سوزانا اروندھتی رائے: تعارف و تجزیہ


Rubab Tehniyat Malik

سوزانا اروندھتی رائے (پیدائش 24 نومبر 1961 ء) بھارتی مصنفہ اور میری پسندیدہ لکھاری بھی ہیں۔ آپ ایک سیاسی فعال شخصیت ہیں جو انسانی حقوق اور ماحولیاتی شعور کے لیے کام کرتی ہیں

اروندھتی رائے دی گاڈ آف سمال تھِنگز کی مصنفہ ہیں یہ ان کی وہ تخلیق ہے جس نے 1998 ءمیں بُکر پرائز جیتا۔

دی گاڈ آف سمال تھنگز ایک ایسا ناول ہے جس میں سماج کی ذہنی کیفیات اور انسانی شخصیت پر ان کے اثرات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ برادرانہ جڑواں بچوں کے بچپن کے تجربات کے بارے میں ایک کہانی ہے جن کی زندگیاں 1960 کی دہائی میں کیرالہ، ہندوستان میں رائج ”محبت کے قوانین“ سے تباہ ہو جاتی ہیں۔ ناول اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح چھوٹے، بظاہر غیر اہم واقعات، فیصلے اور تجربات لوگوں کے رویے کو گہرے اور اہم طریقوں سے تشکیل دیتے ہیں۔ یہ ناول ہندوستان میں ذات پات کے دیرپا اثرات کی بھی کھوج کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ ناول ہندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی نظام پر خصوصاً ثقافتی طور پر تنقید کرتا ہے۔

ان کی دوسری کتاب ”دی منسٹری آف اٹموسٹ ہیپی نیس“ بھی مین بُکر پرائز 2018 کے لیے منتخب کی گئی۔ اروندھتی رائے کی گزارش پر معروف مترجم ارجمند آرا نے تین مہینے دس دن لگا کر ناول کا ’بے پناہ شادمانی کی مملکت‘ کے عنوان سے اردو ترجمہ کیا اور مصنف کے ساتھ کئی گھنٹوں پر مشتمل طویل اٹھارہ بیٹھکوں میں ترجمے پر نظرثانی کی، اس پُر مشقت طریقے سے ناول کا ایک معیاری اردو متن، منشائے مصنف کے عین مطابق اردو زبان میں ڈھلا۔

ناول بارہ ابواب پر مشتمل ہے، ان بارہ ابواب کے عنوانات کی ترتیب کچھ یوں ہے۔ بوڑھی چڑیاں مرنے کے لیے کہاں جاتی ہیں، خواب گاہ، ولادت، ڈاکٹر آزاد بھارتیہ، دھیما تعاقب، بعد کے لیے چند سوال، مکان مالک، کرایہ دار، مس جبین اول کی بے وقت موت، بے پناہ شادمانی کی مملکت، مکان مالک اور گوہِ کیوم۔

یہ دونوں ناول چالیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ 2019 ء میں شائع ہونے والی ان کی کتاب ”میرا باغی دل“ ہے۔ جس میں ان کی دو دہائیوں کی تحریریں جمع کی گئی ہیں۔ یہ وہ عرصہ تھا جب اروندھتی رائے نے مخاصمت کے بڑھتے ہوئے ماحول میں انصاف، حقوق اور آزادی کا راستہ ہم وار کرنے کی خاطر خود کو سیاسی مضامین کے لیے وقف کر رکھا تھا۔

’آزادی‘ کی للکار بھارتی قبضے کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد کا نعرۂ مستانہ ہے۔ لطف یہ ہے کہ یہی نعرہ ہندو قوم پرستی کے منصوبے کے خلاف انڈیا کی سڑکوں پر نکلے لاکھوں افراد کا نعرہ بھی بن گیا۔

ابھی اروندھتی رائے نے یہ پوچھنا شروع ہی کیا تھا کہ آزادی کے ان دو مطالبات کے درمیان ہے کیا؟ ایک خلیج یا ایک پُل؟ کہ سڑکیں خاموش ہو گئیں۔ صرف بھارت ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں کرونا وائرس اپنے ساتھ آزادی کی ایک اور، اور زیادہ دہشت ناک تفہیم لے کر آیا جس نے بین الاقوامی سرحدوں کو لایعنی بنا کر رکھ دیا۔ پوری پوری آبادیاں اس نتیجے میں گھروں پر بند ہو کر رہ گئیں اور اس نے جدید دنیا کا پہیہ ایسے روک کر رکھ دیا جیسے کوئی اور شے کبھی روک نہ سکتی۔

ان تہلکہ خیز مضامین میں اروندھتی رائے ہمیں ایک ایسی دنیا میں آزادی کے معنی پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے جہاں استبداد کا راج بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

ان مضامین میں عوامی اور نجی زبان کے ساتھ ساتھ اضطراب کے دنوں میں فکشن اور متبادل تخیل کے کردار پر غور و فکر بھی شامل ہے۔ اروندھتی رائے کہتی ہیں کہ کرونا وائرس جیسی عالمی وبا ایک دنیا اور دوسری دنیا کے درمیان ایک پورٹل، ایک راستہ ہے۔ یہ وبا اپنے ساتھ جتنی بھی بیماری اور تباہی لائی ہو، یہ نسلِ انسانی کے لیے ایک دعوت بھی ہے اور ایک موقع بھی کہ وہ کسی متبادل دنیا کہ بارے میں سوچ سکیں۔

اروندھتی رائے کہتی ہیں۔

”If we were to lose the ability to be emotional, if we were to lose the ability to be angry, to be outraged, we would be robots. And I refuse that.“

” اگر ہم جذباتی نہ ہوں اگر ہم غصہ کرنے کی صلاحیت یا غصے میں آنے کی صلاحیت کھو دیں،
تو ہم انسان نہیں روبوٹ ہوں گے۔ اور میں اس سے انکار کرتی ہوں“

یہ ان کا مختصر سا تعارف تھا مزید یہ کہنا چاہوں گی کہ اگر آپ بھی سماجی رویوں، سیاسی مباحث، انسان دوستی، حقوق نسواں، آزادی کے مفاہیم کو سمجھنے اور نئے زاویے سے آزادی کو پرکھنا چاہتے ہیں تو ان آزاد خیال اور ترقی پسند مصنفہ کی تخلیقات ضرور پڑھیں۔

Facebook Comments HS