حوزے سارا ماگو کا ناول: "اندھے لوگ”


کافی عرصے سے ایک ناول زیرِ مطالعہ تھا جو گزشتہ روز اپنے اختتام کو پہنچا۔ مطالعے کے دوران کئی دن میں اس کتاب کی آغوش میں رہا۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو پڑھتے وقت آپ کو بے چین کر دیتی ہے اور آپ کو یہ جاننے کی جستجو میں مبتلا کرتی ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔

اگرچہ کافی عرصے سے کتاب بینی کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اس ناول کو پڑھنے کے بعد یہ میرے پسندیدہ ناولوں کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ یہ ناول نوبل انعام یافتہ ادیب حوزے سارا ماگو کی تخلیق ہے، جس کا اردو میں ترجمہ ”اندھے لوگ“ کے نام سے کیا گیا ہے۔

پرتگال سے تعلق رکھنے والے ادیب حوزے سارا ماگو کے ناول ”blindness“ جس کا اردو ترجمہ احمد مشتاق نے کیا ہے۔ یہ ناول 1995 میں لکھا گیا تھا اور بعد ازاں 1998 کو حوزے سارا ماگو کو نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔ تاہم اسی ناول کی بدولت حوزے سارا ماگو کو بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ احمد مشتاق نے اسے اردو میں ترجمہ کر کے قارئین کے لیے ایک بڑا احسان کیا ہے جو لوگ پڑھنے کا ذوق رکھتے ہیں انہیں یہ ناول لازمی پڑھنا چاہیے۔

اندھے لوگ ”ایک بہترین اور معیاری ناول ہے جو کہ ایک ناگہانی وبا کے نتیجے میں انسانی فطرت، سماجی ڈھانچے اور ان کی باہمی روابط کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے شہر میں وقوع پذیر ہوتی ہے جہاں لوگ اچانک بینائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔

کہانی کی ابتدا ایک شخص سے ہوتی ہے جو سڑک کے درمیان اپنی گاڑی میں بیٹھا ہوا اچانک اندھا ہو جاتا ہے۔ عام طور پر جب لوگ اندھے ہوتے ہیں تو ان کی آنکھوں کے سامنے سیاہی چھا جاتی ہے، لیکن اس شخص کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے دودھیا سفیدی چھا جاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی دیکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ اس واقعے کے فوراً بعد سڑک پر ہلچل مچ جاتی ہے اور ٹریفک کی روانی متاثر ہو جاتی ہے۔ اسی دوران اچانک ایک بندہ اسے گھر چھوڑنے کی ہامی بھرتا ہے۔ تاہم اسے گھر چھوڑنے کے بعد وہ بندہ اس کی گاڑی چوری کر لیتا ہے۔

José Saramago

اور بعد ازاں جب اس کی بیوی گھر آتی ہے تو فوراً اسے ہسپتال لے جاتی ہے، البتہ ڈاکٹر کو اس کی بینائی کھو جانے کی بیماری کی سمجھ نہیں آتی۔ چنانچہ رات کو ڈاکٹر اس بیماری سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے تاکہ اس کی وجہ کا کھوج کر سکے۔ تاہم صبح نیند سے بیدار ہوتے ہی ڈاکٹر کو احساس ہو جاتا ہے کہ وہ بھی اندھا ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر بغیر کسی تاخیر کے فوراً متعلقہ اداروں کو اس وبا کی اطلاع دے دیتا ہے۔ جیسے ہی متعلقہ ادارے اس واقعے سے آگاہ ہوتے ہیں، وہ ان تمام افراد کو نظر بندی میں رکھنا شروع کر دیتے ہیں جو اس اندھے پن کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس دوران جب وہ ڈاکٹر کو لینے آتے ہیں، تو اس کی بیوی بھی اس کے ساتھ چل پڑتی ہے۔ اگرچہ وہ خود اندھی نہیں ہے، مگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ اس لیے وہ اپنے آپ کو اندھا قرار دے کر ڈاکٹر کے ساتھ جانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ بہت کم وقت میں یہ اندھا پن وبا کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ متاثرہ افراد کو نظر بندی میں رکھا جاتا ہے اور انہیں سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ وہاں سے باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں۔

