لکڑی، کوئلہ، مٹی کے تیل، پٹرول، گیس اور بجلی کے بعد اب ہائیڈروجن نیا ایندھن، مگر کیوں ! (1)
اس مضمون کو پڑھ کر آپ کو یہ معلومات ملیں گی۔
دنیا ہائیڈروجن پر بطور ایندھن پر کیوں منتقل ہورہی ہے۔
ہائیڈروجن سے بطور ایندھن کیا کیا کام لئے جاسکتے ہیں۔
ہائیڈروجن زمین سے نکالی جاتی ہے یا کن کن طریقوں سے حاصل ہوسکتی ہے۔
ہائیڈروجن کتنی سستی یا مہنگی ہے؟
ہائیڈروجن سے کاریں کیسے چلتی ہیں؟
یہ گاڑیاں کتنا فاصلہ طے کرسکتی ہیں؟
اوزون حفاظتی تہہ کا شگاف اور گرین ہاؤس گیسیں کس مصیبت کا نام ہے؟
زیرو کاربن کا معاہدہ اور کاربن کریڈٹ کے کیا فوائد ہیں؟
سچ تو یہ ہے کہ پاکستان دنیا سے ہر اچھے معاملے میں دس بیس سال پیچھے ہی ہوتا ہے۔ دنیا جب لگ بھگ الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل ہونے کا عہد کرچکی تھی (اس عہد کو بھی اب دس بارہ سال ہوچکے) ساتھ سن 2050 عیسوی میں "زیرو کاربن” کی شرط بھی لگا بیٹھی تھی۔ ہم اس وقت سی این جی میں پھنسے ہوئے تھے۔ اور آج بھی ہماری اکثریت اس بات سے لا علم ہے کہ "زیرو کاربن” کس چڑیا کا نام ہے۔ کیوں کہ ہمیں یہ جاگ سال 2040 کے بعد آئے گی۔ جب دنیا ہماری گردن ناپ رہی ہوگی۔
دنیا بھر میں "فور جی” مواصلات کی کمپنیاں جب پیسہ وصول کرکے فائیو جی کا پلان بنا رہی تھیں۔ ہم فخر سے فور جی کے اسپکٹرم کی نیلامی کررہے تھے۔ یہ کمپنیاں بھی خوش تھیں کہ چلو چلو پاکستان چلو، جہاں اب ان کا پرانا مال بہ آسانی بکے گا۔ اور اب جب دنیا فائیو جی سےبہت بہت آگے جا چکی ہے ہم اب تک فائیو جی کے اسپکٹرم کی نیلامی کے لئے استخارے نکال رہے ہیں۔
اس سے پیچھے جائیں تو کیا کسی کو یاد ہے کہ پاکستان میں بغیر کوئی پلانٹ لگائے، کتنے ملین سی این جی کٹ در آمد ہوئے۔ کتنے سی این جی پلانٹ، بوائلر اور سلنڈر پاکستان سے ڈالر باہر پھینک کر ہم نے اپنے ملک میں کچرا بڑھایا۔ اور اب اس میں سے اکثر کہاں ہیں؟ بلا مبالغہ لوگوں کی سینکڑوں ارب روپے کی سرمایہ کاری جو سی این جی اسٹیشنز پر مزید کی گئی تھی، وہ کہاں گئی؟
ہم نے لیپ ٹاپ مقامی طور پر اسمبل یا بنانے کی بجائے ، طالب علموں کو دنیا بھر کا کچرا جمع کرکے بانٹ دیا۔ محض کمیشن کھرا کرنے کے لئے۔ ان میں سے بھی ایک بڑی تعداد اب خراب ہوچکی ہے۔
یہی حال کوئلے سے چلنے والے پلانٹ کا ہے۔ جب دنیا (بشمول چین) "زیرو کاربن” کی قسم کھا کر بیٹھ گئے اور کوئلے کو لگ بھگ سب نے طلاق دے دی تھی۔ ہم نے فخر سے ان کوئلے یا گیس کے گھٹیا پلانٹس کو پاکستان میں مہنگے داموں لا کر لگا لیا۔
