کیا فیس بک بند کرنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟

مذہب کی آڑ میں اپنے ہی مذہب کو جتنا نقصان ہم پہنچا بیٹھے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ہمارا دین تو ہمیں امن و پیار کا درس دیتاہے اس پیام کو بھلانا بلکہ اس کے خلاف کام کرنا توہین نہیں تو کیا ہے، ہمارا مذہب تو خواتین کی عزت،بچوں پر شفقت سے پیش آنے کا سبق دیتا ہے، ایسا نہ کرنا توہین نہیں، کم ہی ایسے مولانا حضرات ملیں گے جو آپ کو اللہ کے رحمتیں بتا رہے ہوں گے زیادہ تر کیا سننے کو ملتا ہے ‘اللہ نے اس فعل کے جواب میں عذاب تیار کر رکھا ہے ‘ ‘تم لوگ توبہ نہیں کرتے اس لیے تم پر عذاب آرہے ہیں’، اللہ کی طرف سے آنے والی آزمائیشوں کو بھی عذاب کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ، اپنی بات آئے تو اللہ غفور الرحیم دوسرے کی بات ہو تو اللہ عذاب و سزا دینے والا،ارے بھائی کچھ تو خدا کا خوف کرو ، یہ وہی لوگ ہیں جو دین سے دور لوگوں کو دین کی طرف لانے کی بجائے جہنم کے عذاب گنوا گنوا کر اور دور بھگا دیتے ہیں۔ پھر کچھ وہ حضرات بھی ہیں جو دین کے نام پر بچوں کے دماغوں سے کھیلتے ہیں، انہیں جن اور حوروں کا لالچ دے کر خود کش دھماکوں کی ترغیب دیتے ہیں ، دونوں بیان کی گئیں اقسام انتہا پسند ہیں ، دین اسلام تو دین ہی میانہ روی کا ہے ، نا زیادہ بڑھا ہوا نہ کم ۔ ہمیں اس سوچ کا ادرک کرنا ہے،توہین رسالت ؐو مذہب کسی صورت قابل قبول نہیں مگر جب تک کافر کافر کی تکرار بند نہیں ہو گی توہین مذہب نہیں رُکے گی، جب تک ہم ایک دوسرے سے دست و گریباں رہیں گے دین کے دشمن فائدہ اُٹھائیں گے اور انہیں توہین کرنے کی جرات رہے گی، ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا اگر ہم کسی کے مذ ہب کو برا بھلا کہیں گے تو وہ ہمارے مذہب و افکار کو بھی برا کہیں گے
پروردگار عالم قران کریم میں ارشاد فرماتا ہے
"اور جن کی یہ اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں انہیں برا نہ کہو ورنہ وہ بے سمجھی میں زیادتی کر کے اللہ کو برا کہیں گے، اس طرح ہر ایک جماعت کی نظر میں ان کے اعمال کو ہم نے آراستہ کر دیا ہے، پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر آنا ہے تب وہ انہیں بتلائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔”(سورۃ انعام )

