جدید ریاست کے نو رتن اور کلٹ
جب شہنشاہ اکبر نے تخت سنبھالا تو اس کی عمر صرف 13 سال تھی، ہمایوں کی اچانک موت کے بعد کم عمر شہزادے کو ایک مشکل ترین سلطنت کو سنبھالنا پڑا، اور پھر یہی اکبر، برصغیر کا کامیاب ترین بادشاہ ٹھہرا اور عظیم اکبر کہلایا۔
اکبر کے سر پر تاج تو رکھ دیا گیا لیکن امور سلطنت بادشاہ کی بلوغت تک بیرم خان کے حوالے تھے۔ اکبر کے نو رتن مشہور ہوئے۔ نو رتن یعنی نو عقلمند ترین مشیر، نو پیارے، دراصل انہی نو رتنوں کی وجہ سے بادشاہ اکبر ایک کامیاب ترین حکمران کہلائے جاتے ہیں، نو رتنوں کی تاریخ بہت پرانی ہے، یہ اپنے اپنے زمانے میں کسی بھی ریاست کی اسٹیبلشمنٹ ہوتے تھے، بادشاہ ان کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتا تھا۔
آج کی جدید ریاست میں نو رتن، اداروں کی شکل اختیار کر گئے ہیں، ان کا کردار دنیا کی ہر ریاست میں (بلا تخصیص پہلی دوسری یا تیسری دنیا) موجود ہے، بادشاہت کی جگہ جمہوریت نے لے لی ہے، لیکن نو رتن موجود ہیں، وزرائے اعظم اور صدور بدلتے رہتے ہیں لیکن نو رتنوں کا کلہ قائم، چہرے بدلتے ہیں لیکن پالیسی (زیادہ تر ریاستوں میں ) جمود کا شکار رہتی ہے۔
پرانے وقتوں میں بادشاہ کا نام ہی ریاست تھا لیکن جدید ریاست میں حکمران ریاست کی بنائی گئی پالیسیوں کا غلام ہوتا ہے، اسے ضرورت کے تحت مشاورت کے ساتھ تھوڑی بہت تبدیلی کا حق ضرور حاصل ہوتا ہے لیکن کلی طور پر وہ گزشتہ پالیسی کو لے کر چلنے کا پابند ٹھہرایا جاتا ہے۔
جدید نو رتن، حکمران کے بازو آنکھیں اور کان ہوتے ہیں، ان کی حتی الوسع کوشش ہوتی ہے کہ حکمران انہی اصولوں کے تحت ریاست کو لے کر آگے بڑھے، لیکن یاد رکھیے اگر کوئی صدر یا وزیر اعظم بادشاہ بننے کی کوشش کرے اور نو رتنوں کو اپنے باپ کا ترکہ سمجھ بیٹھے، ریاستی اداروں کو مان سنگھ یا بیرم خان تصور کرنے لگے، تو یہی لوگ اس کی حکمرانی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتے ہیں۔
جدید ریاست میں کسی کلٹ کی کوئی گنجائش نہیں، پہلی دنیا ہو یا دوسری تیسری دنیا کی ریاستیں، ان کا گزشتہ آدھی صدی کا مطالعہ ہمیں چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ سیاست تو در کنار، ریاستیں مذہب اور معاشی نظریات میں پیدا ہونے والے کلٹ کو لے کر بھی بہت پروٹیکٹو رہی ہیں، دنیا بھر میں پیدا ہونے والے کلٹ بالآخر کچل دیے گئے۔
رہی بات کمزور سیکورٹی اسٹیٹس کی، (جہاں مختلف ریاستوں کے مقاصد اسٹیکس پر ہوتے ہیں ) تو وہاں کلٹ پیدا کیے جاتے ہیں، کسی ایک مخصوص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، اس کے بعد اگر وہ (کسی بھی کمزوری کے تحت) ریاست کے گلے پڑ جائے تو ”نو رتن“ خود اس کا انجام طے کرتے ہیں۔
جدید دور میں عقلمند حکمران وہی ہے جو فرقہ یا کلٹ بننے سے بچ جائے، صرف اسی صورت ہی عوام اور ریاست کی کامیابی ہے، کم از کم آج کی تاریخ میں۔


