اکیلی عورت کو ”پبلک پراپرٹی“ سمجھنا عین اسلامی ہے؟


چند روز قبل میرے آفس کے ایک دوست نے حکومت پاکستان کی جانب سے ایک اسکالر کو سرکاری طور مدعو کرنے کے معاملے پر تنقید کرنا شروع کی کہ گلی محلوں کی ہلڑ بازیوں سے کنورٹ ہو کر دانشور ٹائپ پوڈ کاسٹر بننے والے ایک یوٹیوبر کے انٹرویو کے بعد حکومت نے جس شخص کو مدعو کیا ہے اس پر نفرت پھیلانے کے الزامات ہیں اور وہ اپنے ہی ملک سے فرار ہے اسے یہاں کیوں بلایا جا رہا ہے؟ یہاں کیا پہلے سے نفرت کم ہے کہ اسے بلا کر کمی کو پورا کیا جا رہا ہے؟

دوسرے دوست نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک مذہبی اسکالر کے لئے آپ کو ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ وہ بہت ہی معتبر ہیں اور آپ کو ان پر تنقید سے پہلے اپنا قد کاٹھ دیکھنا چاہیے پھر اس اعلیٰ پائے کی شخصیت پر تنقید کرنی چاہیے۔

پھر کیا دونوں میں جنگ چھڑ گئی ایک طرف اعتراضات کی بھرمار تھی تو دوسری جانب اس اسکالر کے دفاع میں دلیلوں کے انبار لگائے جا رہے تھے اور میں خاموشی سے دونوں کو سنتا رہا۔ دوران بحث مجھے لگتا کہ پہلے والے کے اعتراض میں وزن ہے تو دوسرا اس سے بھی بڑی دلیل لے آتا کہ اس شخص نے دین اسلام کی کتنی بڑی خدمت کی ہے کتنے غیر مسلموں کو مسلمان کیا ہے۔ پہلے والے نے کہا کہ رام چند کے رمضان ہونے یا ڈیویڈ کو داؤد بنانے سے دین یا اس دنیا کی کون سی خدمت ہو جاتی ہے؟ اس سے سماج کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ کون سی بڑی خدمت ہو جاتی ہے بس نام ہی تو تبدیل ہوتا ہے اس کے حالات بھی تو وہی رہتے ہیں۔ اگر وہ غریب ہے تو سماج میں اس کی حیثیت تو اس کی غربت ہی طے کر دیتی ہے تبدیلی مذہب کے بعد بھی اس کی سماجی حیثیت کا تعین اس کی غربت سے ہی ہوتا ہے۔ کل رات تک وقفے وقفے سے دونوں میں بحث چلتی رہی لیکن پھر پہلے دوست کے ایک بے ضرر کمنٹ کے بعد ایک سناٹا سا ہے۔ میرا دوسرا دوست جیسے خلا میں گم ہو گیا ہے۔

پہلے آپ کو بتا دوں میرے دو دوست ہیں، ہم لوگ ساتھ ہی کام کرتے ہیں۔ پہلا جامشورو کی جامعہ سے فارغ التحصیل ہے دوسرا کراچی کی جامعہ میں آخری سال کا طالبعلم ہے اور کسی دھانسو قسم کی جماعت کا سرگرم کارکن بھی ہے۔ صوم و صلواۃ کا سخت پابند نہ ہی سہی لیکن وہ بھی اس کے معمول کا حصہ ہیں۔ ساتھ ہی وہ نوکری کر کے گھر کا چرخہ چلانے میں والدہ کی مدد بھی کرتا ہے۔

پہلا دوست تھوڑا تیز ہے کتابیں خریدنا، ڈبل اسپیڈ پر پوڈ کاسٹس سننا، کرکٹ کھیلنا اور بڑھ چڑھ کے بحث مباحثوں میں حصہ لینا اس کا مشغلہ ہے۔ اس کا خاندان بہت غریب تو نہیں لیکن کالج کے بعد اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ خودمختاری چاہیے تو اپنے خرچے خود اٹھانے پڑیں گے لہٰذا وہ گھر میں مدد کرتا ہے یا نہیں لیکن اپنا چرخہ چلانے کے لئے کام کرتا ہے اور کبھی بھی غربت اور محرومیوں کا رونا نہیں روتا البتہ ہم دونوں کبھی کبھی اپنی تقدیر، حالات اور محرومیوں کا رونا رو کر ایک دوسرے کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔

میرا دوسرا دوست مجھے زیادہ پسند ہے کیوں کہ ہم دونوں کی زندگیوں میں بہت سے دکھ یکساں ہیں لیکن اس کی تکلیفیں مجھ سے زیادہ ہیں۔ میرا وہ دوست شکم مادر میں ہی تھا کہ اس کے والد کا انتقال ہو گیا تھا، اس سے بڑی اس کی دو بہنیں بھی تھیں۔ اب والدہ پر تکلیفوں کے پہاڑ ٹوٹنے والے تھے کہ سسرالی اس کے خلاف ہو گئے انہیں خود پر بوجھ سمجھنے لگے۔ ان کی کوشش تھی کہ بیوہ خاتون عدت مکمل کر کے ان ہی کے ایک رشتہ دار سے شادی کر لے جس کی بیگم اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی اور بعد میں طلاق ہو گئی۔

