سوال بہت، جواب کوئی نہیں!

میں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ کراچی اور اس کی سیاست کو محور قلم رکھا۔ کراچی کے حالات آج جیسے ہیں، ویسے آج تک اس شہر درماں نے نہیں دیکھے۔ کرفیو ہو، ہڑتالیں ہوں، بھتہ خوری ہو یا کچھ اور مگر جس طرح آج اس شہر کے باسیوں کو لوٹا جا رہا ہے، اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ملتی۔
بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کم از کم آٹھ سال سے کراچی کی سیاست سے غائب ہیں۔ کسی بھی سیاسی پلیٹ فارم پر کسی بھی نوعیت کی نمائندگی کی نہ تو اجازت ہے اور نہ شہر کی کسی عملی سیاست و معاملات میں عمل دخل ہے۔ نام لینے تک کی پابندی ہے۔ شہر کے درجنوں ایم این اے، ایم پی ای ایز اب یا تو تحریک انصاف یا ایم کیو ایم کے اس دھڑے میں شامل ہیں جن کو سیاست کی بھی مشروط اجازت حاصل ہے۔
اصولاً تو جس الطاف حسین کو اس شہر کے لئے سب سے بڑا ولن، یہاں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ اور دہشتگرد قرار دیا جاتا تھا، اس دہشت گرد کو مائنس کرنے کے بعد تو اس شہر کی حالت پہلے سے بہتر نہیں بلکہ مثالی ہو جانی چاہیے تھی، جو دوسرے شہروں اور سیاست کے لئے رول ماڈل بنتا، جو سیاسی و مذہبی جماعتیں یہاں اپنا ووٹ بینک ہونے اور الطاف حسین کے ہاتھوں اس ووٹ بینک کو یرغمال ہونے کا بڑے دھڑلے سے دعویٰ کرتی تھیں، جن عناصر کے تئیں یہ ”خوف“ کی فضا کا عالم تھا کہ لوگ اپنی پسند کی سیاسی جماعتوں کو ووٹ نہیں ڈالتے تھے۔ تو ایسی تمام سیاسی جماعتوں کو 2016 کے بعد ہوئے الیکشنز میں تو کلین سویپ کر لینا چاہیے تھا۔
لیکن یہ کیا ہوا کہ
شہر کے انتظام کا جنازہ نکل کر رہ گیا،
انفرا اسٹرکچر سمیت ہر طرح کا نظام مکمل ناکام ہو گیا
اور شہر کسی پسماندہ گاؤں سے بھی بدتر ہو گیا۔ یا یوں کہہ لیں موہن جو دڑو کی نظیر پیش کر رہا ہے۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، گلی گلی میں گندے پانی کے تالاب بنے ہوئے ہیں۔ تعلیم اور صحت کا نظام ابتر ہو چکا ہے۔ سندھ ٹیکسٹ بُک بورڈ کے خلاف کیسز عدالتوں میں زیرسماعت ہیں کہ اس نے کس طرح بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ کے الیکٹرک کی ظلم کی داستانیں تو زبان زد عام تھی اب گیس مافیا نے بھی کمر کس لی ہے کہ کراچی کا بھرکس نکال کر ہی دم لینا ہے۔
مائنس الطاف کے بعد جو ”دہشت گردی“ ختم ہو جانی چاہیے تھی وہ ایسی بڑھی کہ آج جان مال عزت ابرو کچھ بھی محفوظ نہیں۔
لاکھوں کروڑوں کے ووٹ بینک کا دعویٰ کرتی جماعتیں الیکشن میں پانچ پانچ لاکھ کے حلقے مین صرف ہزار، چار ہزار، دس ہزار اور پینتیس ہزار ووٹس ہی لے پا رہیں۔ اب کہاں گیا اُن کا ووٹ بینک۔
مکمل طور پر سیکیورٹی اداروں (رینجرز اور پولیس) کی نگرانی کے باوجود شہر ہر طرح کے جرائم کی آماجگاہ بن کر رہ گیا۔ رینجرز کوارٹر کے قریب ڈاکو لوگوں کو لوٹ لیتے ہیں۔ فیملی کے ساتھ جانے والا شخص کو گھر والوں کی آنکھوں کے سامنے اغوا کیا جاتا ہے اور تاوان لے کر چھوڑا جاتا ہے۔ اگر تھوڑی مزاحمت کرلی جائے تو آپ کی تدفین ہوجاتی ہے۔
اگر واقعی الطاف حسین ہی ساری بُرائی کی جڑ تھی تو آج حالات پہلے سے بہتر ہونے کے بجائے اتنے خراب کیوں ہو گئے؟
اور ایسا کیوں تھا کہ دنیا کی ساری بُرائیوں کی جڑ، سب سے بڑے دہشتگرد ”الطاف حسین“ کے ہوتے یہ شہر جگمگاتا تھا، سکون تھا، انتظامی معاملات بہترین ہوا کرتے تھے۔ انفرا اسٹرکچر بہتر تھا۔ کوئی کراچی کے خلاف اقدامات کرنے سے ڈرتا تھا۔ کراچی جسے سونے کی چڑیا سمجھ کر لوٹا جا رہا ہے، پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔ پہلے ایک تھے، اب سو ہیں۔
اب جب کہ الطاف حسین کی سیاست ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی ٹھکانہ، تو اب دعوے کرنے والوں کے بقول یہ شہر تو ترقی کی مثال ثابت ہونا چاہیے تھا، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا؟
آخر کیوں؟
سوال ہیں۔
بہت سے سوال ہیں۔
بس جواب نہیں کسی کے پاس۔
دینے کو گالی ہے۔
مارنے کو گولی ہے۔
لیکن جواب نہیں۔
اس شہر کا اب کوئی وارث نہیں!