اندھوں کو ایک ایسے پاگل ہسپتال میں جمع کیا جاتا ہے جو کہی عرصے سے بند پڑھا ہوتا ہے کچھ ہی وقت میں یہ ہسپتال اندھے لوگوں سے بھر جاتا ہے تاہم ان سب اندھوں کے بیچ صرف ڈاکٹر کی بیوی ہی ہے جو دیکھ سکتی ہے۔ لیکن کسی کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ ڈاکٹر کی بیوی اندھی نہیں ہے، البتہ وہ رات دن اس چیز کو ظاہر کیے بغیر کہ وہ دیکھ سکتی ہے ان سب اندھوں کی مدد کرتی رہتی ہے۔

ہسپتال میں گزرتے وقت کہ ساتھ حالات انتہائی خراب ہو جاتے ہیں۔ بدبو، گندگی اور غلاظت سے پورا ہسپتال بھر جاتا ہے اور نظامِ زندگی درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ ہسپتال ایک گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

تاہم تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ الگ الگ وارڈز میں رہائش پذیر ہوتے ہیں، مگر نظام زندگی منظم ہوتا نظر نہیں آتا۔ اسی مابین ایک اندھا گروپ جس کے پاس ہتھیار موجود ہوتے ہیں وہ سارے کھانوں پر جو باہر سے اندھوں کے لیے آتے ہیں ان پر قبضہ جما لیتا ہے، اور وہ باقی اندھے لوگوں سے اس کی قیمت وصول کرنے کے لیے سونا چاندی وغیرہ کی مانگ کرنے لگتے ہیں۔ لوگ ان کی بات ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں کیونکہ اس گروپ کے سربراہ کے پاس ہتھیار کی موجودگی سب کے لیے باعث خوف ہوتی ہے۔ چنانچہ مجبوراً اندھے اس کی بات مان لیتے ہیں۔ جب ان کے ہاں کوئی سامان باقی نہیں رہتا تو وہ ظالم عورتوں سے جنسی آسودگی حاصل کرنے کی مانگ کرتے ہیں، اگرچہ کچھ اندھے اس چیز کی مذمّت کرتے ہیں لیکن بھوک اور افلاس سے مجبور ہو کر عورتیں ان کے آگے گھٹنے ٹیک دیتی ہیں۔

ان تمام حالات کو ڈاکٹر کی بیوی بھی اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی آنکھیں اس کے لیے عذاب بن گئی ہیں۔ کیونکہ اسے وہ سب کچھ دیکھنا پڑ رہا تھا جو وہ کبھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ تاہم کھانے کے بدلے وہ عورتوں سے جنسی آسودگی حاصل کرتے رہے۔ عورتیں جنسی آسودگی کے لیے استعمال ہو رہی ہیں یہ بات ڈاکٹر کی بیوی کو انتہائی بُری لگتی ہے۔ اسی اثنا میں، ڈاکٹر کی بیوی کسی ہلچل میں ان درندوں کے سربراہ کو قتل کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں حالات سنگین حد تک خراب ہو جاتے ہیں۔ ہسپتال کو آگ لگ جاتی ہے سب جان بچانے کی خاطر باہر نکل جاتے ہیں۔

باہر نکلتے ہی انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ سارا شہر اندھا ہو چکا ہے حالتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ سڑکوں پر لاشوں سمیت کیڑے مکوڑوں کا ڈھیر جما ہوتا ہے۔ گندگی اور بدبو سارے شہر کو اپنے لپیٹ میں لے چکا ہے۔

ڈاکٹر کی بیوی کی رہنمائی میں سات افراد کا ایک گروپ ایک ساتھ رہنے کا عزم کرتا ہے اور شہر کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ لوگ گروپ کی صورت میں مختلف مقامات پر اپنے ڈیرے جما کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ دکانوں اور مارکیٹوں میں کھانے کی کوئی بھی اشیاء میسر نہیں ہوتیں کیونکہ دکانیں پہلے ہی لٹ چکی ہوتی ہیں۔ البتہ، یہاں دکانوں کو لوگ اپنے رہائش کے لیے استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ کافی دیر سفر کرنے کے بعد وہ سب تھک جاتے ہیں اور ایسے ہی کسی دکان میں آرام کرنے کی غرض سے رک جاتے ہیں۔ ڈاکٹر کی بیوی ان کے لیے کھانا تلاش کرنے کے مقصد سے باہر نکلتی ہے۔

