انار کلی لاہور کی داستان


انارکلی بازار کا شمار لاہور کے قدیم ترین اور مشہور ترین بازاروں میں ہوتا ہے، اور اس کا نام بھی ایک ایسی داستان سے جڑا ہوا ہے جس نے صدیوں سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائے رکھی ہے۔

انارکلی بازار کا نام شہنشاہ اکبر کے دور کی ایک معروف داستانی شخصیت انارکلی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ روایت کے مطابق انارکلی، جو شہنشاہ اکبر کے دربار کی ایک رقاصہ تھی، شہزادہ سلیم (جو بعد میں شہنشاہ جہانگیر بنے ) کے ساتھ محبت میں گرفتار ہو گئی تھی۔ جب یہ راز شہنشاہ اکبر پر کھلا تو انہوں نے انارکلی کو قلعہ لاہور میں زندہ دفن کرنے کا حکم دیا۔ اس المیہ محبت کی کہانی کے ساتھ انارکلی کی شخصیت امر ہو گئی، اور اسی مقام پر ایک بازار تعمیر کیا گیا، جسے انارکلی بازار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

تاریخی طور پر یہ بازار 19 ویں صدی کے وسط میں قائم ہوا اور تب سے لاہور کی تجارتی اور ثقافتی زندگی کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ یہ بازار برطانوی راج کے دور میں بھی خاصا مشہور تھا اور اپنے اندر مغلیہ اور برطانوی اثرات کا امتزاج لیے ہوئے تھا۔

آج کا انارکلی بازار دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے :
پرانا انارکلی جہاں زیادہ تر کھانے پینے کی اشیاء، چائے کے ہوٹل اور چھوٹی دکانیں واقع ہیں۔
نیا انارکلی جو زیادہ تر ملبوسات، زیورات، اور کپڑوں کی خریداری کے لیے مشہور ہے۔

ان میں سے زیادہ اہم پرانا انارکلی بازار یعنی پرانی انارکلی ہے۔ یہ بازار نہ صرف تاریخ کے گواہ کا کردار ادا کرتا ہے بلکہ جدید طلبہ، دانشوروں اور سی ایس ایس کے خواب دیکھنے والوں کا مسکن بھی ہے۔ انارکلی کے قریب ہی پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، نیشنل کالج آف آرٹس اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج واقع ہیں۔ ان اداروں کے طلباء انارکلی کے قریب ہاسٹلز میں رہتے ہیں اور کھانے کے لیے ہوٹلوں کا رخ کرتے ہیں اور چائے کے کپ کے سہارے گھنٹوں تک دنیا کے بڑے اور اہم مسئلوں پر بحث میں مصروف رہتے ہیں۔

ایک طرف کانٹ اور ہیگل کا ذکر، دوسری طرف روسو اور نطشے کی بحثیں، کبھی مارکس اور اینگلس کے سوشلزم پر گرما گرم تبصرے تو کبھی جان لاک اور ہابز کی لبرل سوچ پر دلائل۔ یہ تمام نظریات چائے کے ساتھ ایسے گھل مل جاتے ہیں جیسے بسکٹ کپ میں ڈبونے پر گھل جاتا ہے۔ مباحثے کا دائرہ لبرل ازم اور ریئلزم سے شروع ہو کر ویسٹ فالیا کے معاہدے اور جدید جنگی حکمت عملی تک پہنچ جاتا ہے، اور آخر میں سب کچھ سگریٹ کے دھویں میں تحلیل ہو کر یہیں ختم!

اسی بازار میں، رات کے وقت جب باقی دنیا نیند کے سپرد ہوتی ہے، سی ایس ایس اور پی ایم ایس کے دیوانے اپنی نشستیں سنبھالتے ہیں۔ دن بھر پنجاب پبلک لائبریری میں کتابوں سے لڑنے کے بعد یہ نوجوان انارکلی کے ہوٹلوں پر ایسے جمع ہوتے ہیں جیسے کسی محاذ سے واپس لوٹے ہوں۔ یہ دن بھر کی پڑھائی سے الجھے ہوئے ذہن لے کر آتے ہیں، جہاں ایک طرف تاریخ کا پہاڑ اور دوسری طرف آئینی قانون کا بیابان ان کے انتظار میں ہوتا ہے۔ کچھ کی امیدیں آخری سانسیں لے رہی ہوتی ہیں، جنہیں ہر ناکامی کے بعد بیرونِ ملک کا ویزا ہی نجات کی آخری راہ دکھائی دیتا ہے۔

