جائیداد آپ خریدتے ہیں، مالک کوئی اور ہوتا ہے


خریدار کے کیے حالات اچھے اور بیچنے والے کے لیے ( آج کل پراپرٹی ڈاؤن جاندی پئی اے ) کا مقولہ تو آپ نے سنا ہو گا؟

اسلام آباد اور پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں نئی سوسائٹیوں کی لانچنگ اب ایک معمول سا بن چکی ہے، جہاں ہر دوسرے دن ایک نئی ہاؤسنگ سکیم کی فائلز متعارف کروا دی جاتی ہیں۔ یہ فائلز عموماً سستے داموں خریدنے کا خواب دکھاتی ہیں اور بعد ازاں ایک بڑی قیمت پر بیچ کر منافع کمانے کا لالچ دیا جاتا ہے۔ ایک فائل، جو کہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہوتی ہے، آپ کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے اور اس پر قیمت اور اقساط کی تفصیلات درج ہوتی ہیں، جیسے ایک لاکھ روپے کی فائل جس کی کل قیمت پچیس لاکھ طے ہوتی ہے اور ادائیگی بیس یا تیس ہزار روپے ماہانہ قسط میں کر دی جاتی ہے۔

یہ بظاہر ایک بہت ہی آسان اور منافع بخش سودا لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپے پیچیدہ فراڈ اور بچھے جال کو جانچنا ضروری ہے۔ اکثر اوقات جیسے ہی آپ اس ڈیل کو حتمی شکل دیتے ہیں، آپ کے سامنے کئی خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں، جیسے کہ، سوسائٹی کا فراڈ ہونے کا امکان ہے، یہاں ڈیویلپمنٹ میں وقت لگے گا، یا possession ملنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ یہ ساری باتیں زیادہ تر اُس وقت سامنے آتی ہیں جب آپ نے آدھی یا زیادہ ادائیگی کر دی ہو، اور آپ کے ذہن میں بے یقینی کے بیج بو دیے جاتے ہیں۔ کیونکہ آپ ایک limited resources کے ساتھ گھر بنانے کا خواب رکھتے ہیں تو یقیناً آپ رقم کھو جانے کے خدشات میں رہتے ہیں اور اس کا عموماً مڈل کلاس ٹارگٹ ہوتے ہیں، زیادہ رقم والے کہیں نہ کہیں ایڈجسٹمنٹ کروا لیتے ہیں۔

دوسری جانب وہی ڈیلر، جو آپ کو اب فائل بیچنے کا مشورہ دے رہا ہوتا ہے، ایک اور خریدار کو یقین دلا رہا ہوتا ہے کہ یہ سوسائٹی ہی مستقبل کی سب سے بڑی کامیابی بننے والی ہے، اور اسے سونے کی کان کی طرح پیش کرتا ہے۔

میرے ایک دوست، جو کہ آئی ٹی کی کمپنی چلا رہے ہیں، ایک دن مجھے ساتھ لے کر اسلام آباد کی ایک سوسائٹی کی فائل بیچنے گئے۔ وہاں پہنچتے ہی ہمیں ڈیلرز کے درمیان ایک عجیب سی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک انویسٹر کی جگہ ایک اور ڈیلر کھڑا کیا گیا، جس نے پینتیس لاکھ کی فائل پر چوبیس لاکھ کی ادائیگی ہونے کے باوجود اس کی قیمت اٹھارہ لاکھ لگائی، یعنی چھ لاکھ کا سیدھا نقصان۔ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہوتا ہے، جہاں اصل خریدار کو ایک دھوکے میں مبتلا کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، ڈیلرز اپنا کمیشن مختلف طریقوں سے وصول کرتے ہیں۔ فائلر ہونے کی صورت میں تین فیصد، لیٹ فائلر کے لیے چھ فیصد اور نان فائلر کے لیے دس فیصد تک کمیشن وصول کیا جاتا ہے۔ یہاں کا المیہ یہ ہے کہ 95 فیصد سے زیادہ لوگ نان فائلر ہوتے ہیں، جو کہ حکومت کی طرف سے کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کے ڈر سے بچنے کے لیے نان فائلر بنے رہتے ہیں۔ یہ افراد بلیک میل ہو کر دس فیصد کمیشن ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر آپ فائلر بھی ہوں، تب بھی دھوکہ دہی جاری رہتی ہے۔ ڈیلرز PSID یعنی Payment Slip ID آپ کے نام پر بناتے ہیں، جسے بینک میں جمع کروا کر CPR یعنی Computerized Payment Receipt ملتی ہے۔ لیکن اصل بینک کی رسید آپ کو کبھی نہیں دی جاتی، کیونکہ ڈیلر وہ 3، 6، یا 10 فیصد کمیشن حکومت کو جمع ہی نہیں کراتے۔ اس طرح، یہ فراڈ ایک ہی وقت میں حکومت، خریدار، اور بیچنے والے کے ساتھ کیا جا رہا ہوتا ہے۔

