سلہٹ کا الو


سلہٹ کا ضلع قدرت کا حسین انعام تھا جو تقسیم ملک کے وقت ہمیں ملا۔ آسام کے پہاڑوں کے دامن میں یہ انتہائی شاداب علاقہ باقی بنگال سے مختلف ہے۔ آبادی بھی کم گنجان۔ چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں جو جنگلات سے ڈھکی ہوئی یا چائے کے باغات یا بانس کے جھنڈ اور سنرما دریا اور دوسری ندیاں سردی میں خوبصورت سبز پانیوں کو کھیتی ہوئی دریائے میگھنا کی جانب رواں دواں۔ اس پرفسوں ماحول پر ایک پر اسرار خاموشی کا غلاف۔

یہ 1969 کے اوائل کی بات ہے ہم تین لفٹننٹس کو کومیلا سے سلہٹ (فاصلہ قریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر) مجاہدوں کی ٹریننگ کے لیے بھیجا گیا۔ ہمارے حصہ میں جینتیا پور آیا جو سلہٹ سے آسام جانے والی سڑک پر عین بارڈر پر واقع ایک خوبصورت سی بستی تھی۔ محمود گیلانی کو ذکی گنج ملا اور انور کو چھاتک۔

جینتیا پور میں ایک چھوٹا سا ریسٹ ہاؤس ہمارے خوب کام آیا۔ علاقے کے لوگ بھی ملنے آ جاتے تھے۔ عین بارڈر پر واقع ایک چھوٹے سے چائی باغان کے پنڈی وال مالک رشید صاحب بھی تھے۔ یہیں ایک ابھرتا ہوا نوجوان بدر بھی ملا جو راجشاہی کیڈٹ کالج میں پڑھتا تھا۔ نہایت تمیز دار اور خوش خیال لڑکا تھا۔ رابطہ نہیں رہا مگر یقین ہے کہ فوج یا سول میں اعلیٰ عہدے پر پہنچا ہو گا۔ وہ ہمارا لوکل گائیڈ بھی تھا۔ اس کی ہمراہی میں ہم نے سارے علاقے کی ”ریکی“ کی اور قدرت کے عجب نظارے دیکھے۔ ایک ٹیلے سے آسام کا شہر چراپونجی نظر آتا ہے جہاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔ اس ٹیلے پر ایک چھوٹا سا پرانا ریسٹ ہاؤس بھی ہے اس کا راستہ ڈھلوان سے ہو کر جاتا ہے جو بمشکل جیپ جتنا چوڑا ہے۔ اور پھر اس روز تو بارش بھی زبردست ہو رہی تھی۔ ُچراپونجی وہیں امڈ آیا تھا۔ صورتحال دیکھ کر ڈرائیور لانس نائک عابد کچھ پریشان دکھا۔ میں نے سوچا کہ اگر پیچھے ہٹ گئے تو افسری کیسی۔ چنانچہ میں نے اللہ کا نام لے کر وہیل سنبھالا اور فور بائی فور لگا کر آدھا کلچ دبا کر جو ریس دی تو گاڑی آگے کو کھسکی۔ کلچ چھوڑ کر ریس زیادہ کر دی تو وہُ نیک بی بی راضی ہو گئی۔ اور آسانی سے چڑھائی چڑھ گئی۔ کوئی اور فائدہ تو کیا ہونا تھا ڈرائیور کا اعتماد بحال ہو گیا اور بدر کہنے لگا آج میں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ آرمی میں جاؤں گا۔

بدر کے ہمراہ بارڈر کے ساتھ کا سارا علاقہ دیکھ مارا۔ ایک چھوٹا سا جنگل بہت اچھا لگا۔ اونچے اونچے پرانے درخت تھے۔ سبزہ پھوٹا پڑ رہا تھا۔ بارڈر کے پار فوراً ہی اونچے پہاڑوں کی ڈھلوان شروع ہو جاتی تھی جو منظر کو اور بھی دلفریب بنا دیتی تھی۔