اور اب کچھ یہی معاملہ الیکٹرک گاڑیوں کا ہے۔ دس سال پہلے جب اس کے ابتدا ء کی ضرورت تھی۔ پاکستان میں پالیسی بنانے والے اپنے کمیشن اور کک بیک کے چکروں میں (یا یہاں موجود گاڑی ساز کمپنیوں کے مالکان کی بلیک میلنگ کے زیر اثر) سوتے رہے۔ نہ ہم نے لیتھیم بیٹریوں پر کوئی ریسرچ کی یا اس کی فیکٹری لگائی۔ اور نہ برقی کار کے لئے ہیوی موٹر یا سیمی کنڈکٹرز پر کام کیا۔ اور اب جب دنیا الیکٹرک وہیکلز کے معاملے میں بہت آگے جاچکی ہے، ہم ان ممالک کی پرانی "ای وی گاڑیوں” کی ٹیکنالوجی کو خوشی خوشی گلے کا ہار بنانے پر تلے بیٹھے ہیں۔
ویسے تازہ گڑبڑ یہ بھی ہے کہ چار سال پہلے جب ہمیں ہنگامی طور پر خود کو شمسی توانائی پر منتقل کرنا شروع کردینا چاہئے تھا۔ ہم الٹا اس پر بیس پچیس فی صد ٹیکسز لگاکر بیٹھ گئے۔ اور اس دوران نہ تو ہم نے کوئی بہت اچھی ٹیکنالوجی پاکستان میں در آمد کی اور نہ لوگوں کو سبسڈی دی بلکہ ہم شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی کرتے رہے۔ وہ تو اللہ بھلا کرے وسط سن 2022 میں جب کسی کے بچوں کے پاس کمانے کے لئے کوئی بڑا کام نہیں تھا اور دنیا بھر میں یہ ٹیکنالوجی متروک ہورہی تھی۔ ہم نے اپنی پالیسی تبدیل کی اور اب پھر یہ سب شمسی سیلوں کا کچرا (جو بہرحال اچھا ہی ہے) پھر ہمارے دروازے پر پڑا ہے۔
کچھ کچھ یہی معاملہ ہے کہ دنیا الیکٹرک وہیکلز سے ایک قدم آگے جاکر پٹرول، ڈیزل اور بیٹریوں کو بھولتے ہوئے ہائیڈروجن (بطور ایندھن) پر منتقل ہو رہی ہے۔ اور ہم "اب”، الیکٹرک وہیکلز کے دیوانے ہورہے ہیں۔ منیر نیازی نے اپنا مشہور شعر پوری پاکستانی قوم کے لئے ہی کہا تھا۔
"ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں "۔
اب اس تمہید کے بعد بات کرتے ہیں ہائیڈروجن بطور ایندھن کی۔
کسی زمانے میں لکڑ ی،کوئلہ یامٹی کا تیل مقبول ایندھن تھا۔ پھر پٹرول، ڈیزل اور قدرتی گیس آئے۔ اس میں ایل پی جی، سی این جی اور ایل این جی کی ورائٹی بھی آئی۔ الیکٹرک چولہے آئے۔ اور بہت کچھ کے بعد اب ہائیڈروجن فی الوقت مستقبل کا ایندھن ہے۔
کسی پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال بھی آسکتا ہے کہ ہائیڈروجن ہی کیوں ! جب کہ شاید یہ عام یا سستی بھی نہیں ، اس میں کچھ خطرات بھی ہیں اور ساتھ اس کی گاڑیاں یا استعمال کی اشیاء بھی اتنی سستی نہیں۔ اور پھر پرانے چولہوں اور گاڑیوں کا کیا ہوگا؟
پہلے دیکھتے ہیں کہ ہائیڈروجن سے آج کل دنیا بھر میں کیا کیا ہورہا ہے!