اور شہر کے حالات سے یہ تصور کر لیتی ہے کہ کھانا ڈھونڈھنا انتہائی مشکل ہونے والا ہے۔ مگر ڈاکٹر کی بیوی کو جیسے تیسے کسی مارکیٹ کے تہہ خانے میں موثر مقدار میں کھانا مل جاتا ہے۔ تاہم وہ کھانا لے کر اپنے گروپ کے پاس لوٹ آتی ہے۔

رات کو آرام کرنے کے بعد صبح ہوتے ہی وہ اپنے گھروں کی طرف کوچ کرنے لگتے ہیں۔ اگرچہ گروپ کے کچھ لوگوں کو اپنے گھر مل جاتے ہیں تاہم ان پر یا تو کسی کا قبضہ ہوتا یا وہ اکیلے رہنا نہیں چاہتے، ان سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اس صورتحال میں اکیلے زندہ رہنا بہت مشکل ہے، اس لیے وہ بہتر سمجھتے ہیں کہ گروپ کے ساتھ ہی رہیں۔ بالآخر وہ سب ڈاکٹر کے گھر جاتے ہیں اور وہاں وہ باقاعدہ طور پر رہنے لگتے ہیں۔ جب کھانا ختم ہو جاتا ہے تو ڈاکٹر کی بیوی ایک بار پھر اسی جگہ کا رخ کرتی ہے جہاں وہ پہلے کھانا تلاش کرنے گئی تھی۔ لیکن اس دفعہ وہاں حالات سخت خراب ہوتے ہیں وہ مارکیٹ لاشوں سے بھری پڑی ہوتی ہے شاید وہاں کھانا موجود ہونے کی خبر اندھوں کو ہو گئی ہوتی ہے اسی لیے وہاں کا منظر خوفناک اور دل دہلا دینے والا ہوتا ہے۔

یہ حالت زار ڈاکٹر کی بیوی کے سامنے آتے ہی وہ اپنا ہوش کھو بیٹھتی ہے اور خوفزدہ ہو کر مارکیٹ سے باہر نکل آتی ہے، جبکہ ڈاکٹر بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ دونوں ایک چرچ میں آرام کرنے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں، جہاں ڈاکٹر کی بیوی دیکھتی ہے کہ وہاں موجود تمام مجسموں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی ہوئی ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر ان کے دل میں ایک عجیب سا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ مجبوراً، اسی حالت میں وہ گھر واپس آ جاتے ہیں۔

آخرکار، وہ پہلا شخص جو اندھے پن کا شکار ہوا تھا، اپنی بینائی واپس پا لیتا ہے اور خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔ اس کی خوشی دیکھ کر باقی افراد بھی امید کی کرن محسوس کرتے ہیں، اور آہستہ آہستہ، یکے بعد دیگرے، اس گروپ کے لوگ اپنی بینائی واپس پانے لگتے ہیں۔ یہ منظر ایک نئی زندگی کی شروعات کی علامت بن جاتا ہے، جہاں اندھیروں سے نکل کر روشنی کی جانب بڑھنے کی امید جاگ اٹھتی ہے۔

اسی لمحے ڈاکٹر اپنی بیوی سے پوچھتا ہے، ”آخر ہم اندھے کیوں ہو گئے تھے؟“ ڈاکٹر کی بیوی جواب دیتی ہے، ”مجھے نہیں معلوم، شاید کسی دن ہمیں اس کا علم ہو جائے۔ لیکن میرے خیال میں ہم اندھے نہیں ہوئے، بلکہ ہم اندھے ہیں، اور دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے اندھے جو دیکھ سکتے ہیں، مگر دیکھتے نہیں۔“