ایک اور مختلف قسم کے فراڈ کا سامنا آپ کو اس وقت کرنا پڑتا ہے، جب آپ فائل کینسل کروانے کی بات کرتے ہیں، اب آپ کو یہ پیشکش کی جاتی ہے کہ ڈاؤن پیمنٹ پر 30 فیصد اور اقساط پر 10 فیصد کٹوتی کر کے بقیہ رقم آٹھ ماہ کے اندر واپس کی جائے گی۔ اگر آپ کو فوری رقم درکار ہو تو آپ کو سوسائٹی ایک ”خاص ڈیلر“ کے پاس بھیج دیتی ہے، جو مزید کٹوتیاں کر کے آپ کو فوراً پیسے ادا کر دیتا ہے۔ یوں آپ کو اپنی ہی رقم کے ایک بڑے حصے سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔

یہ فائل کا کاروبار ایک عام زمین کے سودے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے، جہاں آپ نہ صرف اپنی جمع پونجی کو خطرے میں ڈالتے ہیں، بلکہ ایک ایسا جال بُنتے ہیں جس سے باہر نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس دھوکہ دہی کا شکار عام لوگ، خریدار، اور حکومت سبھی ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی آڑ میں مختلف طریقوں سے صارفین کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ بعض سوسائٹیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو سرے سے موجود ہی نہیں ہوتیں، لیکن جھوٹے اشتہارات اور پرکشش پیشکشوں کے ذریعے لوگوں کو فائلز بیچ کر غائب ہو جاتی ہیں۔ ایک اور عام دھوکہ یہ ہوتا ہے کہ سوسائٹیاں اصل پلاٹس کی تعداد سے زیادہ فائلز بیچ دیتی ہیں، مثلاً اگر 100 پلاٹس دستیاب ہوں تو 200 فائلز فروخت کر دی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں بہت سے خریداروں کے پاس زمین نہیں ہوتی۔

اسی طرح، کئی سوسائٹیاں پیسہ وصول کرنے کے بعد ترقیاتی کام میں تاخیر کرتی ہیں، اور لوگ برسوں اپنے پلاٹس کے انتظار میں رہتے ہیں۔ کچھ ہاؤسنگ سکیمیں بغیر قانونی منظوری کے شروع کی جاتی ہیں، اور بعد میں جب خریداروں کو معلوم ہوتا ہے کہ سوسائٹی غیر قانونی ہے، تو وہ مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات زمین پر تنازعات ہوتے ہیں یا وہ مکمل طور پر سوسائٹی کے قبضے میں نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود فائلز بیچ دی جاتی ہیں۔ دھوکہ دہی میں شامل دیگر حربے یہ ہیں کہ پلاٹ کا مقام بدل دیا جاتا ہے، فائل کی قیمت قسطوں میں اضافے کے ذریعے بڑھا دی جاتی ہے، یا ادائیگی کے باوجود پلاٹ کا قبضہ یا رجسٹری منتقل نہیں کی جاتی۔

Facebook Comments HS