پھر ہم جانیں گے کہ کیوں ہورہا ہے؟
ہائیڈروجن (بطور ایندھن) کے معاملے میں سب سے زیادہ تو شہرت گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں کی ہے۔ یعنی ہائیڈروجن سے یہ سب چیزیں اسی طرح چل رہی ہیں جس طرح سو سال پہلے کوئلے سے اسٹیم انجن چلتے تھے۔ پھر ڈیزل ، پٹرول کے انجن آئے۔ الکحل اور قدرتی گیس کی کٹس آئیں جن کے نصب کرنے سے پٹرول انجن ان ایندھن کے ذریعے چلنے لگے۔ اس دوران الیکٹرک موٹر آگئی جس کے ذریعے گاڑی میں ایندھن کی بجائے بیٹری رکھ دی گئیں جو ان موٹروں کو چلاکر گاڑیوں کو حرکت دینے لگیں۔ تو ظاہر ہے انسان وقت کے ساتھ ساتھ ایندھن میں تبدیلی لا رہا ہے۔
دنیا بھر میں سب سے زیادہ چین میں ہائیڈروجن گاڑیاں استعمال ہورہی ہیں اور دنیا بھر میں پٹرول، سی این جی اسٹیشن اور الیکٹرک چارجنگ اسٹیشن کی طرح چین کے گلی محلوں میں بھی ہائیڈروجن یا "ایچ ٹو”، اسٹیشن موجود ہیں۔ جاپان اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یاد رہے یہ ممالک اب انتہائی ترقی یافتہ اور امیر ممالک ہیں اور وہاں مسئلہ ہماری طرح سستی سواری نہیں ۔
ہم ہر معاملے میں پڑوسی انڈیا کی طرف دیکھتے ہیں اور وہاں الیکٹرک وہیکلز کے بعد ہائیڈروجن گاڑیاں اور فلنگ اسٹیشن بھی متعدد شہروں میں اب بکثرت موجود ہیں جو قابل خرید رقم کے عوض ہائیڈروجن گاڑیوں میں "ایچ ٹو” بھر رہے ہیں۔
ہائیڈروجن کیوں؟ کا سوال اب بھی باقی ہے۔ لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ انڈیا میں اس وقت ایک کلو ہائیڈروجن کی قیمت لگ بھگ 300 انڈین روپے فی کلو گرام (ایک ہزار پاکستانی روپے) ہے۔ وہاں کی حکومت نے اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہائیڈروجن بنانے والے کمپنیوں کو 30 روپے فی کلو کی سبسڈی دینے کا بھی اعلان کیا ہوا ہے۔
اوہ ! یہ تو میں نے ایک اہم راز تھا جو وقت سے پہلے کھول دیا۔
لکڑ ی، کوئلہ، مٹی کا تیل، پٹرول، ڈیزل، قدرتی گیس، ایل پی جی، سی این جی اور ایل این جی میں سے کوئی بھی ایندھن، انسان، لیبارٹری یا کمرشل پیمانے پر نہیں بناسکا۔ قریب ترین جو چیزیں بطور ایندھن انسان سامنے لاسکا وہ زراعت سے منسلک تھیں۔ ایتھانول یعنی الکحل اور مختلف خوردنی تیل مثلاً مکئی یا پام آئل۔ جن کے تیل کو گاڑیوں میں (یا جلانے کے) لئے استعمال تو کیا گیا۔ لیکن یہ اتنے سستے پھر بھی نہیں تھے۔
دوسری طرف ہائیڈروجن کو کمرشل پیمانے پر بنانا ممکن اور بہت آسان ہے۔ سستا یا مہنگا، یہ ایک الگ سوال ہے۔
دراصل ترقی یافتہ ممالک کو یہ احساس بہت پہلے ہوچکا تھا کہ زمین سے نکلنے والا تیل اور گیس زیادہ عرصے تک استعمال نہیں ہوسکتا۔ اس لئے متبادل ایندھن کے ذرائع پر ترقی یافتہ ممالک کے سائنس داں (جو ظاہر ہے ہمارے نوکر ہیں) ان ہوں نے ہمارے لئے راتیں کالی کرکے کئی متبادل پیش کئے جن میں اب سب سے زیادہ قابل قبول ہائیڈروجن ہے۔
