کامریڈ شاداب مرتضیٰ کے نام
ارتقائی علوم اور سماجی تبدیلیوں کے حوالے سے ہمارا مضمون مورخہ 7 اکتوبر 2024 کو ’ہم سب‘ میں شائع ہوا۔ اشاعت کے کچھ ہی وقت بعد ہمیں مرتضیٰ کا وضاحت طلبی، تنقیدی یا محض ہماری درستی پر مبنی پیغام بذریعہ فیس بک موصول ہوا جسے ہم من عن نقل کر رہے ہیں۔
”ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ فطرت اور سماجی زندگی کے ارتقا کے اصول مختلف ہیں مگر دوسری طرف آپ ڈارون ازم کے ذریعے یعنی حیاتیاتی (فطرتی) ارتقا کے اصول کے ذریعے سماجی زندگی کے ارتقا کو سمجھنے کی بات کرتے ہیں! دوئم، مارکس کے نزدیک سماجی تبدیلی ارتقائی نہیں انقلابی عمل ہے اور فطرت اور سماج دونوں میں تبدیلی کے اصول بنیادی طور پر یکساں ہیں جسے مارکسی مکتبہ فکر میں جدلیاتی مادیت کے فلسفے میں بیان کیا جا چکا ہے۔ مارکس کے نزدیک ارتقائی اور انقلابی عمل ایک دوسرے سے کٹے ہوئے نہیں بلکہ باہم مربوط ہیں۔ ارتقائی تبدیلی کمیتی، مقداری تبدیلی ہے اور انقلابی تبدیلی کیفیتی، معیاری تبدیلی ہے۔ ہر طرح کی تبدیلی کا عمل ان دونوں عوامل کے ربط میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ یہ فطرت اور سماج دونوں میں کارگر ہے۔ ڈارون ازم کے ذریعے سماجی ارتقا کی وضاحت یعنی سوشل ڈارون ازم کا نظریہ تو بہت پہلے رد کیا جا چکا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام جو اس نظریے کا سب سے بھرپور اظہار ہے اس کی پھیلائی ہوئی سماجی تباہی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ ڈارون نے اپنی تھیوری کے ذریعے انسان کے سماجی ارتقا کی وضاحت نہیں کی بلکہ جاندار انواع کے فطری ارتقا کی یعنی جاندار فطرت (Organic Nature) کے ارتقا کی وضاحت کی ہے۔ سماجی ارتقا کی وضاحت مارکس نے“ تاریخی مادیت ”کے ذریعے کی ہے۔ گو اس نے ڈارون اور لامارک کا تقابلی جائزہ نہیں لیا تاہم اس نے ڈارون کے نظریے کی توصیف کے ساتھ ساتھ اس کی خامیوں پر بھی تنقید کی ہے“ ۔ (از شاداب مرتضیٰ)
پیغام پڑھنے کے بعد ہماری ذہنی کیفیات کچھ اس طرح سے تھیں کہ دوست ہماری تحریروں کو پڑھتے ہیں اور بغور پڑھتے ہیں جس سے خوشی اور حوصلہ ملنے کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی ہوا کہ ہمیں مزید محنت اور ریسرچ کے ساتھ لکھنے کی ضرورت ہے۔ ”ہم خدا لکھتے رہے اور وہ جدا پڑھتے رہے“ ایسی کوئی صورتحال نہیں بننی چاہیے۔ اس بات کی بھی خوشی علیحدہ سے ہے کہ عزیزم شاداب نے جو لکھا وہ ٹھیک لکھا البتہ چند وضاحتیں کرنا ضروری ہیں جن کی وجہ ہماری علمی نا پختگی یا انداز بیان کی کوتاہیاں ہو سکتیں ہیں۔ نشاندہی کے لیے ہم شاداب مرتضیٰ کے دوبارہ سے شکر گزار ہیں۔