لیکن نئے دیوانے، جو ابھی امیدوں کے جوش سے بھرے ہوتے ہیں، بڑے بڑے خوابوں کے قلعے تعمیر کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہوتا ہے کہ کامیابی بس اگلے امتحان کی بات ہے، اور ”سول سروس“ کے خواب ابھی تازہ ہوتے ہیں۔ ان کے مباحثے معاشی بحرانوں، سیاسی افراتفری، اور ریاستی بیانیے سے ہوتے ہوئے بین الاقوامی تعلقات تک جا پہنچتے ہیں۔

اگر آپ این سی اے (نیشنل کالج آف آرٹس) کے طلبہ و طالبات کو انارکلی میں ٹہلتے دیکھیں، تو یوں لگتا ہے جیسے کسی فلم کا شوٹ چل رہا ہو اور یہ سب کردار اپنے مخصوص ”آرٹسٹک“ لباس میں فلم کے کردار ہوں۔ ان کے لباس ایسے ہوتے ہیں کہ اگر گوتم بدھ اور سالویڈور ڈالی کا کوئی فیشن برانڈ ہوتا، تو یہی تخلیقی شاہکار نکلتے۔ کندھے پر لٹکتا بڑا سا بیگ، جس میں شاید پینٹنگز کم اور زندگی کے مسائل زیادہ بھرے ہوتے ہیں، ان کے وجود کا لازمی حصہ ہے۔

ہاتھ میں کبھی کیمرا، کبھی کینوس یا کبھی کچھ ایسی عجیب و غریب چیز جو انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ آخر یہ ہے کیا؟ چہرے پر وہ سنجیدگی کہ جیسے ابھی کوئی اہم فلسفیانہ مسئلہ حل کرنے والے ہوں۔ لیکن زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ وہ چائے پینے کے لیے کوئی اچھی جگہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ یہ طلبہ یوں انارکلی کی گلیوں میں گھومتے ہیں جیسے کوئی فنکارانہ تحریک برپا کرنے والے ہوں، مگر اصل تحریک اکثر یہ ہوتی ہے کہ چائے کہاں سے بہتر ملے گی اور تصویر کہاں اچھی آئے گی۔ ان کے چلنے کا انداز ایسا ہوتا ہے جیسے فرش ان کے فن کا کینوس ہو اور دنیا ایک پینٹنگ۔ جس میں باقی لوگ محض ”بیک گراؤنڈ“ کا حصہ ہیں۔ ہر قدم سے یہ پیغام دیتے ہیں : ”ہم آرٹسٹ ہیں، ہمیں کوئی نہ سمجھے تو یہ اس کی کم عقلی ہے، ہماری نہیں!“ ان کی باتوں میں آزادی، انقلاب، اور تخلیق کا شور ہوتا ہے۔

انارکلی میں پشتون ہوٹل مالکان کا دبدبہ ایسا ہے کہ آپ کو یوں محسوس ہو گا جیسے برصغیر کی تاریخ دوبارہ خود کو دہرا رہی ہو۔ بس اس بار ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ کوئٹہ ہوٹل کی سلطنت ہے۔ یہاں کے پشتون بھائیوں نے کاروباری حکمتِ عملی کا ایسا جال بچھایا ہے کہ لاہور کی گلیوں میں اب چائے کے دھوئیں کے ساتھ ایک نئے عہد کی تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ لگتا ہے جیسے ”کاروباری استعمار“ کا خواب پورا کرنے کے لیے اس بار توپوں اور بندوقوں کے بجائے قہوہ اور چائے کو ہتھیار بنایا گیا ہے۔

انارکلی کے مسائل کی فہرست بھی خاصی طویل ہے۔ انارکلی کا ایک مسئلہ جو کبھی حل نہیں ہوا، وہ ہے سیوریج کا نظام۔ صبح جب کوئی یہاں قدم رکھتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ رات کو یہاں بارش ہوئی ہے، لیکن حقیقت میں یہ بارش نہیں بلکہ سیوریج کا وہ جادو ہے جو ہر صبح کے آغاز کو تازہ بو کے ساتھ خوش آمدید کہتا ہے۔

