کینسر (سرطان)


کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم کے خلیے بے قابو ہو کر بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں اور یہ پھیلاؤ جسم کے مختلف حصوں میں ہو سکتا ہے۔ عام طور پر، جسم کے خلیے ایک خاص طریقے سے تقسیم در تقسیم اور بڑھتے ہیں، لیکن کینسر میں یہ عمل غیر معمولی ہو جاتا ہے۔ یہ غیر معمولی خلیے ٹشو یا اعضا میں گلٹی یا ٹیومر کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

کینسر اس وقت پھیلتا ہے جب غیر معمولی خلیے ٹوٹ کر خون یا لمفی نظام کے ذریعے جسم کے دوسرے حصوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ عمل میٹاسٹیسس کہلاتا ہے۔ جب یہ خلیے دوسرے حصوں میں پہنچ کر وہاں بھی بے قابو ہو کر بڑھنے لگتے ہیں تو نئے ٹیومر بنتے ہیں، جسے ”میٹاسٹیٹک کینسر“ کہا جاتا ہے۔

کینسر کی کئی اقسام ہیں، جو جسم کے مختلف حصوں میں پیدا ہو سکتی ہیں۔ چند اہم اقسام درج ذیل ہیں :

1۔ کارسینوما (Carcinoma) : یہ سب سے عام قسم کا کینسر ہے جو جلد، پھیپھڑوں، جگر، اور دیگر اعضاء کے خلیوں میں پیدا ہوتا ہے۔

2۔ سارکوما (Sarcoma) : یہ کینسر ہڈیوں، پٹھوں، اور دیگر کنیکٹو ٹشوز میں پیدا ہوتا ہے۔

3۔ لیوکیمیا (Leukemia) : یہ خون کے خلیوں میں پیدا ہونے والا کینسر ہے، خاص طور پر سفید خون کے خلیے بے قابو ہو کر بڑھتے ہیں۔

4۔ لیمفوما (Lymphoma) : یہ کینسر لمفی نظام کے خلیوں میں پیدا ہوتا ہے اور جسم کے مدافعتی نظام کو متاثر کرتا ہے۔

5۔ میلوما (Myeloma) : یہ کینسر پلازما خلیوں میں پیدا ہوتا ہے، جو کہ خون میں موجود مخصوص قسم کے خلیے ہیں۔

6۔ نیورو بلاسٹوما (Neuroblastoma) : یہ اعصابی خلیوں میں پیدا ہونے والا کینسر ہے اور عام طور پر بچوں میں پایا جاتا ہے۔

کینسر کی ابتدائی تشخیص اور علاج سے اس بیماری کا موثر علاج ممکن ہو سکتا ہے، لیکن پھیلنے کی صورت میں یہ بہت پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے۔

کینسر سے بچاؤ اور علاج کے حوالے سے کئی عوامل ہیں جن پر غور کیا جاتا ہے۔ احتیاطی تدابیر، ابتدائی تشخیص اور جدید علاج کے طریقے اہم ہیں تاکہ کینسر کو روکنے اور اس کا موثر علاج کیا جا سکے۔

کینسر سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر:

1۔ صحت مند غذا: متوازن اور صحت مند غذا کا استعمال کینسر سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تازہ سبزیاں، پھل، اناج اور فائبر والی غذائیں کینسر کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔ خاص طور پر سرخ گوشت، پراسیسڈ فوڈ اور زیادہ چکنائی والی غذا سے پرہیز کرنا چاہیے۔

2۔ تمباکو نوشی سے اجتناب: تمباکو نوشی اور سگریٹ کینسر کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، خاص طور پر پھیپھڑوں، منہ، گلے اور مثانے کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

3۔ شراب سے پرہیز: زیادہ مقدار میں شراب پینے سے جگر، چھاتی اور دیگر اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا بہتر ہے۔

4۔ سورج سے بچاؤ: زیادہ دیر تک سورج کی براہ راست روشنی میں رہنا جلد کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے سن اسکرین استعمال کریں اور سورج کی روشنی میں جانے سے پرہیز کریں، خاص طور پر دوپہر کے وقت۔

