لاہور کاربن اور سموگ نیوٹرل سٹی؟
لاہور شہر میں پانچوں سیزن (موسم) سموگ شروع ہوا چاہتا ہے۔ جب ہم اپنی جدید تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو لاہور اور دہلی کی علاقائی بیلٹ ہمیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ آلودہ نظر آتی ہے۔ یہ سب کیوں کب اور کیسے ہوا۔ یہ کہانی پھر سہی۔ لیکن آج ذکر کرنا ہے لاہور میں کی جانے والی شجر کاری کا۔ ہم یعنی میں اور چند درجن مزید لاہور کنوزویشن سوسائٹی کے ممبرز نے گُذشتہ ایک دہائی سے زائد میں لاہور شہر اور اطراف کے قصبہ جات میں 100 سے زائد مقامات پر شہریوں کی جانب سے شجر کاری کی گئی۔ اک اندازے کے مطابق 25 سے 30 ہزار پودے لگائے گئے۔ لیکن یہ کتنا پر اثر ہے؟ یہ ہے ہمارا آج کا سوال۔
شجر کاری کے ذریعے کسی بھی حصہ یا شہر پر مجموعی اثر کتنا ہو سکتا۔ یہ اک ایسا سوال ہے۔ جس پر آج ہمارے دوستوں نے راوی انڈس پروجیکٹ / ایل سی ایس کے گروپس میں بات شروع کی۔ لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا کے شہر میڈلین میں اک حالیہ تجربہ میں ایک ملیں درختوں سے 1 ڈگری درجہِ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ میڈلین اک بڑا شہر ہے۔ شجر کاری کے کسی قسم کے طریقہ کو استعمال گیا۔ یہ بھی اک سوال ہے۔ لیکن بہرحال اک ثبوت تو ملا کہ یہ اک کارآمد طریقہ ہے
بالکل ایسی ہی بات ہمیں دیکھنے کو پاکستان کے گرم ترین شہر ملتان کے مضافات میں واقع دریائے چناب کے قریب واقع 500 ایکڑ کے علاقے میں آم کے باغوں سے گھرے ہوئے قصبہ میں بھی دیکھنے کو ملی۔ جہاں مرکزی شہر ملتان سے تقریباً 8 سے 10 ڈگری درجہ حرارت کم ہے تو اب اسی طرح کے تجربات ہمیں لاہور کے درجہ حرارت میں بھی کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف دو کنال جگہ پر گھنا جنگل تقریباً 2 کلو میٹر کے دائرہ میں تقریباً صفر کاربن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لاہور میں اگر ہم 100 کے قریب شہری گھنا جنگل اُگا دیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ لاہور میں بھی ہوا دوبارہ سانس لینے کے قابل ہو جائے گئی۔ اسے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ کئی سالوں اینٹوں کے بھٹوں اور لوہے کے فرنس جلنے پر پابندی لگی تھی لیکن فرق نہ ہونے کے برابر پڑا۔ تو اس عمل کو روکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ شہری جنگلات کو بھی سسٹم کے ذریعے لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔
لاہور جیسا کثیر آبادی اور چاروں نہیں بلکہ اٹھ اطراف سے پھیلتا ہوا شہر اس کے اندر اگر ہمیں سموگ اور کاربن کے مسئلے کے ساتھ لڑنا ہے تو اس کے لیے ہمیں ایک سے زیادہ طریقوں کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے جس میں سے دنیا بھر میں ثابت شدہ ایک طریقہ شہری جنگلات ہیں۔ سموگ کے تدارک کے لیے جیسا کہ حکومت سختی سے فصلوں کی باقیات کو جلانے کی طرف جاتی ہے لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اس پابندی پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے انڈیا کی سائیڈ کے اوپر انہوں نے نئی مشینوں کو متعارف کرایا ہے جو کہ ایک ہی وقت کے اندر نہ صرف منجی کی باقیات کو زمین کے اندر حل کر دیتی ہے بلکہ گندم کے بیج کو بھی ڈال دیتی ہے جس کی وجہ سے اب کسان اس کو استعمال کر رہے ہیں لیکن چونکہ یہ مسئلہ اتنے بڑے پیمانے پہ ہے اس کے لیے ایک بڑی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔


