آزادیٔ اظہار پر وکیل روماسہ پر ریاستی جبر کی بدترین مثال


شروع ہوتا ہے یہ سپریم کورٹ کی اپنی دی ہوئی لینڈ مارک ججمنٹس سے، ہائے افسوس کہ ریاستی جبر نے اس روشنی کو اپنے سیاہ سائے میں لے کر، اسے پامال کر دیا۔

بے نظیر بھٹو بمقابلہ وفاق پاکستان (PLD 1988 SC 416 )

اس کیس میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے سیاسی شرکت کے سیاق و سباق میں اظہار رائے کی آزادی کی اہمیت پر زور دیا اور اس حق کو دبانے کی کوششوں کو مسترد کیا۔ عدالت نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں کھلی گفتگو اور تنقید کا حق ضروری ہے۔

۔ سوموٹو کیس نمبر 7، فیض آباد دھرنا کیس (PLD 2019 SC 1 )

یہ پاکستان میں اظہار رائے، اجتماع اور احتجاج کے حق کے حوالے سے ایک اہم مقدمہ ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ریاست کو شہریوں کے پرامن احتجاج کے حق کا تحفظ کرنا چاہیے اور بغیر قانونی جواز کے مظاہرین کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

پاکستان کا آئین ہر شہری کو متعدد بنیادی حقوق دیتا ہے، جن میں سے ایک اہم ترین حق آرٹیکل 19 کے تحت اظہار رائے کی آزادی ہے۔ یہ حق کسی بھی جمہوری معاشرے کا بنیادی ستون ہوتا ہے، جہاں شہری ریاستی معاملات پر اپنی رائے دینے اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں یہ آئینی حق شدید خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ مختلف ریاستی ادارے، حکومتیں، اور طاقتور حلقے اکثر اس آئینی حق کو دبانے کے لیے طاقت اور قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

ایک حالیہ واقعہ میں سندھ بار کونسل کی وکیل، محترمہ روماسہ جامی کو ریاستی جبر کا نشانہ بنایا گیا۔ محترمہ کو شہر کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا، صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے آئینی حق جو ریاست پاکستان نے ان کو مہیا کیا میں رہ کر پرامن اجتماع کے حق کا استعمال کیا۔ یہ واقعہ 13 اکتوبر 2024 کو ہونے والے ”سندھ رواداری مارچ“ کے دوران پیش آیا، جہاں محترمہ روماسہ جاوید جامی ایڈوکیٹ کو دیگر افراد جیسے ایڈووکیٹ عمار حسیب پنھور، ڈاکٹر سورتھ سندھو، اور ریاستی گلوکار سیف سمیجو کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔

آرٹیکل 16 پاکستان کے شہریوں کو پرامن اجتماع کا حق دیتا ہے، لیکن اس واقعے میں سندھ حکومت نے اس حق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ محترمہ وکیل صاحبہ اور ان کے ساتھیوں کو لاٹھی چارج کا نشانہ بنایا گیا، انہیں گرفتار کیا گیا، اور انہیں بلاجواز حراست میں رکھا گیا۔

ریاست نے اس مارچ کے شرکاء کو ریاستی سکیورٹی کے ”نام نہاد“ خدشات کی بنا پر گرفتار کیا، ان پر لاٹھی چارج کیا اور انہیں حراست میں رکھا۔ محترمہ روماسہ جاوید سمیت دیگر سرگرم کارکنوں کو اس بنا پر نشانہ بنایا گیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے کیسے آئینی حقوق کو پامال کر کے عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وکلا وہ طبقہ ہیں جو آئین اور قانون کے محافظ ہوتے ہیں، اور ان کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے آئینی حقوق کا دفاع کریں۔ محترمہ روماسہ جاوید اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہونے والا سلوک وکلا برادری کے لیے ایک چیلنج ہے، اور انہیں اس جبر کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرنا ہو گا۔

یہ واقعہ صرف محترمہ روماسہ جاوید جامی کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ پورے ملک میں آئینی حقوق کے لیے ایک چیلنج ہے۔ اگر آج اس جبر کے خلاف آواز بلند نہ کی گئی، تو کل کوئی بھی شہری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے کے قابل نہیں رہے گا۔

جب ریاست سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف جاتی ہے تو یہ نہ صرف آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ جمہوری نظام کی بنیادوں کو بھی کمزور کرتی ہے۔ اس صورتحال میں سندھ گورنمنٹ خصوصی طور پر چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کردار کیا ہو گا، کیا وہ بی بی شہید کے اصولوں کو اپناتے ہوئے ان گنوانے چہروں کو بے نقاب کریں گے یا ان پر چادر اوڑھ کر ان کا حصہ بنیں گے۔

Facebook Comments HS