی بمباری کا سامنا کرنا پڑا جو کہ امریکی حمایت یافتہ مہمات کا حصہ تھی جس میں سینکڑوں معصوم انسان ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔ حالیہ دنوں میں یہ تنازعہ اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی زمینی فورس کو آزمایا تاہم 23 ستمبر سے اسرائیل نے پھر لبنان کے جنوب اور مشرق میں وادی بیکا پر فضائی حملوں پر توجہ مرکوز کر لی، صیہونی فضائیہ بیروت شہر کی حدود اور دحیہ جیسے مضافاتی علاقوں سمیت دیگر علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

چنانچہ مشرق و سطیٰ کے کوآرڈینیٹر نے ایک بار پھر سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ دنیا پاتال کے دہانے تک آن پہنچی ہے، وقت کی صرف ایک کروٹ اسرائیل، فلسطین تنازعہ کی سمت بدل سکتی ہے، بین الاقوامی برادری، دیرینہ تنازعہ کے خاتمہ، تمام قیدیوں اور یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی، غزہ تک محفوظ اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے فوری قدم اٹھائے، مندوبین نے سلامتی کونسل کی بریفنگ کے دوران مشرق و سطیٰ میں 7 اکتوبر کے حملے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ 15 رکنی تنظیم نے اسرائیل کے 17 اکتوبر کو غزہ میں العہلی عرب ہسپتال پر وحشیانہ حملہ کے علاوہ حماس کی طرف سے مزاحمت کو روکنے اور خطے میں بڑھتے ہوئے تنازعے کے انتباہ کے ساتھ 16 اکتوبر سے پہلے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی شرائط پر اتفاق کے لیے اجلاس منعقد کیا لیکن دونوں مواقع پر پندرہ رکنی تنظیم اس پر کوئی قرارداد منظور کرنے میں ناکام رہی۔

مشرق و سطیٰ کے امن عمل کے خصوصی کوآرڈینیٹر ٹوروینز لینڈ نے دوحہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ دنیا گہری اور خطرناک کھائی کے دہانے پر ہے، حالات کی کوئی ایک جنبش اسرائیل فلسطین تنازعہ کی رفتار بدل سکتی ہے، تنازعات کے حل کے لئے اگر بروقت سنجیدہ قدم نہ اٹھایا گیا تو پوری دنیا جنگ کی لپیٹ میں آنے والی ہے۔

Facebook Comments HS