ڈاکٹر کی بیوی آسمان کی طرف دیکھتی ہے اور اسی دودھیا سفیدی کو محسوس کر کے سوچتی ہے کہ شاید وہ اب اندھی ہو چکی ہے، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ جب وہ اپنی آنکھیں نیچے کر کے شہر کی جانب دیکھتی ہے تو کہتی ہے، ”شہر اب بھی ویسا ہی ہے۔“

یہ ناول کے اختتامی الفاظ تھے، جو تمام ناول کا خلاصہ بھی ہے۔ اس ناول میں کرداروں کے کوئی نام نہیں ہیں۔ اور رائٹر نے انہیں کچھ اس طرح مخاطب کیا ہے۔

”پہلا اندھا آدمی
”ڈاکٹر“
”ڈاکٹر کی بیوی“
”بھینگی آنکھوں والا لڑکا“
”کالے چشمے والی لڑکی“
وغیرہ وغیرہ۔

اور نہ ہی اس نے شہر کے نام سے قارئین کو آگاہ کیا ہے۔ اس ناول میں حوزے سارا ماگو نے ایک منفرد اسلوب اپنایا ہے اور اُردو میں بھی اسی اسلوب کو جناب احمد مشتاق نے بھی اپنایا ہے۔ رموز اوقاف کے استعمال نہ ہونے کی وجہ سے قارئین کو پڑھنے میں ذرا مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن یہ ناول بھی تو توجہ طلب ہے۔ اگر توجہ کے ساتھ پڑھیں گے تو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

جہاں تک میں نے اس ناول کو سمجھا ہے میرے خیال سے یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو غلط کو دیکھ کر بھی آنکھ پھیر لیتے ہیں، جو دیکھ تو سکتے ہیں مگر اندھے ہیں۔

جو انسان دیکھ سکتا ہے مگر پھر بھی وہ حقیقت کو نہیں دیکھتا اور اس کے حق میں نہیں بولتا، تو چاہیے وہ آنکھیں رکھتا ہو یا دیکھ سکتا ہو وہ پھر بھی اندھا ہی ہے کیونکہ وہ سچ، صحیح اور حقیقت کو نہیں دیکھ سکتا، وہ اندھا ہے۔ جب میں نے اس ناول کی آخری سطر کو پڑھا تو میں نے اپنے آپ سے یہ سوال کیا کہ، آیا میں بھی اندھا ہوں؟

اس ناول کی میری پسندیدہ لائنز آپ کے سامنے پیش ہیں :

”خوف بھی اندھا کر سکتا ہے، ہم اپنے اندھے ہونے سے پہلے ہی اندھے ہوچکے تھے، خوف نے ہمیں اندھا کیا ہے، اور خوف ہمیں اندھا رکھے گا۔“

”میں نے اپنی ساری زندگی لوگوں کی آنکھیں دیکھنے میں گزار دی، کیونکہ جسم کی یہی وہ واحد جگہ ہوتی ہے جہاں انسان اپنی روحوں سمیت موجود ہوتے ہیں۔“

”ساری حالتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں کبھی یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ایسی کوئی چیز نہیں جسے اندھا پن کہا جا سکے صرف اندھے لوگ ہوتے ہیں لیکن وقت اور تجربے نے ہمیں سکھایا ہے کہ یہاں اندھے لوگ نہیں ہیں صرف اندھا پن ہے۔“

”آپ نہیں جانتے، آپ نہیں جان سکتے کہ ایسی دنیا میں جہاں ہر کوئی اندھا ہو، آنکھیں رکھنے کے کیا معنی ہیں۔“

”ایک اندھے کے لیے یہ کہنا کہ یہاں اتنا اندھیرا ہے کہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا، یہ انتہائی اذیت ناک الفاظ ہوتے ہیں“ ۔

”آپ کو بھی مرنا ہے وہ پہلے ہی مر چکا ہے اور وہ اس بات کو جانتا نہیں، یہ بات کہ ہمیں مرنا ہے، ہمیں اسی وقت معلوم ہو جاتی ہے جس وقت ہم پیدا ہوتے ہیں، اسی لیے ایک طریقے سے ایسے لگتا ہے جیسے ہم پیدا ہی مردہ ہوئے تھے۔“

Facebook Comments HS