کائناتی ارتقا، زمینی ارتقا اور زندگی کے ارتقا کے اصول واقعی مختلف ہیں۔ فطرتی اور سماجی ارتقا کے اصول مختلف ہیں یہ ہم نے نہیں لکھا۔ ہمارے مضمون کی ابتداء ہی اس جملے سے ہوتی ہے کہ سماجی تبدیلیاں ارتقائی اصولوں کے مطابق وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ یہاں مسئلہ محض ارتقائی نظریات اور سماجی نظریات میں مستعمل اصطلاحوں کا ہے مثال کے طور پر نوع کی اصطلاح خالصتاً ارتقائی نظریات میں عام ہے مگر سماجیات میں نوع کی اصطلاح مستعمل نہیں ہے۔ سماجیات میں نوع سے مراد کوئی ریاست، حکومت، انسانی گروہ، معاشرہ یا کسی ایک فرد سے بھی لی جا سکتی ہے۔ بقول ڈارون جو انواع حالات کا مقابلہ نہیں کر پاتیں معدوم ہو جاتی ہیں۔ سماجیات میں ہمیں بڑی بڑی سلطنتوں کا ذکر ملتا ہے جو مٹ گئیں۔ ان کے نابود ہونے کی وجوہات کی اگر کھوج کی جائے تو نتیجہ تقریباً یہی نکلتا ہے کہ وہ کسی بھی وجہ سے پیدا شدہ حالات کا مقابلہ نہ کر پائیں اور نابود ہو گئیں۔ اب یہی اصول کسی ایک عام آدمی پر بھی فٹ بیٹھتا ہے۔ کسی بھی وجہ سے کوئی فرد اگر اپنے معروضی حالات کا مقابلہ نہیں کر پاتا تو مایوسیوں کا شکار ہو کر بیمار پڑ جاتا ہے اور کچھ ہی عرصہ میں بولو رام کی جے ہو جاتی ہے۔ ڈارون کے نظریات پر ہمارا ایک دو تفصیلی کالم لکھنے کا پروگرام ہے اس لیے آج کے لیے ڈارون کا حوالہ بس اتنا ہی کافی ہے۔
انقلاب، سماجی تبدیلی اور ارتقا کو اگر علمی یا فکری بلندی سے دیکھا جائے تو یہ تمام ایک جیسی ہی یا ایک دوسرے میں مربوط چیزیں نظر آتی ہیں مگر جب انہیں زمین پر پریکٹس کیا جائے تو تینوں کی حرکیات یا میکانیات ایک دوسرے سے انتہائی درجے پر مختلف یا جدا ہوں گی۔ ہم عملی زندگی میں ان تینوں کو ایک ساتھ ملا کر معاملات کو گڈ مڈ کر لیتے ہیں جو کہ ایک بھیانک غلطی ہوتی ہے۔ ایسی غلطی کے بعد ہاتھی اور امرود میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
سوشل ڈارون ازم نہ تو کوئی نظریہ ہے اور نہ ہی تھیوری جس کی نہ کبھی پریکٹس کی گئی اور نہ ہی یہ کبھی رد ہوا۔ گالی یا اصطلاح کی حد تک بہت سے مفکرین نے اس کا ذکر تو کیا ہے مگر اس کی تفصیلات شاید کسی نے مرتب نہیں کیں۔ نظریہ ہمیشہ حقائق، مقاصد، طریقہ کار، خیالات، نقطہ ہائے نظر، منطق، حدود و قیود وغیرہ کا مربوط مجموعہ ہوا کرتا ہے۔ ماضی قریب میں End of History اور تہذیبوں کا تصادم جیسی عام سی تحریریں جن کا نہ منطق اور نہ ہی عقل سے تعلق تھا کو خاص پذیرائی ملی۔ کمزور ایمان کے لوگوں نے انہیں بھی فلسفہ اور نظریہ قرار دے کر اس پر یقین بھی کر لیا تھا۔ سنا ہے کہ فوکو یاما اپنی تحریر پر معافی کا طلب گار ہے لیکن یہ بات مصدقہ نہیں ہے۔ سوشل ڈارون ازم کو بسا اوقات ہٹلر اور میسولینی کے کرتوتوں سے بھی جوڑ دیا جاتا ہے جو کہ ایک قبیح حرکت ہے۔ ان دونوں حضرات کا ڈارون کے نظریات سے دور کا بھی تعلق واسطہ نہ تھا۔ نسل پرستی کا تحفظ لامارک کے ہاں سے تو ملتا ہے مگر ڈارون نے کبھی بھی نسل پرستی کے حق میں ارتقائی دلائل نہیں دیے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا بھی ڈارون کے نظریات یا سوشل ڈارون ازم سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ ڈارون کے نظریات تو کل کی بات ہے۔ منافع، لالچ اور استحصال کا چلن تو زمانہ قبل از تاریخ سے جاری ہے۔
آپ نے لکھا ہے کہ ڈارون نے کبھی انسان کے سماجی ارتقا پر بات نہیں کی۔ تو اس کا جواب ہے کہ اسے سماجی ارتقا پر بات کرنی ہی نہیں چاہیے تھی کیونکہ وہ حیاتیاتی ارتقا کا ماہر تھا۔ سماجی ارتقا فلاسفہ، علماء، اساتذہ، مفکرین، صحافی برادری، سول سوسائٹی، ریاست، سیاسی کارکنان و پارٹیاں وغیرہ کا ڈومین ہے انہیں اس پر بات سے زیادہ کام کرنا چاہیے۔ ڈارون نے ہمیں بتا دیا کہ جو نوع حالات کا مقابلہ کرے گی وہ زندہ رہے گی یہاں تک ڈارون کا کام ختم اور ہمارا کام شروع۔ ویسے ہمیں ڈر لگنے لگا ہے کہ کل کلاں کو کوئی بندہ یہ الزام نہ لگا دے کہ ڈارون نے گلیوں میں جھاڑو کیوں نہیں لگائی اور کراچی کے حالات بھی ڈارون نے خراب کیے۔
مارکس کے نزدیک ارتقائی اور انقلابی عمل ایک دوسرے سے کٹے ہوئے نہیں بلکہ باہم مربوط ہیں۔ یہ بات آپ نے بہت عمدہ کی ہے اور ہم ذاتی طور پر اس سے 100 %متفق ہیں۔ مگر کیا کریں دنیا بھر کے ان ترقی پسندوں کا جو ارتقا کو انقلاب کی ضد سمجھتے ہیں۔ ”ان کے نزدیک ارتقا کی اصطلاح محض انقلابات کی روک تھام کے لیے گھڑی گئی اور ڈارون سرمایہ داروں کا بندہ تھا“ ۔ اصل بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے قدامت اور رجعت پسندوں کا ارتقائی نظریات سے تو کچھ لینا دینا ہی نہیں البتہ ترقی پسندوں کی اساس سائنس اور فلسفے کی مرہون منت ہے۔ یہ دنیا کی بد قسمتی ہے کہ ترقی پسندوں نے بھی ارتقائی نظریات کو نہ صرف پس پشت ڈال دیا بلکہ مذہبی پیشواؤں کی طرح ارتقا یا ارتقائی نظریات کی مخالفت شروع کر دی۔ جب ارتقا کا موضوع ہی دنیا سے ختم ہو گیا تو اس کا منطقی نتیجہ سازشی تھیوریوں کے ابھار اور انبار کی شکل میں برآمد ہوا ہے۔ دنیا کے ٹھیکیدار یا مبینہ مالک شاید یہی چاہتے تھے۔ یاد رہے کہ جہالت اپنی ہر شکل میں ہمیشہ طاقتوروں کو فائدہ پہنچاتی ہے اور طاقتور ہمیشہ علم اور کھرے علم سے ڈرتے ہیں۔