اس کے علاوہ ترقی یافتہ ممالک کے سائنس دان زمین پر بسنے والے ہم معصوم پاکستانیوں کے لئے نت نئے مسائل بھی ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ 1985 میں کسی پاگل نے بتایا کہ بالائی زمین کی اوپری فضاء میں (زمین سے 35 کلومیٹر اوپر (یعنی سوا سے ڈیڑھ لاکھ فٹ)) قدرت نے زمین کے گرد ایک حفاطتی "جھلی” یا پردہ بنا رکھا ہے۔ جسے "اوزون کی تہہ” کہا گیا (اس میں شگاف ہوگیا ہے اور وقت کے ساتھ یہ شگاف بڑا ہورہا ہے)۔ بقول ان لوگوں کے اس حفاظتی تہہ کا فائدہ یہ تھا کہ سورج میں جو نیوکلیائی دھماکے ہورہے ہیں۔ اس کی گرمی یعنی دھوپ کے ساتھ ساتھ مختلف نقصان دہ شعاعیں بھی زمین اور دوسرے سیارچوں پر جارہی ہوتی ہیں اور ہم ان کو دھوپ کے برعکس اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے۔
نظر نہ آنے والی شعاعیں دو طرح کی ہوتی ہیں۔ بالائے بنفشی یعنی الٹرا وائلٹ اور انفرا ریڈ یعنی زیریں سرخ۔
کہا جاتا ہے کہ سورج سے ہم تک آنے والی شعاعوں میں ہم محض 44 فی صد کو دھوپ کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح محض تین فی صد بالائے بنفشی یعنی الٹرا وائلٹ (یو۔وی) ہوتی ہیں اور باقی 53 فی صد انفرا ریڈ یا زیریں سرخ شعاعیں ہوتی ہیں۔
انفراریڈ زیادہ نقصان دہ نہیں ہوتیں۔ بہت زیادہ سامنا کرنے سے زیادہ سے زیادہ آنکھوں میں موتیا ہوسکتا ہے یا آنکھوں کی بینائی کھو سکتی ہے۔ (پرانے ٹی وی کمپیوٹر کی اسکرین اور بہت سارے آلات جن سے انفرا ریڈ خارج ہورہی ہوں۔ اسی لئے ان کے ماخذ کو زیادہ دیر تک نہیں دیکھنا چاہئے)۔
الٹرا وائلٹ میں بھی تین قسم کی درجہ بندی ہوتی ہے۔ ایک "سی ٹائپ” جو اوزون تہہ مکمل طور پر جذب کرلیتی ہے یا خلاء میں ان کا رخ کسی اور طرف موڑ دیتی ہے۔ باقی دو اقسام نہ صرف انسانی جلد (سکن) کو نقصان پہنچا کر سکن کینسر کا سبب بنتی ہیں بلکہ مختلف پودوں، درختوں کو بھی تباہ کردیتی ہیں۔ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کی وجہ سے بعض اوقات پودوں کو پانی دیں یا نہ دیں وہ جل کر سوکھ جاتے ہیں۔ یعنی الٹرا وائلٹ شعاعوں کا ایک بڑا نقصان خراب فصل اور قحط کی شکل میں نکلتا ہے۔
یہاں ایک دل چسپ بات کہ انسان بے شک الٹرا وائلٹ شعاعوں کو نہیں دیکھ سکتے مگر مختلف اڑنے والے کیڑے جیسے تتلیاں، بھنورے، ٹڈے، شہد کی مکھیاں وغیرہ: کچھ پرندے جیسے "ہمنگ برڈ او ر مور” ساتھ چوہے اور بارہ سنگھے کی نسل کے چوپائے ان شعاعوں کو دیکھ سکتے ہیں اور ان کے خطرات کو بھی سمجھتے ہیں۔ اسی لئے ایسے مقامات جہاں یہ جاندار یا حشرات آرام سے رہ رہے ہوں وہاں یہ یقینی سمجھا جاسکتا ہے کہ خطرناک شعاعیں موجود نہیں ہوں گی یا ان کے مضر اثرات کم ہوں گے۔ (پاکستان کے صحرائی علاقوں میں یکایک موروں کے مرنے کی تعداد کئی سال سے بڑھتی جارہی ہے۔ یہ بھی ممکنہ طور پر اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے)۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ بہت اہم بات ہے کہ قیامت کی چند نشانیوں میں سے دو نشانیاں ان ہی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے متعلق ہیں۔ جو 1450 سال پہلے شاید سمجھ نہ آتی ہوں لیکن آج ان کا سمجھ میں آنا آسان ہے۔
