منٹو کا افسانہ نیا قانون اور حالیہ آئینی ترمیم
یارانِ نکتہ داں کے درمیان گزشتہ کئی دنوں سے آئینی ترمیم پر دھواں دار انداز میں بحث و مباحثہ جاری ہے ایک کہتا ہے کہ آئینی ترمیم کا بڑا فائدہ ہوا ہے تو دوسرے کا کہنا ہے کہ نہیں اس سے رتی برابر کا بھی فائدہ نہیں ہونے والا نہ کسی کی بے یارومددگار ذات کو نہ کسی کی خستہ و شکستہ حالت کو۔ لیکن مجھ ایسے کم فہم کو یہ بھی نہیں معلوم کہ آخر یہ آئینی ترمیم کس بدبلا کا نام ہے۔ سود و زیاں کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔
ہاں البتہ لفظِ آئین کئی بار پہلے بھی ان گنہگار کانوں سے سن چکا ہوں۔ آئین۔ کیا آئین؟ کہاں کا اور کس قسم کا آئین! بھلا کوئی آئین ہے بھی جس میں ترمیم کی بھی ضرورت پیش آتی ہے! میرے ایک رفیق کار نے گزشتہ دنوں سگریٹ کا ایک گہرا کش لگایا، فضا میں دھواں چھوڑا پھر میری جانب متوجہ ہوا اور خم ٹھونک کر کہا ارے یہ تو جنگلستاں ہے۔ کون سا آئین اور کیا نیا قانون؟ یہ کہہ کر وہ چپ ہو گئے مگر لفظ نیا قانون سن کر میرا ذہن فوراً سعادت حسن منٹو کا افسانہ ”نیا قانون“ کی جانب منتقل ہوا۔
یارو! یہ منٹو بڑا چالاک اور بے باک آدمی تھا افسانہ ”نیا قانون“ غالباً ایسے ہی کسی خاص موقع پر لکھا ہو گا جب ہندوستانی معاشرے میں نئے قانون کا چرچا کو بہ کو پھیل گیا تھا اس زمانے کی سیاسی گھٹن کے شکار معاشرے میں جہاں معمولی سی بات جنگل میں آگ کی طرح پھیلنے کا خدشہ ہو اور کسی کو موت کے گھاٹ اتار دینا مکھی مارنے کی بھی برابر نہ ہو وہاں اس قدر بے باکی سے ”نیا قانون“ جیسے افسانہ لکھ جانا یقیناً جرات کی بات ہے۔
یاران ِ نکتہ داں! ذرا غور سے سنیے اس افسانے کا مرکزی کردار منگو کوچوان ہے۔ پیشہ کوچوانی اگرچہ تعلیمی اعتبار سے ناخواندہ تھا لیکن اپنے حلقہ ء احباب میں بڑا ذہین اور قابل سمجھا جاتا تھا کیونکہ ان کے تانگے میں طرح طرح کے لوگ سفر کرتے اور ان لوگوں کی باہمی گفت و شنید کو یہ بغور سنتے ایسے منگو کوچوان کے پاس معلومات کے انبار لگ جاتے بعد ازاں اپنے اڈے پر آ کر باقی کوچوانوں کو قصے سناتا یوں ان کا چرچا ہوتا۔
ایک روز استاد منگو نے کچہری سے اپنے تانگے پر دو سواریاں لا دیں اور ان کی گفتگو سے اس کو پتہ چلا کہ ہندستان میں جدید آئین نافذ ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ شام کو اڈے پر وہ خبر سنانے کے لیے پہنچا تو وہاں کسی جان پہچان کو نہ پا کر نہایت رنجیدہ ہو گیا کیونکہ آج وہ ایک بڑی خبر سنانے والا تھا۔ یکم اپریل کی صبح جب نمودار ہوئی جس کے لیے انہوں پورا مہینہ انتظار کیا تھا کیونکہ آج یعنی یکم اپریل کو ملک میں نیا قانون نافذ ہونا تھا۔
منگو استاد نے صبح کے سرد دھندلکے میں کئی تنگ اور کھلے بازاروں کا چکر لگایا مگر اسے ہر چیز پرانی نظر آئی“ پھر یہاں سے وہ گورنمنٹ کالج، انار کلی بازار اور مال روڈ سے ہوتا ہوا چھاؤنی تک پہنچ گیا کہیں بھی اور کسی چیز میں انہیں کوئی نئی بات نظر نہ آئی۔ منگو استاد کی سیہ بختی دیکھیے چھاؤنی سے ان کے تانگے پر ایک گورا سوار ہوا منگو نے اس گورے کو فوراً پہچان لیا یہ وہی گورا تھا جس سے پچھلے برس اس کی جھڑپ ہوئی تھی۔ کسی بات پر پھر سے ان دونوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی لوگ جمع ہو گئے بڑی مشکل سے ایک دوسرے کو الگ کیا۔ منگو گورے سے ہانپتی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا کہ
وہ دن گزر گئے۔ جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ اب نیا قانون ہے میاں۔ نیا قانون!
افسانے کا اختتام منٹو نے جس انداز میں کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ذرا دیکھیے
”استاد منگو کو پولیس کے سپاہی تھانے لے گئے۔ راستے میں اور تھانے کے اندر وہ نیا قانون، نیا قانون چلاتا رہا مگر کسی نے ایک نہ سنی۔
’نیا قانون‘ نیا قانون کیا بک رہے ہو۔ قانون وہی ہے پرانا! ”اور اس کو حوالات میں بند کر دیا گیا۔“
حالیہ آئینی ترمیم کو بھی ہم اور آپ کچھ اسی نظر سے دیکھ اور پرکھ سکتے ہیں آخر میں بس ایک ہی بات کر کے زحمت تمام کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے افسانے کے درمیان میں کہیں منٹو نے لکھا ہے کہ
استاد منگو کو انگریزوں سے بڑی نفرت تھی۔ اس کی تنفر کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستایا کرتے تھے وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے گویا وہ ایک ذلیل کتا ہے۔