بات ہو انارکلی کے گداگروں کی تو یہاں پیشہ ور بھکاریوں کی ایسی ڈھیٹ کھیپ آباد ہے کہ لگتا ہے جیسے ان میں سے ہر ایک نے ماسٹرز کی ڈگری پیشہ ور گدائی میں حاصل کی ہو۔ وہ آپ کے پیچھے ایسے لگ جاتے ہیں جیسے پرانی محبتیں یاد آ کر انسان کا پیچھا کرتی ہیں۔ چھوڑنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ اور ان میں سے کچھ تو ایسے ماہر ہوتے ہیں کہ آپ کو خود پر شک ہونے لگتا ہے کہ شاید آپ واقعی قرض دار ہیں اور ان کا حق مار رہے ہیں۔

انارکلی کی ہوٹلوں پر کام کرنے والے بچے اس ساری رونق کا خاموش حصہ ہیں۔ یہ بچے، جن کے ہاتھوں میں کھانے کی پلیٹوں یا چمچوں کے بجائے خوابوں کے بوجھ ہیں، ہوٹلوں پر دن بھر دوڑتے ہیں۔ یہ معصوم بچے جن کے ہاتھوں میں قلم اور کتاب ہونا چاہیے، برش اور پالش اٹھائے ”بوٹ پالش، بوٹ پالش“ کی آواز لگاتے ہیں تو دل بجھ سا جاتا ہے۔ ان کی اپنی چپلیں اتنی گھسی ہوئی ہوتی ہیں کہ کبھی لگتا ہے شاید مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا مشہور جملہ ”I have a dream“ انہی کے لیے کہا گیا تھا۔ لیکن ان کا خواب صرف یہ ہوتا ہے کہ دن کا اختتام ہو اور کچھ پیسے جیب میں ہوں۔

پھر دفتری حضرات کی بات کریں تو انارکلی میں کسٹم آفس، بورڈ آف ریونیو، ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ اور سی سی پی او آفس کے ملازمین بھی چائے کے ہوٹلوں پر اپنی سرکاری زندگی کی داستانیں سناتے نظر آتے ہیں۔ ان کی باتوں میں نوکری کی شکایت اور فائلوں کے بوجھ کا ذکر ایسا عام ہوتا ہے جیسے زندگی میں خوشی کا تصور ہی ان کے لیے محال ہو۔ ہائی کورٹ کے وکیل، جو انارکلی کے راستوں سے گزرتے ہیں، انہیں بھی اپنی مخصوص چال اور یونیفارم کے سبب آسانی سے پہچانا جاسکتا ہے۔

انارکلی کے ریستورانوں میں بیٹھے جوڑے بھی ایک الگ دنیا کے باشندے معلوم ہوتے ہیں۔ وہ اپنی محبت کے پل باندھتے ہیں، منصوبے بناتے ہیں، اور اگر کسی کی نظر ان پر پڑ جائے تو ایسے شرماتے ہیں جیسے کوئی بین الاقوامی سازش بے نقاب ہو گئی ہو۔ یہاں کی چائلڈ لیبر اور مسائل زدہ زندگیوں کے بیچ یہ جوڑے ایک امید کی کرن معلوم ہوتے ہیں، جو اس ہنگامہ خیز بازار میں اپنی کہانی لکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

انارکلی کی بدحالی پر سرکار کی عدم توجہی ایک بڑا المیہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس بازار کو صرف تاریخی ورثہ نہ سمجھے بلکہ ایک زندہ ثقافتی مرکز کے طور پر اس کی دیکھ بھال کرے۔ ٹریفک کی بدانتظامی، صفائی کی حالت، اور سیوریج کے مسائل حل کیے بغیر یہ بازار اپنی رونق کھوتا جا رہا ہے۔ مگر انارکلی کی اصل روح یہاں کے لوگ ہیں۔ طلبا، دانشور، جوڑے، گداگر، اور دفتری بابو۔ جو اپنی اپنی کہانیوں کے ساتھ اس بازار کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بازار صرف ایک جگہ نہیں، بلکہ لاہور کی روح کا آئینہ ہے، جہاں ہر گلی ایک کہانی اور ہر چائے کا کپ ایک فلسفہ بیان کرتا ہے۔ یہاں کا ہر فرد اپنے انداز میں زندگی کا حصہ ہے، اور یہ رنگا رنگ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی، چاہے جتنی بھی مشکل ہو، اس میں ہمیشہ چائے کے ساتھ بیٹھ کر ہنسنے کی گنجائش موجود رہتی ہے۔

Facebook Comments HS