کہاجاتا ہے کہ قیامت سے پہلے شہد کی مکھیاں، بھنورے اور ٹڈے زمین سے ناپید ہوجائیں گے۔ ویسے تو جس طرح سبزہ اور جنگلات زمین سے ختم ہورہے تھے اس کو سمجھنا آسان ہے کہ جب پھول پودے ہی نہیں ہوں گے تو یہ شہد کی مکھیاں، بھنورے اور ٹڈے کیسے رہیں گے۔ بلکہ آئن اسٹائن سے منسوب ایک قول بہت مشہور ہے کہ اگر دنیا سے شہد کی مکھیاں ختم ہوجائیں تو انسان کو ختم ہونے میں محض تین چار سال لگیں گے (پودوں اور درختوں کی پولی نیشن نہ ہونے کے سبب)۔
اور اوزون کے شگاف سے بہ آسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر وہ الٹرا وائلٹ شعاعیں جو ابھی زمین تک نہیں آرہیں یا حشرات کے لئے قابل برداشت مقدار میں آرہی ہیں اگر ان کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ گئی تو انسان تو کسی نہ کسی طرح "اینٹی سن برن” کریمیں لگا کر کام چلالے گا لیکن یہ حشرات اور جان دار کہاں جائیں گے؟ یعنی مارے جائیں گے اور یوں دنیا سے انسان کے جانے کا وقت آجائے گا۔
اسی طرح قیامت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ جب پہاڑ اڑ جائیں گے اور "سمندر / دریا کا پانی (آگ بن کر ) ابلنے لگے گا”۔ یہ بھی اوزون شگاف اور ایک دوسرے مسئلے، فضاء میں بڑھتی ہوئی "گرین ہاؤس گیسوں” کا شاخسانہ ہوسکتا ہے (آگے آئے گا)۔
بہرحال 1985 میں جیسے ہی سائنس دانوں کو اوزون کے بڑھتے شگاف کا پتہ چلا ان ہوں نے خود ہی نتیجہ اخذ کرلیا کہ ترقی یافتہ ممالک عرصے سے فرج اور مختلف اسپرے (جیسے باڈی اسپرے) میں جو "کلورو فلورو یا سی ایف ایل” گیسز استعمال کررہے تھے۔ چوں کہ یہ ہوا سے ہلکی تھیں تو نہ صرف فضا ء میں اوپر جا کر اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچارہی تھیں بلکہ ان گیسوں میں موجود کلورین فضاء میں موجود ہائیڈروجن سے مل کر ہائیڈرو کلورک ایسڈ (نمک کا تیزاب) بھی بنارہی تھی۔ جو بھاری ہونے کے سبب زمین پر براہ راست یا تیزابی بارش کے ساتھ واپس آجاتا تھا۔ اور چوں کہ زمین کا 75 فی صد سمندر ہے تو یہ تیزابی بارش سمندروں میں براہ راست تیزابیت بڑھا رہا تھا۔ جس سے دنیا بھر کے سمندر بھی گرم ہورہے تھے۔ بڑھتے درجہ حرارت اور تیزابیت کی وجہ سے سمندری حیات بھی مرنے لگی، جس میں مچھلیاں ہی نہیں سمندری پودے اور کورل / مونگھے بھی شامل ہیں، جو سمندری جاندار یعنی مچھلیوں، جھینگوں اور کیکڑوں کی افزائش کے لئے ضروری ہیں۔ اور یوں قدرت کا بنایا ماحولیاتی چکر خراب ہو رہا تھا۔ 75 فی صد گرم سمندر کے اثر سے دنیا کا درجہ حرارت بھی بڑھنے لگا، گلیشیئر جلد پگھلنے لگے اور یوں سیلاب کے علاوہ سمندروں میں پانی کی مقدار بھی بڑھنے لگی۔
بہرحال ان سائنس دانوں نے رو رو کر ان خطرناک گیسوں ( کلورو فلورو کاربن یعنی سی ایف سی) سے دنیا کی جان چھڑائی۔ پاکستان میں بھی ہرجاء یہ گیسیں ممنوع ہیں لیکن چوں کہ سستی ہیں اس لئے اب بھی ہمارے ریفریجریٹر، ڈیپ فریزر اور ایئر کنڈیشنر کے کمپریسروں میں مکینک حضرات خوشی خوشی بھر رہے ہوتے ہیں۔ ویسے بھی موت کا ایک دن معین ہے۔ قیامت نے تو آنا ہی ہے تو اوزون شگاف کی جھنجھٹ کا ہم پاکستانیوں سے کیا تعلق !
