اقراء ۔ ۔ ۔ پڑھیے


پہلی وحی کے واقعہ میں توجہ مبذول کروانے والا لفظ اقراء ہے۔ اقراء خالصتاً عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی پڑھنا ہے۔ وسیع معنی میں اس کا مطلب درس و تدریس کا پہلا عمل لیا گیا ہے۔ ہمارے پیارے رسول حضرت محمد پر اس حکم کے ساتھ نبوت کے دروازے واقعہ کیے گئے کہ پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ پڑھئے، سمجھئے، جانیے اور تبلیغ کیجئے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سوچنا، سمجھنا، جاننا انسان کی بنیادی فطرت ہے۔ یہ عمل زمانہ طفلی سے شروع ہوتا ہے اور تمام عمر جاری رہتا ہے۔ درس و تدریس معاشرے کا اہم ترین ستون ہے جو افراد معاشرہ کو قوت معاشرہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مگر موجودہ دور کا عام مشاہدہ ہے کہ تعلیمی ادارے ہر لحاظ سے تنزلی کا شکار ہیں۔ ہماری کتاب، ہمارا نصاب، ہمراہ ماحول سب ملاوٹ و گراوٹ کا عملی نمونہ ہیں۔

سکولوں کی انتظامیہ نصابی، ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے نام پہ بچوں پر غیر ضروری بوجھ لاد دیتے ہیں۔ ان تمام تہواروں کا معاشی بوجھ والدین کے کندھوں پر آتا ہے۔ سکول و کالج کے بعد سر شام ہی اکیڈمی جانا گویا نیا رواج ہو جس کو نہ اپنانے والا یہاں اس عظیم معاشرے کا اہل نہیں ہوتا۔

تعلیم کے نام پہ محض صفحات کالے کرنا، نمبروں کی دوڑ میں لگ جانا، اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر محض چار کتابیں رٹ لینا۔ آج کے عہد میں ہمارے لیے اقراء کی یہی حقیقت ہے۔

عمل کی بنیاد علم پر ہے۔ بنیادیں کھوکھلی ہوں تو خوشنما عمارت بھی زمین بوس ہو جاتی ہے۔ اب اگر موجودہ دور کا باشندہ اپنے ہم عصروں سے بھلائی، خیر و عافیت اور ذہنی پختگی کی آس لیے عمل و قابلیت کے جواہر دیکھنے کا منتظر ہے تو وہ بیوقوفوں کی جنت کا باسی ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “اقراء ۔ ۔ ۔ پڑھیے

  • 09/11/2024 at 11:06 صبح
    Permalink

    Very nice

Comments are closed.