سلہٹ میں ایک بہت اچھا چائنیز ریسٹورنٹ تھا جس کا کھانا واقعی چائنا کا تھا اور صفائی ستھرائی اور عملے کے اخلاق کے لحاظ سے بھی خوب تھا۔ چنانچہ ہم تینوں وہاں اکٹھے ہو کر پھر کسی تیسری جگہ کو جاتے تھے۔ اُس دن انور آیا ہوا تھا۔ کہنے لگا آپ کا علاقہ دیکھتے ہیں۔ جینتیا پور جا کر وہ چھوٹا سا جنگل نہ دیکھیں یہ تو ہو نہیں سکتا تھا۔ چنانچہ انور کو اپنے باقی علاقے کی ریکی کرا کر اُس جنگل میں لے گئے۔ جیپ کافی دور کھڑی کرنا پڑی درختوں کی ”چھان بین“ کرتے کرتے میری نظر ایک بڑے سے پرندے پر پڑی جو ایک درخت کی چوٹی سے کچھ نیچے بیٹھا تھا۔ میں نے انور کو دکھایا تو اُس نے جلدی سے ٹوٹو رائفل میرے ہاتھ سے لے لی۔ اور نشانہ تاک لیا۔ مجھے اس کا افسوس ہوا کیونکہ ٹھیک ہے رائفل تو اُسی کی تھی لیکن شکار تو میں نے تلاش کیا تھا اور پھر میں سینئر بھی تھا۔ ادب آداب کے لحاظ سے مجھ سے اجازت لے کر نشانہ لینا چاہیے تھا۔ اسی رنج میں تھا کہ وہ پرندہ اپنی جگہ سے اُڑا اور ایک قریبی درخت پر جا بیٹھا۔ میں نے وہ جگہ خوب تاڑ لی۔ انور تھوڑی دیر کوشش کرتا رہا لیکن جب پرندہ نظر نہ آیا تو مایوس ہو کر رائفل نیچے کر لی۔ اب کمینگی کی میری باری تھی میں نے بھی بتا کر نہ دیا۔ انور چلنے لگا تو میں نے ہاتھ بڑھا کر اُس سے رائفل پکڑ لی جو اُس نے بادل نخواستہ دے دی مگر ساتھ ہی کہنے لگا سر خیال رہے گولیاں تھوڑی سی ہی ہیں۔

میں نے نشانہ لے کر گولی چلا دی۔ ایک بڑا سا پرندہ درختوں کی نرم شاخیں توڑتا ہوا میرے قریب آ گرا اور اپنے پنجوں کے بل پھدکنے لگا۔ یہ الو تھا۔ اس کا وزن کوئی ایک من تو ہو گا ہی۔ سب سے حیرت انگیز چیز اُسکی آنکھیں تھیں جو بلا مبالغہ ٹینس بال کے برابر تھیں۔ چونچ بڑی سی تھی۔ پنجوں کے گرد کی کھال گدھوں کی طرح ڈھیلی ڈھیلی تھی۔

ہم نے اندازہ لگایا اس کی عمر سو سال سے کم نہیں تھی۔ آنکھوں میں دو تین رنگ تھے۔ اور اب کرب کے آثار تھے جو ظاہر ہے درد کی وجہ سے تھے۔ فوراً ہی ہمیں افسوس بلکہ دکھ ہونے لگا کہ ہم نے قدرت کے ایک حسین تحفے کو منٹوں میں ختم کر دیا۔ جس خوبصورت چیز کو بنانے میں قدرت کو سو سال سے زیادہ لگے تھے اُسے ہم نے اپنی حماقت سے کھو دیا۔ الو کی آنکھ میں اب ایک التجا تھی مدد کی۔ اور ہم اُس سے لاچار تھے۔ ڈر کر بہت قریب نہیں جا رہے تھے کہ اُسکی چونچ جہاں پیوست ہوتی وہاں سے پاؤ بھر گوشت تو ضرور اتار لیتی۔ اور دوسرا طریقہ یہ تھا کہ اُسے ہسپتال میں لے جایا جاتا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا اُسکی چونچ اور پنجوں سے بچ کر اُسے کیسے لے جایا جائے۔ ایک طریقہ تھا کہ اُس پر ایک کمبل ڈال کر اُسے ”گرفتار“ کیا جائے اور پھر لے جایا جائے۔ لیکن آدمی کے کیمپ جانے اور کمبل لانے تک بہت دیر ہو جاتی اور اُلو صاحب پھدکتے پھدکتے بارڈر کراس کر جاتے تو اور ہی مسئلہ بن جاتا۔ اب اصول کے مطابق ہمیں اُسے دوسری گولی مار کر اس اذیت سے نجات دلانی چاہیے تھی۔ لیکن تب تک ہماری شرمندگی اور الو کی بیچارگی نے ہمارے دل میں اُسکے لئے جو ہمدردی پیدا کر دی تھی۔ اُس نے ایسا بھی نہ کرنے دیا۔ کچے شکاری تو ہم تھے ہی۔

چنانچہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ الو صاحب کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ آخر قدرت نے بھی کوئی نظام رکھا ہو گا ایسے ایمرجنسی معاملات کے لئے۔ اپنے طور پر ہم نے کفارے کا یہ طریق سوچا کہ آئندہ شکار سے توبہ کر لی جائے۔ اور واقعی اس کے بعد ہم نے کوئی شکار نہیں کیا سوائے چند ایک تیتروں چکوروں کے۔ دوسرا فیصلہ ہم نے یہ کیا کہ انور کو اُسکی ”گستاخی“ کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ چنانچہ سزا کے طور پر اُسے کھاسیا بستی نہیں دکھائی جائے گی۔ چنانچہ رشید صاحب سے دعا سلام کروا کر اُسے رخصت کیا۔ دل میں ابھی تک اُلو کے واقعہ کا خیال اور ملال تھا۔

