امریکی صدارتی انتخابات، تمام ممالک نتائج کے منتظر


امریکی صدارتی انتخابات کے فیصلے کی گھڑی نزدیک آن پہنچی ہے۔ چند روز بعد 5 نومبر 2024 ء کو امریکہ میں صدر کے انتخاب کے لئے الیکشن منعقد ہو گا۔ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی کے امیدواران کے درمیان کاٹنے دار مقابلے کی امید ہے۔ امریکہ میں الیکشن کی تیاریاں عروج پر ہیں اور ہر طرف الیکشن کے حوالے سے گہماگہمی کا سماں ہے۔ امریکہ میں صدارتی نظام رائج ہے اور ہر چار سال کے بعد امریکہ میں انتخابات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ چار سال قبل 2020 ء میں ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے 306 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے صدارتی حریف ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دی تھی جبکہ ان کے مدمقابل ٹرمپ نے 2020 ء میں ہونے والے انتخابات میں 232 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے تھے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ الیکٹورل ووٹ کیا ہے؟ تو یہ واضح کرتے چلیں
امریکہ میں صدر کا انتخاب براہ راست عام ووٹرز نہیں کرتے بلکہ امریکہ میں صدر کے انتخاب کا کام الیکٹورل کالج کا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے ملک پاکستان میں سینیٹ کے قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے منتخب امیدوار صدر کا انتخاب کرتے ہیں اسی طرح امریکہ میں منتخب الیکٹرز صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔ الیکٹورل کالج کے ارکان کو الیکٹرز کہا جاتا ہے۔ یہ الیکٹرز عوام کے ووٹوں سے جیت کر کامیابی حاصل کرتے ہیں اور بعد میں ملک کے صدر اور نائب صدر کو منتخب کرتے ہیں۔ امریکہ کی تمام ریاستوں میں الیکٹورل کالج کے ارکان کی تعداد وہاں کی آبادی کے تناسب سے طے ہوتی ہے۔ الیکٹرز کی کل تعداد پانچ سو اڑتیس ( 538 ) ہے۔

ہر ریاست کی کانگرس میں جتنی سیٹیں ہوتی ہیں اور اس کے جتنے بھی سینیٹرز سینیٹ میں موجود ہوتے ہیں اتنے ہی اس کے الیکٹورل کالج میں الیکٹرز ہوتے ہیں۔
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کی آبادی امریکہ کی تمام 50 ریاستوں میں سب سے زیادہ ہے اس لئے وہاں الیکٹرز کی تعداد بھی تمام ریاستوں کی نسبت زیادہ ہے کیلیفورنیا میں الیکٹرز کی کل تعداد 55 ہے جبکہ کم آبادی والی ریاستوں جیسے الاسکا اور نارتھ ڈکوٹا میں الیکٹرز کی تعداد صرف 3 ہے کیونکہ وہاں آبادی کم ہے۔ امریکی صدر بننے کے لئے امیدوار کو 538 میں سے کم از کم 270 یا اس سے زائد الیکٹرز کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن سے 30 لاکھ ووٹ کم حاصل کیے تھے لیکن پھر بھی وہ صدر بنے تھے کیونکہ ٹرمپ نے الیکٹرل کالج میں اکثریت حاصل کی تھی جس کی وجہ سے 30 لاکھ کم ووٹ ہونے کے باوجود بھی ٹرمپ صدر قرار پائے تھے۔ اس سال ہونے والے امریکی انتخابات میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی امیدوار کے طور پر کملا ہیرس کے مدمقابل الیکشن لڑ رہے ہیں۔

سال 2024 ء کو اگر انتخابات کے سال کے لقب سے پکارا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا جہاں اس سال وطن عزیز پاکستان میں 8 فروری کو عام انتخابات انجام پائے اسی طرح ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی بسنے والی جنتا نے اسی سال 2024 ء میں آئندہ آنے والے پانچ سالوں کے لئے اپنے حکمرانوں کا انتخاب کیا جبکہ برطانیہ جیسے بڑے ملک میں بھی اسی سال 2024 ء میں انتخابات منعقد کروائے گئے تھے۔ اب سپر پاور کہلانے والے ملک امریکہ میں انتخابات کی گھڑی نزدیک آن پہنچی ہے۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ 5 نومبر 2024 ء امریکہ میں عام انتخابات کے دن کے طور پر چنا جا چکا ہے یعنی امریکہ کا نیا آنے والا صدر کون ہو گا چند روز بعد اس بات کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔

امریکہ جیسے بڑے اور سپر پاور ملک کی صدارت کے فرائض اب تک 46 صدور سرانجام دے چکے ہیں۔ جن میں ابراہم لنکن، جان ایف کینیڈی، جارج ایچ ڈبلیو بش، جارج ڈبلیو بش، بل کلنٹن اور بارک اوبامہ جیسے شہرت یافتہ صدور گزرے ہیں وہیں دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ جیسے متنازعہ صدر بھی امریکی تاریخ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ٹرمپ پر مختلف قسم کے سنگین مقدمات چل چکے ہیں۔

امریکہ کے انتخابات کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلے امریکی صدر کے انتخاب کا عمل ایک منفرد تاریخی مرحلہ تھا۔ اس عمل کا آغاز 1787 میں ہونے والی آئینی کنوینشن کے ساتھ ہوا جہاں ریاستی نمائندوں نے آئین تیار کیا۔ اس آئین کے تحت صدر کا انتخاب الیکٹورل کالج کے ذریعے کیا جانا تھا 1788 ءکے انتخابات میں ہر ریاست نے اپنے اپنے الیکٹرز کا انتخاب کیا۔ یہ منتخب الیکٹرز ہی صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ دے سکتے تھے اور انہی منتخب شدہ الیکٹرز نے 1789
میں جارج واشنگٹن کو متفقہ طور پر پہلے صدر کے طور پر منتخب کیا۔ جارج واشنگٹن نے 30 اپریل 1789 کو نیو یارک شہر میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

خیر دور حاضر کی بات کی جائے تو امریکہ کی صدارتی کرسی سنبھالنے کی دوڑ میں بہت سے امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ جن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار اور امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس اور ریپبلکن صدارتی امیدوار سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مضبوط امیدوار ہیں جبکہ آزاد یا تھرڈ پارٹی امیدواران کی بات کی جائے تو کارنل ویسٹ، جل سٹین اور چیس اولیور جیسے امیدوار بھی صدارتی امیدوار کے طور پر قسمت آزمائی کریں گے۔ امریکہ کے موجود صدر جو بائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ڈیموکریٹک پارٹی سے اب تک 16 صدور امریکہ کی صدارت کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں جبکہ ریپبلکن پارٹی سے اب تک 19 صدور نے امریکہ کے صدر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے موجود صدر جو بائیڈن صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے دستبردار ہو گئے تھے جس کے بعد امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ کملا ہیرس کی پارٹی میں مقبولیت جو بائیڈن سے زیادہ ہے اور کملا ہیرس کے صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آنے کے بعد سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میں ایک مضبوط حریف کا سامنا ہے۔

متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جو بائیڈن اپنی پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی مخالفت کے بعد صدارتی انتخاب سے پیچھے ہٹے۔ جو بائیڈن نے دوبارہ الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ میری پارٹی اور ملک کے بہترین مفاد میں ہے جو بائیڈن کا صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان انتخابات سے چار ماہ قبل آیا تھا۔ جو بائیڈن کے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے فیصلے کو کئی عالمی رہنماؤں نے ایک تجربہ کار اور عقل مند سیاست دان کا فیصلہ قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ صدر جو بائیڈن کو انتخابات سے دستبردار ہونے کے لیے پارٹی کی جانب سے مسلسل دباؤ کا سامنا تھا اس مخالفت کا آغاز ایک ٹی وی مباحثے سے ہوا جس نے ان کی صحت کے بارے میں خدشات کو جنم دیا اور مزید اس مباحثے میں جو بائیڈن کی ٹرمپ کے ساتھ مباحثے میں کارکردگی متاثرکن نہیں تھی اسی وجہ سے جو بائیڈن پر صدارتی دوڑ سے دور رہنے کے لیے دباؤ بڑھتا گیا اور آخر انہوں نے اپنی نائب صدر کملا ہیرس کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے خود صدارتی انتخابات سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔

تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو جو بائیڈن سے قبل بھی ایک مرتبہ ایسا ہو چکا ہے جب کسی صدر نے صدارتی امیدوار بننے سے انکار کیا ہو اور وہ تھے لنڈن بی جانسن۔ لنڈن بی جانسن نے 1968 ء میں صدارتی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

اگر ٹرمپ 2024 ء کے انتخابات جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ جدید امریکی تاریخ کے پہلے شخص بن جائیں گے جو انتخابات میں شکست کے بعد صدارت کے عہدے سے محروم ہوئے لیکن پھر اگلے انتخابات میں جیت حاصل کر کے اقتدار میں واپس آ گئے۔ ان سے قبل امریکہ کی تاریخ میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی آخری شخصیت گرور کلیولینڈ تھے جو 1892 میں امریکہ کے دوسری بار صدر منتخب ہوئے تھے۔