5۔ ورزش اور وزن کو کنٹرول میں رکھنا: باقاعدگی سے ورزش کرنے اور وزن کو مناسب سطح پر رکھنے سے کینسر کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر چھاتی، بڑی آنت اور رحم کے کینسر میں۔

6۔ ویکسینیشن: ہیپاٹائٹس بی اور ایچ پی وی (HPV) جیسے وائرس کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کے خلاف ویکسین لگوانے سے بچاؤ ممکن ہے۔

7۔ ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ: ایسی جگہوں پر کام کرنے یا رہنے سے اجتناب کریں جہاں کیمیکل یا دیگر زہریلے مادے موجود ہوں، جیسے ایس بیسٹوس یا کیمیکل فیکٹریوں کی قریبی جگہیں۔

کینسر کے علاج کے مختلف طریقے :

1۔ سرجری: اگر کینسر ابتدائی مرحلے میں ہو تو ٹیومر کو جسم سے نکالنے کے لیے سرجری کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ خاص طور پر ٹھوس ٹیومر کے لیے موثر ہوتا ہے۔

2۔ کیموتھراپی (Chemotherapy) : یہ کینسر کے خلیوں کو مارنے کے لیے ادویات کا استعمال کرتی ہے۔ کیموتھراپی کا استعمال عام طور پر اس وقت کیا جاتا ہے جب کینسر پھیل چکا ہو یا میٹاسٹیٹک ہو چکا ہو۔

3۔ ریڈیوتھراپی (Radiotherapy) : اس میں کینسر کے خلیوں کو تباہ کرنے کے لیے ریڈی ایشن (شعاعوں ) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ خاص طور پر اس صورت میں استعمال ہوتی ہے جب کینسر کسی ایک جگہ پر مرکوز ہو۔

4۔ امیونوتھراپی (Immunotherapy) : یہ طریقہ علاج جسم کے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلیوں کے خلاف لڑنے کے قابل بناتا ہے۔ اس میں مخصوص دوائیں استعمال کی جاتی ہیں جو مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہیں۔

5۔ ہارمون تھراپی: کچھ کینسر ہارمونز کی تبدیلی سے بڑھتے ہیں، جیسے چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر۔ ہارمون تھراپی میں ہارمونز کی سطح کو کنٹرول کیا جاتا ہے تاکہ کینسر کی بڑھوتری روکی جا سکے۔

6۔ ٹارگٹڈ تھراپی (Targeted Therapy) : اس میں ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جو خاص طور پر کینسر کے خلیوں کے مخصوص مالیکیولز کو نشانہ بناتی ہیں، بغیر اس کے کہ جسم کے دوسرے خلیے متاثر ہوں۔

7۔ سٹیم سیل تھراپی: بعض صورتوں میں، خون کے کینسر جیسے لیوکیمیا کے علاج کے لیے اسٹیم سیل تھراپی کا استعمال کیا جاتا ہے، جس میں مریض کے متاثرہ خلیوں کو تبدیل کیا جاتا ہے۔

ابتدائی تشخیص:

کینسر کی بروقت تشخیص کینسر کے موثر علاج کا ایک اہم پہلو ہے۔ اس کے لیے کچھ عام ٹیسٹ اور سکریننگ جیسے :

میموگرافی (چھاتی کے کینسر کی سکریننگ)
پیپ سمیر (رحم کے کینسر کی سکریننگ)
کلونوسکوپی (بڑی آنت کے کینسر کی سکریننگ)
پروسٹیٹ کی جانچ
یہ ٹیسٹ اور سکریننگ کینسر کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے اس کی تشخیص میں مدد دیتے ہیں۔

کینسر سے بچاؤ کا بہترین طریقہ احتیاط اور بروقت تشخیص ہے، جبکہ علاج کے مختلف طریقے کینسر کی نوعیت اور اس کے پھیلاؤ پر منحصر ہیں۔

 

Facebook Comments HS