کھاسیا بستی کی کہانی یوں ہے کہ کھاسیا قبیلہ آسام کی پہاڑیوں پر رہائش پذیر ہے لیکن اُن کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا سلہٹ میں بھی آ گیا ہے۔ اِن کے ہاں عورت خاندان کی سربراہ ہوتی ہے اور عام امور خود نمٹاتی ہے۔ مرد کا کام بچوں کی دیکھ بھال اور گھر کی صفائی سُتھرائی ہے۔ شادی کے وقت خاوند سے ایک چونی لیتی ہے جو واپس کرنے کا مطلب طلاق ہے اور خاوند کو گھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ ایسٹ پاکستان رائفلز کے ایک صوبیدار ملنے آئے تو کہنے لگے آپ ان کی بستی ضرور دیکھیں۔ جو باتیں اُس نے بتائیں اُن سے میرا اشتیاق بھی بڑھا اور ایک دن ہم کھاسیا بستی دیکھنے چلے گئے۔

آسام کی اُونچی پہاڑیوں سے ایک نالہ سلہٹ میں داخل ہوتا ہے تو خوب پھیل جاتا ہے۔ اور یہاں پانی اپنے ساتھ ایک نایاب دولت لے کر آتا ہے۔ وہ ہیں پتھر اور سنگ ریزے۔ کیونکہ ایسٹ پاکستان میں اور کہیں بھی پتھر نہیں پایا جاتا تو یہ بے حد قیمتی چیز بن جاتی ہے۔ اور حسب معمول اِس کی تجارت پر بھی ایک انگریز کمپنی قابض ہے۔ اس نالے کے چوڑے پاٹ میں بانسوں سے تعمیر شدہ چند گھر تھے۔ اتفاق سے ”ہاٹ“ (بازار) کا دن تھا اور خوب چہل پہل تھی۔ صوبیدار صاحب ہمیں ان کی پوری بستی اور بود و باش دکھانے پر مصر تھے۔

گھر تین چار سیڑھی کی بلندی پر بنے ہوئے تھے۔ نیچے بکریوں اور جانوروں کے لیے رہائش تھی۔ صوبیدار صاحب تو دندناتے ہوئے ان کے گھروں میں گھستے رہے اور ہمیں بھی بلا کر ہر شے دکھانے پر اصرار کر رہے تھے۔ ہم ویسے ہی کچھ شرمیلے واقع ہوئے ہیں اور صاف گندمی رنگ کی نیم ملبوس خواتین کو تو ہم سے ملنے میں کوئی عار نہ تھی لیکن ہم گھبرائے گھبرائے ان کے صاف ستھرے گھروں پر کیچڑ بھرے فوجی بوٹ رکھنے سے خود ہی شرمندہ ہو رہے تھے۔ جابجا یعنی ہر گھر میں ایک آدھ آدمی بچے کھلاتا نظر آتا جو ہم سے نظریں چار ہونے پر کھسیا جاتا اور ہمارے سلام کا جواب بھی مشکل سے دے پاتا۔ جانوروں کی دیکھ بھال، بچوں کی نگہداشت، کھانا پکانے کے علاوہ کپڑے دھونا اور صفائی کا کام بھی اسی کے ذمے تھے۔ ہم ان کھاسیا خواتین کی انتظامی صلاحیتوں کے قائل ہو گئے۔ ہم سے تو ایک صفائی والی ماسی ہی قابو نہیں آتی۔ ایک آدھا باتھ روم بغیر صفائی کیے چھوڑ جاتی ہے۔ یہ خواتین ہوتے ہوئے ان ”مشٹنڈوں“ سے کام لے لیتی تھیں۔

