تم تو گھر میں ہی ہو، تمہیں تو کچھ کرنا نہیں پڑتا
پاکستان میں لاکھوں خواتین روزانہ گھروں میں کام کر کے اپنے گھر کو سنبھالتی ہیں، لیکن ان کی محنت اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے۔ یہ خواتین صفائی، کھانا پکانے، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتی ہیں، لیکن ان کے کام کو باقاعدہ روزگار کا حصہ نہیں سمجھا جاتا۔ ان کی محنت کو نہ تو معیشت میں شامل کیا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی عزت دی جاتی ہے۔ یہ وہ خاموش مزدور ہیں جو اپنے گھروں میں رہ کر ملک کی معیشت کو سہارا دے رہی ہیں، مگر خود کبھی اس کا حصہ نہیں بن پاتیں۔
گھریلو خواتین کے لیے یہ معمولی بات نہیں ہوتی کہ وہ صبح سے شام تک کام کریں اور اس کے باوجود انہیں محض گھر کی ”ذمہ داری“ کہا جائے۔ یہ ایک سخت حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں گھریلو کام کو ’محبت اور فرض‘ کا نام دے کر ان خواتین کی محنت کو بے حیثیت کر دیا جاتا ہے۔ وہ مائیں جو بچوں کی پرورش کرتی ہیں، بیویاں جو شوہر کا خیال رکھتی ہیں، بہنیں جو گھر سنبھالتی ہیں، ان سب کا کام ایسا ہے جو نظر تو آتا ہے، مگر کوئی اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اگر ہم معاشی نقطہ نظر سے دیکھیں تو خواتین کا یہ غیر مرئی کردار بہت اہم ہے۔ اگر گھروں میں ہونے والا کام بھی مزدوروں کی طرح اجرت پر ہوتا، تو یہ ملک کی معیشت میں بڑا حصہ ڈال سکتا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق، اگر ان کاموں کی باقاعدہ تنخواہیں دی جائیں، تو یہ جی ڈی پی میں کئی فیصد کا اضافہ کر سکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ کام کسی معیشتی رپورٹ میں شامل نہیں کیا جاتا۔
گھریلو کام کرنے والی خواتین نہ صرف اپنے خاندانوں کو مضبوط بناتی ہیں، بلکہ وہ مردوں کو بھی معاشی میدان میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اگر وہ یہ تمام کام نہ کریں تو شاید مرد اپنی ملازمتوں پر اتنا بہتر طریقے سے توجہ نہ دے پائیں۔ ان کا کام، جو بظاہر نظر نہیں آتا، ملک کی ترقی کے لیے اہم ہے، مگر انہیں کبھی اس کا صلہ نہیں ملتا۔
معاشرے میں خواتین کو صرف اسی وقت اہم سمجھا جاتا ہے جب وہ تنخواہ دار ملازمت میں ہوں۔ لیکن جو خواتین گھروں میں کام کرتی ہیں، وہ دن رات محنت کرنے کے باوجود بھی اپنے آپ کو کم تر محسوس کرتی ہیں کیونکہ ان کے کام کو ”حقیقی“ نہیں سمجھا جاتا۔ ان کی محنت کو محض گھر کی ذمہ داری کہا جاتا ہے، حالانکہ وہ دن رات اپنی جسمانی اور ذہنی توانائیاں صرف کرتی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ گھریلو خواتین کی محنت کے بغیر معاشرہ ٹھہر جائے گا۔ گھر کا ہر فرد انہی پر انحصار کرتا ہے، لیکن انہیں یہ کہہ کر خاموش کیا جاتا ہے کہ ”تم تو گھر میں ہی ہو، تمہیں تو کچھ کرنا نہیں پڑتا۔“ یہ جملہ ان خواتین کے دل کو چھلنی کر دیتا ہے جو اپنی زندگیوں کو دوسروں کی خدمت میں گزار دیتی ہیں۔
گھریلو خواتین کی محنت کو تسلیم کرنا اور انہیں عزت دینا نہ صرف معاشرتی انصاف ہے، بلکہ یہ معیشت کو بھی مضبوط کرے گا۔ جب ہم ان کی محنت کی قدر کریں گے، تو معاشرہ بھی ان کی اہمیت کو سمجھے گا۔ انہیں محض ’گھریلو خاتون‘ کہہ کر ان کی محنت کو نظر انداز کرنا بند کرنا ہو گا۔ ان کی محنت کے بغیر کوئی گھر، کوئی خاندان اور کوئی معیشت نہیں چل سکتی۔
یہ وقت ہے کہ ہم اس خاموش محنت کو پہچانیں اور اسے تسلیم کریں۔ گھریلو خواتین کا کام بھی ویسا ہی اہم ہے جیسے کسی فیکٹری یا دفتر میں کام کرنے والے مزدور کا۔ انہیں ان کا جائز مقام دینا ہمارا فرض ہے تاکہ وہ بھی خود کو معاشرے کا برابر کا حصہ سمجھ سکیں۔


