آئین پاکستان میں سود کے خاتمے کی ترمیم کی اصل حقیقت


آرٹیکل 38 (f) پاکستان کے آئین کے chapter 2 میں Principles of Policy کے زمرے میں آتا ہے، اور اس کا مقصد ریاست کی اقتصادی اور سماجی فلاح و بہبود کو فروغ دینا ہے۔ تاہم، اس ترمیم کی قانونی حیثیت اور نفاذ کی صلاحیت کیا ہے یہ ہمارا آج کا موضوع ہے جس میں مزید قانونی ماہرین یا قانون سے دلچسپی رکھنے والے اپنی رائے دے سکتے ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 38 (f) میں سود کے خاتمے سے متعلق موجودہ شق یہ کہتی ہے :

The State shall eliminate riba (usury) as early as possible.
ریاست جتنا جلد ممکن ہو ربا (سود) کا خاتمہ کرے گی۔
ترمیم شدہ شق میں کہا گیا ہے :

The State shall eliminate riba completely before Jan 1, 2028.
ریاست یکم جنوری 2028 سے قبل ربا (سود) کا مکمل خاتمہ کرے گی۔

یہ ترمیم بظاہر سود کے مکمل خاتمے کے لیے ایک حتمی تاریخ مقرر کرتی ہے، لیکن اس کی قانونی حیثیت کیا ہے اور اس کا نفاذ عملاً ممکن ہے یا نہیں؟

آئین پاکستان کا Chapter 2 : Principles of Policy ریاست کو عمومی رہنمائی فراہم کرتا ہے، لیکن ان اصولوں کو عدالت میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ آئین واضح طور پر آرٹیکل 30 کی کلاز 2 میں بیان کرتا ہے :

(2) The validity of an action or of a law shall not be called in question on the ground that it is not in accordance with the Principles of Policy, and no action shall lie against the State or any organ or authority of the State or any person on such ground.

مختصراً یہ کہ کسی بھی قانون یا اقدام کو اس بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا کہ وہ Principles of Policy کے مطابق نہیں ہے۔

عام زبان میں :

یہ شق یہ واضح کرتی ہے کہ پالیسی کے اصولوں کی خلاف ورزی کو بنیاد بنا کر کسی قانون یا ریاستی اقدام کی قانونی حیثیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ پالیسی کے اصول محض رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کی بنا پر عدالتیں کسی قانون یا حکومتی اقدام کو کالعدم قرار نہیں دے سکتیں۔

اس سب کا مطلب کیا ہے؟

جواب : کہ یہ اصول قانونی طور پر لازمی نہیں ہیں، بلکہ ریاست کے لیے ایک رہنمائی کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ لہٰذا، اگر ریاست 2028 تک سود کا خاتمہ نہیں کرتی، تو اس ترمیم کی بنیاد پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ یہ اصول زیادہ تر مشورے کے لیے ہیں اور ریاست کے عمل یا قانون سازی پر پابند نہیں ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے قانونی نتائج کیا ہوں گے؟

تو جواب یہ ہے کہ اگرچہ ترمیم میں یکم جنوری 2028 تک سود کے مکمل خاتمے کی بات کی گئی ہے، لیکن اس کا عملی اثر صرف رہنمائی تک محدود ہے۔ اس کی خلاف ورزی پر ریاست، اس کے ادارے یا کوئی بھی شخص قانونی طور پر جوابدہ نہیں ہو گا۔ آئین کے آرٹیکل 38 کے تحت کسی بھی فرد یا ریاستی ادارے کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کیا جا سکتا اگر وہ Principles of Policy پر عمل کرنے میں ناکام ہو، اور یہ واضح کرتا ہے کہ ریاست پر اس معاملے میں کوئی قانونی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔

اب یہاں ایک اور سوال ذہن میں آتا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اس قانونی اصلاحات میں کیا عمل ہونا چاہیے تھا؟

مولانا صاحب کی تجویز میں یہ اہم نکتہ شامل ہونا چاہیے تھا کہ سود کو قانونی طور پر غیر قانونی قرار دیا جائے۔ آئین میں واضح طور پر یہ شامل کیا جانا چاہیے تھا کہ یکم جنوری 2028 کے بعد سود نہ صرف غیر قانونی ہو گا بلکہ اس کے کسی بھی قسم کے نفاذ کو جرم تصور کیا جائے گا۔

اگر ایسی ترمیم کی جاتی تو اس کی قانونی حیثیت مضبوط ہوتی، اور ریاست کو سود کے خاتمے کے حوالے سے ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا۔

Facebook Comments HS