1985 کے بعد ماحول دشمن گیسوں کے کم استعمال کی وجہ سے اوزون تہہ میں بنتے شگاف کو کسی حد تک کم کرلیا گیا۔ مگر بیس پچیس سال بعد پھر کسی پاگل نے ایک اور نیا شگوفہ چھوڑا کہ اوزون کی تہہ کو قابل قدر نقصان اب بھی پہنچ رہا ہے اور زمین کا درجہ حرارت بھی بدستور بڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ ان لوگوں نے اب متعدد گیسوں کو قرار دیا۔ جن میں کاربن ڈائی آکسائڈ، قدرتی گیس (میتھین)، خود "اوزون گیس”، نائٹرس آکسائیڈ، وہی سی ایف سی گیسیں اور مخصوص حالات میں آبی یعنی پانی کے بخارات بھی شامل ہیں۔ ان گیسوں کو "گرین ہاؤس گیسیں” قرار دیا گیا۔ گرین ہاؤس کی اصطلاح سرد ممالک میں استعمال ہوتی ہے اس لئے پاکستانیوں کو آسانی سے سمجھ میں نہیں آئے گی۔ بس یہ سمجھ لیں کہ (ٹریفک کی ہری بتی کے برعکس) گرین ہاؤس گیسیں نقصان دہ ہوتی ہیں۔ کیوں کہ یہ گیسیں، گرمی چوس گیسیں ہیں (یعنی دھوپ کو خود میں جذب کرلیتی ہیں)۔ لیکن اس سے کیا ہوتا ہے؟
چوں کہ گرین ہاؤس گیسیں زمین کی اوپری فضاء میں جاکر جمع ہوجاتی ہیں۔ اور دن بھر میں جب سورج اپنی دھوپ ہماری طرف پھینک رہا ہوتا ہے۔ یہ گیسیں آنے والی دھوپ کو ہم تک پہنچنے سے پہلے خود میں جذب کرلیتی ہیں۔ بے شک معمولی مقدار میں۔ اب اصل مشکل رات میں شروع ہوتی ہے۔ سورج کی عدم موجودگی میں رات کو قدرے ٹھنڈا ہوجانا چاہئے۔ مگر یہی گرین ہاؤس گیسیں جن ہوں نے دن بھر دھوپ کی تپش جذب کرلی تھی اب رات کو یہ اضافی تپش ہماری زمین پر گرمی کی شکل میں بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں سرد ممالک کو تو زراعت میں فائدہ ہورہا ہے۔ لیکن گرم ممالک کو اس کا نقصان پہنچ رہا ہے۔کیوں کہ پاکستان انڈیا یا افریقی ممالک کی فصلیں / زمین اس اضافی گرمی کو برداشت نہیں کرسکتیں۔ یوں اس ماحولیاتی تباہی کا شکار وہ نہیں جو گرین ہاؤس گیسیں خارج کررہے ہیں بلکہ اس کا نشانہ ہم جیسے معصوم ممالک ہیں۔
اب ان سائنس دانوں کو دو تکالیف کا سامنا تھا۔
ایک زمین کے گرد حفاظتی اوزون تہہ میں بڑھتا شگاف اور دوسرا زمین کے اطراف میں موجود بڑھتا ہوا درجہ حرارت (جس کی وجہ سے زمین دن بدن گرم ہوتی جارہی ہے) اور اس کے نتیجے میں گلیشیئرز کا پگھلنا، آبی حیات اور زراعت کو نقصان کے ساتھ سیلاب اور قحط کا بڑھنا شامل ہے۔ جس کی وجہ وہی گرین ہاؤس گیسیں قرار دی گئی ہیں (جن میں کاربن ڈائی اکسائڈ اور میتھین یعنی قدرتی گیس کا حصہ سب سے زیادہ ہے)۔
ظاہر ہے ہر انسان اور چوپائے ہوا سے آکسیجن لیتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کرتے ہیں۔ تو کیا چھ سات ارب انسان سانس لینا بند کردیں؟ بلکہ ان سائنس دانوں کو ایک اور مشکل نظر آئی کہ دنیا بھر کے ڈیری فارم میں موجود دودھ دینے والی اربوں (بالخصوص) گائیں جب کھانا کھا کر ڈکار لیتی ہیں تو کاربن ڈائی آکسائڈ کے ساتھ میتھین گیس (وہی چولہا جلانے والی سوئی یا گوبر گیس) بھی خارج کرتی ہیں جو فضاء میں جذب نہیں ہوتی اور ماحول کے لئے نقصان دہ ہے۔ بہرحال وہ اپنی مشکل سے خود نبٹیں۔
ویسے اس ڈکار کی مشکل کا توڑ ان ہوں نے سوکھی کی بجائے تازہ گھاس کھلانے میں ڈھونڈا ہے جس کی وجہ سے گائے کی ڈکار میں 30 فی صد کم میتھین پیدا ہوتی ہے۔
بہرحال کاربن گیسوں کا جب حساب کتاب لگایا گیا تو پتہ چلا، بڑے بڑے سیمنٹ، اسٹیل کے فرنس، کوئلے اور قدرتی گیس سے چلنے والے بجلی کے پلانٹ اور سب سے بڑھ کر قدرتی گیس اور تیل سے چلنے والے انجن (گاڑیوں، ٹرک، بس، ٹرین اور بحری جہاز سے لے کر ہوائی جہاز) اس کے سب سے بڑے ماخذ ہیں۔ ویسے تو ہم انسان بھی ہیں، لیکن اگر ہمارے ارد گرد پودے اور درخت موجود ہوں تو وہ فطرت کے بنائے نظام کے تحت ہماری سانس سے خارج کی گئی کاربن ڈائی اکسائیڈ کو دوبارہ آکسیجن میں تبدیل کردیتے ہیں۔
یوں 2010 میں دنیا بھر کے دو سو سے زائد ممالک نے مل بیٹھ کر قسمیں کھائیں کہ ہم اگلے بیس سال میں یعنی 2030 تک اپنے اپنے ممالک میں کاربن گیسوں کے اخراج کو 2010 کے مقابلے میں کم از کم 45 فی صد تک کم کردیں گے۔ اور 2050 میں اس معاملہ میں یہ اخراج صفر ہوجائےگا۔ ان لوگوں نے نہ صرف معاہدے پر دستخط کئے بلکہ اپنے اپنے ملکوں میں ایسی پالیسیاں بھی اپنائیں کہ جن سے نہ صرف ڈیزل، پٹرول، کوئلہ، لکڑی اور قدرتی گیس کے استعمال کو کم کیا جاسکے بلکہ زراعت، پودوں اور درختوں کی تعداد کو جتنا ممکن ہو سکے ان میں اضافہ کیا جائے تاکہ جو تھوڑی بہت کاربن ڈائی آکسائڈ انسانوں کی وجہ سے پیدا ہورہی ہے وہ ان پودوں اور درختوں سے ہی مل کر صفر ہوجائے۔ ان ممالک میں اب بڑی بڑی عمارات کی چھتوں، دیواروں، بالکونیوں اور باہری دیواروں پر پودے اور پھولوں والی بیلیں عام نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ اسی طرح متعدد افریقی اور غریب ممالک میں ایسے چولہے متعارف کرائے گئے ہیں جو بہت کم لکڑی یا کوئلے کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ حرارت کو استعمال کرسکیں یا اضافی تپش کو ٹریپ / ذخیرہ کرلیں۔ اس چولہوں کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بھی کم ہوتی جائے گی اور صارف کا خرچہ بھی کم ہوجائے گا۔
اس کے علاوہ ترقی یافتہ ممالک نے اربوں ڈالر کا ایک فنڈ بھی بنایا اور ہر ملک، کمپنی (جو ان سے منسلک ہے) کو یہ لالچ دیا کہ وہ جتنی کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد کریں گے ان کو اتنی زیادہ امداد ملے گی۔ اسے "کاربن کریڈٹ” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک الگ کہانی ہے۔ (جاری ہے)