ہاٹ میں سبزی، فروٹ، اجناس کی خرید و فروخت ہو رہی تھی۔ ایک دم سے دیکھا تو ایک سوا چھ فٹ کا متناسب جسم کا سرخ و سپید شخص سر پر لنگی باندھے، شملہ کمر تک لٹکائے نظر آیا۔ ہم پہلی نظر میں پہچان گئے کہ آفریدی پٹھان ہے۔ وہ ہمیں دیکھتے ہی تیزی سے ایک گلی میں مڑ گیا۔ ہم نے صوبیدار صاحب کی طرف دیکھا۔ کہنے لگے سر اس کو بھی ایک کھاسی نے چونی لے کر گھر میں ڈالا ہوا ہے۔ تو پھر سودی کاروبار تو ہوتا ہو گا۔ سر کچھ نہ پوچھیں، ساری بستی اس کی مقروض ہے۔ لیکن یہ بتائیں کہ ان لوگوں کا ذریعہ آمد کیا ہے؟ کہنے لگے ان سب کی کنال یا دو دو کنال زمین ہے جس میں سپاری کے درخت لگائے ہوئے ہیں اور ان پر پان کی بیلیں چڑھائی ہوئی ہیں۔ تو یوں کہیں کہ ہمارا کراچی تو انہوں نے سنبھالا ہوا ہے۔ جی سر بالکل۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ خود نہ پان کھاتے ہیں نہ سپاری چباتے ہیں! بس انہی درختوں سے تیس چالیس ہزار سالانہ (اس زمانے میں ) کما لیتے ہیں۔ حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ بعد میں ہم نے یہ چھپا ہوا خزانہ اپنے دلی دوست محمود گیلانی کو تفصیل سے دکھایا جو اس کے لیے انتہائی مسرت اور فرحت کا باعث ہوا۔

ایک دن گیلانی کی دعوت پر ذکی گنج گئے۔ وہاں اس نے نہایت لذیذ مچھلی کھلائی۔ ایک مزے کا واقعہ جو وہاں پیش آیا۔ وہ یہ کہ سڑک کے قریب دریائے سنرما کی ایک شاخ آ پہنچتی تھی۔ جیپ کھڑی کر کے ہم راج ہنسوں کا نظارہ کرنے لگے جو اس کھاڑی کے راستے سڑک کی طرف آ رہے تھے۔ شور مچاتے ہوئے اتنے قریب آ گئے کہ ہم سمجھے یہ لوگوں سے مانوس ہیں اور سوچنے لگے ان کو کھانے کو کیا ڈالیں۔ اتنے میں ان خوبصورت لم ڈھینگ پرندوں نے ایک تیز دوڑ لگائی اور ہمارے قریب آ کر جست لگا کر ”ٹیک آف“ کر گئے اور ہمارے سروں پر سے گزرے۔ یہ منظر اتنا خوبصورت تھا کہ ہم کچی سڑک پر سفر کی کلفت بھی بھول گئے۔ گیلانی کو سلہٹ کے چائنیز ریسٹورنٹ میں جمبو پرونز کھلانے کا وعدہ کر کے ہم رخصت ہوئے۔ واپسی پر ہم اتفاقاً ریڈیو اسٹیشن چلے گئے وہاں ایک مہربان نے ہمارے بڑے سپول والے ٹیپ ریکارڈر میں مہدی حسن کی گائی ہوئی فیض اور فراز کی غزلیں بھر دیں جو ہمیں بہت کام آئیں۔ سلہٹ میں کمال الدین صاحب معززین میں سے تھے۔ یہ بعد میں وزیر خارجہ بنے۔ نہایت سادہ گھر میں اور بے حد سادگی سے گزر بسر کر رہے تھے۔

بالعموم سلہٹ کے لوگ بے حد خلیق اور دوستانہ مزاج کے تھے۔ ان کی بڑی تعداد انگلینڈ جا آباد ہوئی ہے۔ گویا دوسرا میرپور ہے۔ لیکن روپے کی ریل پیل کے کوئی ظاہری آثار نہ تھے۔

بدر نے بتایا تھا کہ جینتیا پور میں ایک ہاتھی بھی ہے جو لکڑیاں ڈھونے کے کام آتا ہے۔ یہ بدر کے بہنوئی کا تھا۔ ہم ایک دن دیکھنے گئے۔ ہاتھی کا سائز تو اتنا خوش کن نہیں تھا لیکن اس نے سونڈ ٹیک کر جو سلام کیا تو پیارا لگا۔ ہم نے پانچ روپے کا نوٹ انعام کیا۔ مالک کوئی اسی پچاسی سالہ شخص تھا۔ اس نے ایک چھوٹی سی بچی کو کندھے پر بٹھا رکھا تھا۔ اسے بھی پانچ روپے دینے کے ارادے سے بدر سے پوچھا کہ یہ بچی اس کی پوتی ہے یا نواسی تو بدر نے شرماتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیٹی ہے۔ یعنی بدر کی بھانجی۔ ان لوگوں نے کھٹل کھلایا جو تربوز جیسا بڑا پھل ہوتا ہے لیکن کسی باریک سی بیل کے بجائے بڑے سے تن آور درخت کے تنوں پر لگا عجب لگتا ہے۔

جینتیا پور سے واپسی پر بہت سی مزے مزے کی یادیں ساتھ تھیں مگر الو والے واقعے کا افسوس ان پر غالب تھا۔ ابھی تک یہی کہتے ہیں کہ خدا کرے وہ بچ گیا ہو

Facebook Comments HS