ٹرمپ پر رواں سال جولائی کے مہینے میں الیکشن مہم کے دوران جان لیوا حملہ بھی ہوا تھا اس جان لیوا حملے میں ٹرمپ بال بال بچے تھے۔ اس حملے نے امریکہ کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے کہ ان کی انٹیلی جنس کچھ فاصلے پر موجود سنائپر کی حملے سے پہلے نشاندہی نہ کر سکی البتہ حملے کے فوراً بات اس سنائپر کو موقع پر ہی مار دیا گیا تھا۔ حملے کے بعد ٹرمپ کو سکیورٹی افسران نے گھیر لیا تھا لیکن اس دوران ٹرمپ ہاتھ لہرا کر اپنی بہادری کا مظاہرہ کرتے رہے اس حملے کے بعد سے عوام میں ٹرمپ کے لئے ہمدردی بھی پیدا ہو گئی ہے جو شاہد انتخابی نتائج پر بھی اثر انداز ہو۔ لیکن ابھی کسی قسم کی بھی پیشگوئی کرنا قبل از وقت ہو گا۔ فی الحال ٹرمپ اور کملا ہیرس دونوں کی مقبولیت اچھی خاصی ہے ٹرمپ پہلے بھی 2017 ء سے 2021 ء تک امریکہ کے صدر رہے چکے ہیں جس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ امریکی عوام ٹرمپ کو اپنے لیڈر کے طور پر پہلے کی طرح اب بھی قبول کر سکتے ہیں جبکہ دوسری جانب کملا ہیرس بھی صدر جو بائیڈن کے ساتھ امریکہ میں نائب صدر کے ذمہ داریاں ادا کر چکی ہیں

آن لائن سروے اور پولز میں میں ملے جلے نتائج ہی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ دونوں امیدواروں کی مقبولیت میں کوئی زیادہ یا واضح فرق دیکھنے کو نہیں مل رہا جس سے اندازہ لگایا جا سکے کہ دونوں امیدواروں میں سے زیادہ مقبولیت کس امیدوار کی ہے کیونکہ زیادہ تر پولز اور سروے کے نتائج اب تک دونوں امیدواروں میں زیادہ فرق واضح نہیں کر سکے۔

یہاں یہ موضوع بھی زیر بحث آ رہا ہے کہ امریکی انتخابات اور نئے آنے والے صدر کی صدارتی پالیسیوں کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ویسے بھی امریکہ جیسا سپر پاور ملک اپنے مفادات کے مطابق اپنی پالیسیاں طے کرتا ہے۔ لیکن پاکستان جیسے جغرافیائی خطے کی امریکہ کو ضرورت ہے۔

اس وقت مشرق وسطیٰ کے حالات سب کے سامنے ہیں دنیا بھر میں ورلڈ وار تھری کا خطرہ ہے ایسے نازک موقعے پر ہر ملک کی نظر امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر ٹکی ہوئی ہے۔ امریکی صدارتی امیدواران کی امیگریشن یا اکنامک یا دوسری پالیسیوں میں بے شک اختلافات ہوں گے مگر مشرق وسطیٰ کے بارے میں ان کی پالیسی ایک جیسی ہی ہے۔ اس بات سے بھی سب واقف ہیں کہ بالواسطہ یا بلا واسطہ امریکی پالیسی کا ان سب حالات پر اثر ضرور ہوتا ہے۔ امریکہ ایک ایسا ملک ہے جو بہت ساری جگہوں پر عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے عالمی فیصلے امریکہ کی مرضی اور منشا کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ امریکہ مختلف ممالک کی حکومتوں کو کنٹرول کرتا ہے اور پوری دنیا کی سیاست پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اس لئے دنیا بھر کے تمام ممالک کی نظر امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر ٹکی ہوئی ہے تا کہ امریکہ کی آنے والے وقت کی نئی پالیسی واضح ہو جائے لیکن ایک بات تو واضح ہے ڈیموکریٹک پارٹی انتخابات جیتے یا پھر ریپبلیکن پارٹی جس بھی پارٹی کی حکومت آئے گی وہ پوری دنیا کے تمام مفادات ایک طرف رکھ کر وہی پالیسیاں اپنائے گی جس میں امریکہ کا مفاد ہو۔

Facebook Comments HS