وہ شخص جس سے میرے دوست کی والدہ کو شادی کرنے کا کہا جا رہا تھا اس کے حوالے سے مشہور تھا کہ شکی مزاج تھا اور اپنی پہلی بیوی کو بہت تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔ پیشے سے مکینک تھا اور صفائی ستھرائی سے اس کا دور دور تک تعلق نہ تھا۔ میرے دوست کی والدہ نے اس شخص سے شادی سے انکار کر دیا تو اب اس کے لیے ایسے حالات بنا دیے گئے کہ وہ سسرالیوں کا گھر چھوڑ کر چلی جائے۔

جب اس نے حالات کا اندازہ لگایا تو گھر سے اپنے شوہر کی وراثت میں حصہ مانگا تاکہ وہ ان پیسوں سے کہیں اور اپنی رہائش کا بندوبست کر سکے اور اپنی بیٹیوں اور نو زائیدہ بیٹے کو محفوظ چھت فراہم کر سکے۔ حصے کی بات سسرالیوں کو قطعاً نہ بھائی اب ذہنی ٹارچر کے علاوہ چوری سمیت چھوٹے چھوٹے الزامات لگا کر اس پر تشدد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تھا۔

وہ بیچاری اپنے میکے گئی اور بھابھیوں کو روداد سنائی کہ یہ صورتحال ہے مجھے اگر بھائی اپنے والد کے گھر سے حصے میں ایک کمرے جتنی جگہ دے دیتے تو مجھے اور میرے بچوں کو سر چھپانے کی جگہ مل جاتی۔ بھائیوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے سوچا اس نے تو ہماری ملکیت پر ہی نظریں گاڑ دی ہیں اور کسی طرح اسے ٹرخاتے رہے اور ایک دن بہن پر میکے کے دروازے ہی بند کر دیے۔

اب اس نے طے کر لیا تھا کہ حالات کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکنے، اس کو کچھ کر کے دکھانا ہے۔ لہٰذا سسرال کا گھر چھوڑا تھوڑا بہت جو کچھ پاس تھا بیچ کر کرائے پر گھر حاصل کیا اور آس پاس گھروں میں کام کر کے کچھ پیسے جوڑے اور سلائی مشین لاکر محلے کی عورتوں کے کپڑے سینا شروع کر دیے۔

خاتون نے بیٹیوں کو اچھی تعلیم دی اب اس کا بیٹا بھی یونیورسٹی سے اپنی گریجوئیشن مکمل کرنے والا ہے۔ بہنیں بھی نوکری کر کے والدہ کا ہاتھ بٹاتی ہیں اور بیٹا بھی ماں اور بہنوں کا سہارا بنا ہوا ہے۔

ارے میں بھی کہاں سے کہاں چلا آیا بات چل رہی تھی کہ پوڈ کاسٹ اور حکومت پاکستان کے دعوت نامے سے شروع ہونے والی بحث پاکستان میں اس اسکالر کے عظیم الشان استقبالیوں تک پہنچ چکی تھی یہ ڈیبیٹ تھی اس لیے ایک کے دلائل رد میں دوسرا اپنے محبوب اسکالر کے حق میں دلالت کرتا رہا لیکن پھر گزشتہ شب اسکالر نے بڑے اجتماع سے خطاب کیا اور کہا کہ عورت کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں یا وہ کسی شادی شدہ مرد سے شادی کر لے یا وہ پبلک پراپرٹی بن جائے، ایسا بھی نہیں کہ ان سے پبلک پراپرٹی کا لفظ جوش خطابت میں نکل گیا ہو۔ انہوں نے وضاحت کی کہ میرے پاس ایسی عورتوں کے لئے اس سے ”سافیسٹیکیٹڈ“ لفظ ہی نہیں ہے۔

یہ کل رات کی بات ہے روز کی طرح ہم تینوں چہکتے لہکتے ہوئے آفس پہنچے تھے تب پہلے دوست نے بے ضرر سا کمنٹ کیا ہاں بھائی کیا سمجھتے ہو جو عورت کسی شادی شدہ مرد سے شادی نہیں کرتی وہ پبلک پراپرٹی یعنی عوام کا مال بن جاتی ہے؟ اس نے کوئی جواب نہ دیا پہلے نے پھر سوال کیا کہ کیا تم یہ بھی سمجھتے ہو کہ اکیلی عورت کو پبلک پراپرٹی سمجھنا عین اسلامی ہے؟ میرے دوسرے دوست کے چہرے کا رنگ اڑ گیا، اس کی آنکھوں کی چمک ماند پڑ گئی۔ بحث تو دور کی بات کل سے وہ کچھ بولا بھی نہیں جیسے کسی خلا میں گم ہو گیا ہو۔

 

Facebook Comments HS