پلوشہ اور ڈاکٹر ذاکر نائیک
لکی مروت کی پلوشہ کے سوال نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے علم، منطق، استدلال، دلیل کے بخیہ ادھیڑ کر رکھ دیے۔ سوال یہ تھا کہ باوجود اسلامی شعار پر عمل کرتے ہوئے نماز روزہ کی پابندی کرتے ہوئے ہر شب جمعہ کو تبلیغی اجتماع کا انعقاد کرتے ہوئے لکی مروت میں pedophile کیوں ہو رہی ہے۔ اس سوال میں تضاد کہاں سے آ گیا۔ سوال میں تضاد نہیں تھا۔ سوال نہایت واضح، مکمل، کلیر اور اہمیت کا حامل تھا۔ پلوشہ کہہ رہی تھی کہ اگر کسی معاشرے میں اسلام اپنی اصل روح کے ساتھ رائج نہیں لوگ اسلامی شعار پر عمل نہیں کر رہے تب اگر لوگ گناہ کر رہے ہیں تو پھر تو دل تسلیم کرتا ہے۔
بات ذہن کو لگتی ہے کہ وہ تو اسلامی شعار پر عمل ہی نہیں کر رہے۔ اسلام کی اصل روح پر عمل ہی نہیں کر رہے۔ لہذا اس معاشرے کے لوگوں سے تو برائی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ لیکن لکی مروت یا کے پی کے جہاں عورتیں بلا ضرورت گھر سے باہر نہیں نکلتی اگر نکلتی بھی ہیں تو باپردہ نکلتی ہیں پنجاب کی طرح کا فیشن اور کلچر بہر کف کے پی کے میں عام نہیں ہے۔ تبلیغی اجتماعات ہوتے ہیں۔ شب جمعہ کو بڑا تبلیغی اجتماع ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہ کام جن سے اسلام نے سختی سے منع کیا سود، زنا، pedophile گناہ اور برائیاں کیوں کی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کا جواب نہایت سطحی تھا۔ پہلے تو مذاق اڑانے کے انداز میں جواب دیا کہ گھر سے میں بھی بلا ضرورت نہیں نکلتا اور جواب دینے کا انداز پھکڑ پن سا تھا۔ جو بہر کیف ان کے شایان شان نہیں تھا۔ اب اگر ڈاکٹر صاحب کو سوال سمجھ نہیں آیا؟ یا وہ اپنا نقطہ نظر واضح طور پر بیان نہیں کر سکے یا ان کو سوال کا جواب ہی نہیں آتا تھا تو اس میں سوال پر معافی کیسی؟ معافی کی ڈیمانڈ کیوں کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک جو بات سمجھانا چاہ رہے تھے ان کا وہ انداز اور بات کرنے کا انداز بھی بالکل سطحی تھا۔
وہ کہنا یہ چاہ رہے تھے یا کہہ رہے تھے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان گناہ کر رہے ہیں یا برائیاں کر رہے ہیں تو اپ اس معاشرے کو اسلامی معاشرہ نہیں کہہ سکتے۔ یا شاید ڈاکٹر صاحب یہ فرما رہے تھے کہ جب کوئی بھی مسلمان شخص کوئی برائی یا گناہ کرتا ہے تو وہ مسلمان نہیں رہتا۔ جب کہ کوئی شخص اللہ کی وحدانیت اور حضور پاک ﷺ کے اخری نبی ہونے پر ایمان لے آتا ہے تو پھر اس کو دنیا کی کوئی طاقت دائرہ اسلام سے خارج نہیں کر سکتی۔
ہاں گناہوں کی سزا مقرر ہے۔ جو مجھے سمجھ آ رہا ہے اگر ان کا یہی مقصد یا جواب تھا تو ایسے تو پھر دنیا میں اسلام کہیں بھی رائج نہیں ہے۔ اور پاکستان میں تو بالکل بھی نہیں ہے۔ دنیا میں جو بینکنگ اور جمہوریت کا نظام نافذ ہے اسلام میں تو اس کی کوئی جگہ اور گنجائش نہیں۔ ایک سعودی عرب ہی ایسا ملک ہے جہاں پر اسلامی سزائیں رائج ہیں لیکن وہ بھی اب یورپ کے نقش قدم پر ہے۔ ایسے میں تو پھر مسلمان دنیا میں آدھے تیتر آدھے بٹیر کے مترادف ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ جس معاشرے کو یا جس ملک کو ڈاکٹر صاحب نے اسلامی معاشرہ ملک یا مسلمان ماننے سے ہی انکار کر دیا ہے وہاں کے معاشرے کے لوگ یہ تاویلیں پیش کر رہے ہیں ڈاکٹر صاحب نے ایسا جواب دے کر پاکستان اور اسلام کی عزت کو بچا لیا ہے۔ یہ سراسر غلط دلیل ہے۔ ڈاکٹر صاحب یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ اسلام اچھا، اعلی، مکمل مذہب ہے۔ اگر اسلام کے پیروکار اس پر عمل نہیں کرتے تو اس سے اسلام کی حقانیت اور سچائی میں کوئی فرق نہیں آتا۔
اس میں ریاست اور علمائے کرام کی تو کوتاہی ہو سکتی ہے لیکن اسلام کا عالمگیر اور خدائی مذہب ہونے میں کوئی شک نہیں۔ میرے خیال میں ڈاکٹر صاحب کو پہلے اسلام نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ جو کہ انہوں نے اپنی سابقہ زندگی میں تو کبھی بھی نہیں کی۔ اگر آپ ڈاکٹر صاحب کی زندگی کا نچوڑ لیں ان کے تمام لیکچرز کا جائزہ لیں تو یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ ڈاکٹر صاحب نے اسلام کے اصل نفاذ کا تو پھر کبھی ذکر ہی نہیں کیا۔ وہ تو دنیا میں ہر جگہ عیسائیت اور اسلام، یہودیت اور اسلام، ہندو مت اور اسلام کے تقابل پر کام کر رہے ہیں اور یہی ان کی وجہ ہے شہرت ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کا پاکستانی شو فلاپ ہو چکا ہے۔ پلوشہ کا سوال ڈاکٹر کا پیچھا کرتا رہے گا۔


