صومالیہ سے مراسلہ— ابر باراں بھیج دے یارب

جیسا کہ پہلے ایک مراسلے میں عرض کیا تھا، یہ خادم پیشہ ورانہ مجبوریوں کے سبب کوئی چھے میل لمبے اور اوسطا چار میل چوڑے ایک قطعہ زمین میں افریقی اتحاد کی افواج کے پہرے میں ہوائی مستقر کے آس پاس کے علاقے میں محصور ہے۔ کوسوو سے فجی تک، اور اطالیہ سے سویڈن تک، دنیا کے بہت سے ممالک سے تعلق رکھنے والے ہم کاران سے تعلق ہوتا رہتا ہے مگر صومالیہ کے لوگوں میں صرف ان سے واسطہ ہے جن سے کوئی کام پڑتا ہے۔ ایسے میں یہ دعوی محض مغالطہ آمیز ہوگا کہ صومالی سماج کی کوئی با معنی جانکاری پائی ہے۔ایسے میں مختلف ممالک سے آے ہوئے امدادی اور فوجی کارکنان نے اپنی تنہا شاموں کو رنگین بنانے کے لیے قسم قسم کی دل چسپیاں ڈھونڈ رکھی ہیں۔ کچھ شام کو الاو جلا کر گٹار پر گیت گاتے ہیں۔ کچھ اپنی تنہائی کا مداوا مشروب مغرب سے کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ اس خادم کا سہارا وطن یا کینیا کے دوروں سے لائی گئی کتابیں ہیں یا یہی ہمارا آپ کا انٹرنیٹ۔۔ اگر کہیں ان دونوں کا امتزاج ہو جاے تو ۔۔ نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں۔۔ کی سی کیفیت ہو جاتی ہے۔ آج "ہم سب” پر استاذی محترمی خورشید ندیم صاحب کے مضمون کو دیکھ کر ایسا ہی حال ہوا۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ محترم خورشید ندیم بھی اس خادم کے مانند الِف شفق صاحبہ کے ناول "فورٹی رولز آف لو” کے اسیر ہیں۔ یہ خادم اسے کئی بار پڑھ چکا ہے مگر ہر بار نیا لطف آتا ہے۔ ہر اہل دل، اہل ذوق اور اہل درد کے لیے اس کے مطالعے کی پر زور سفارش کی جاسکتی ہے۔ اصل ناول ترکی زبان میں ہے۔ خادم کی کم نصیبی کہ ترکی سے نابلد ہونے کے سبب اسے انگریزی میں پڑھا۔ نجانے اردو ترجمہ کس پائے کا ہوگا مگر یقین ہے کہ اگر سلیقے سے کیا گیا ہے تو اس کی مشرقی متصوفانہ فضا کا اچھا بیان اردو میں ممکن ہو پایا ہو گا۔
کتابوں کی بات چل نکلی ہے تو ایک نہایت دلچسپ انگریزی کتاب کا ذکر مناسب ہو گا جو گزشتہ دورہ نیروبی میں ہاتھ آئی۔ اس کا عنوان ہے، "پشتون سرزمین سے ‘ما’ کی سرزمین تک”۔۔ یہ مظفر جمعہ خان صاحب کی خود نوشت سوانح ہے جن کے والد محترم، مرحوم جمعہ خان کا تعلق موجودہ ضلع اٹک سے تھا۔ بارکزئی پشتون تھے۔ بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں کی بات ہے، انیس بیس سال کی عمر کے تھے کہ ان کے والد سرگند خان کے انتقال کے بعد ان کے چچا نے انہیں جائیداد سے بے دخل کر کے ان پر عرصہ حیات اس قدر تنگ کر دیا کہ یہ فرار ہو کر بمبئی آ گئے۔ وہاں کچھ عرصہ مزدوری کرتے رہے کہ کسی نے مشرقی افریقہ میں روزگار کے مواقع کا ذکر کیا۔ یہ اولوالعزم خان صاحب اپنی مختصر جمع پونجی کو داو پر لگا کر ایک معمولی بادبانی کشتی میں سوار ہو گئے جس نے ایک ماہ سے زائد وقت کے صبر آزما اور پر صعوبت سفر کے بعد انہیں موجودہ کینیا پہنچا دیا۔ انہوں نے یہاں آکر نئے سرے سے زندگی کا آغاز کیا اور موجودہ تنزانیہ کے مشہور قبیلے "مسائی” کی ایک خاتون سے شادی کر لی، جس سے تین بچیاں پیدا ہوئیں۔ مختلف شعبوں میں قسمت آزمائی کرتے کرتے ٹرانسپورٹ کے کاروبار کو اپنا لیا اور مدت تک اس سے منسلک رہے۔ عقد ثانی وطن واپس آکر کینیا کے ایک دوست کے خاندان میں کیا جن کا تعلق موجودہ چکوال کے ایک گاوں سے تھا۔ اس شادی سے بھی کئی اولادیں ہوئیں جن میں اس کتاب کے مصنف مظفر جمعہ خان صاحب بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مدت العمر تک "کینیا فارمرز ایسوسی ایشن” نامی امداد باہمی کے ادارے میں کام کیا اور اب اس سے سبک دوش ہو کر کینیا میں مقیم ہیں۔ پشتو زبان تو فراموش ہو چکی ہے، مگر بقول جوش ملیح آبادی، "پٹھنولی” کا اب بھی دم بھرتے ہیں۔ یہ کتاب ایک ملک، ایک معاشرے اور ایک خاندان کی نہایت دلچسپ داستان ہے۔
ابھی کم از کم چند ہفتے مزید اسی سرزمیں کا دانہ پانی قسمت میں لکھا معلوم ہوتا ہے۔ اور وطن سے لائی گئی اردو کتب کا محدود ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ فی الحال تو انگریزی پر گزارہ ہو رہا ہے، دیکھیے آگے کس طور گزرتی ہے۔

