پیپلز پارٹی اور پاکستان کا المیہ

کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اتار چڑھاﺅ ایک قدرتی عمل ہے مگر ہر بار گرنے کے بعد دوبارہ سے ابھرنے کے لیے لیڈرشپ کی ضرورت ہوتی ہے چاہے گرنے والی قوم ہو یا کوئی سیاسی جماعت۔ پاکستان کی سیاست میں لیڈرشپ کے حوالے سے کوئی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی جتنی مالا مال نہیں رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو اگر ایک لمحے کے لیے ذہن سے ہٹا بھی دیا جاے تو بھی ملک معراج خالد، حنیف رامے، عظیم فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے لوگ پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے اور اگر پاکستانی سیاست کی تاریخ دیکھی جاے تو ان جیسے لوگ چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔ پیپلز پارٹی نے ان لوگوں کو بنایا یا ان لوگوں نے پیپلز پارٹی کو اس کا فیصلہ تھوڑا مشکل ہے مگر اس میں تو کوئی دو رائے میرے خیال میں ممکن نہیں کہ اپنے جوبن کے دور کی پیپلز پارٹی کا مقابلہ پاکستانی تو کیا جنوبی ایشیا کی تاریخ کی کوئی سیاسی جماعت نہیں کر سکتی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی لیڈرشپ کوالٹی کی ایک دنیا گواہ ہے اور سانحہ ڈھاکہ میں جو کردار ذوالفقار بھٹو کا تھا میں اس سے ہرگز انکاری نہیں اور شاید بھٹو کی سیاسی زندگی کا یہ واحد داغ ہے مگر لیڈر کی تعریف اگر یہ ہے کہ وہ ہر طرح کی غلطی سے ماورا ہے تو پھر شاید تاریخ میں کوئی لیڈر ہی نہ ملے۔ اسلامی اتحاد کی کوشش میں جس حد تک کامیابی بھٹو کو حاصل ہوئی اس کا عشر عشیر بھی آج کے مسلم رہنما حاصل نہیں کر سکتے۔ ایٹمی پروگرام پر بھٹو نے پوری دنیا کو گول گول گھما دیا اور فرانس سے ایک ایسے ایٹمی معاہدے کا ذ کر کے جس کو پاکستان نے کبھی حاصل کرنا ہی نہیں چاہا تھا بھٹو نے اصلی ایٹمی پروگرام سے دنیا کو لاعلم رکھا۔
بھٹو کے مقابلے میں ان کی صاحبزادی بطور مجموعی لیڈرشپ کی صلاحیتوں میں بہت بونی ثابت ہوئیں مگر اگر صرف سیاست کے زاویے سے دیکھا جاے تو وہ اپنے باپ سے کافی بہتر سیاستدان تھی۔کمزور لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو نے پیپلز پارٹی کے دیرینہ اور بنیادی منشور یعنی کمیونزم پر ایک بڑا یو ٹرن مار کر کیپٹلسٹ طبقے کو ساتھ ملانے کی کوشش کی جس سے پیپلز پارٹی کا نظریاتی طبقہ ان سے ناراض بھی رہا مگر کمال سیاستدان بے نظیر بھٹو نے مفاہمت اور مزاحمت میں ایک ایسا خوبصورت امتزاج برقرار رکھا کہ دشمن اور دوست سب ہی اپنے اپنے وقت پر محترمہ کے ہاتھوں استعمال ہوئے۔ آصف زرداری کی صرف مفاہمت کی پالیسی پیپلز پارٹی کو لے ڈوبی تو عمران خان کی صرف مزاحمت کی پالیسی نے تحریک انصاف کو خاصا نقصان پہنچایا۔ پچھلے ایک عشرے میں نواز شریف بھی محترمہ کے سیاسی فلسفے پر گامزن ہیں۔
ذوالفقار بھٹو سے لے کر نواز شریف اور عمران خان تک سب سیاستدانوں نے انڈر کانفیڈینس سے اوور کانفیڈینس تک کا سفر بہت تیزی سے طے کیا مگر محترمہ نے ہمیشہ سیاسی حالات کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگایا۔ یہی وجہ ہے کہ تیس سال سے زائد عرصے تک وہ نہ تو کبھی مارشل لا کا شکار ہوئیں اور نہ ہی کبھی کسی سیاسی بلیک میلنگ کا۔ بطور سیاستدان ایک بڑی کامیابی جو محترمہ نے حا صل کی وہ یہ تھی کی ان کے شوہر مسٹر ٹین پرسینٹ کے نام سے بدنام ہوئے تو بھی پاکستانی معاشرے کے ایک بڑے طبقے نے بے نظیر کی ذات کو آصف زرداری کی کرپشن سے الگ سمجھا۔
اگر سیاست کے بصیرت کے پہلو کو سمجھا جائے تو بے نظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت انہیں اپنے والد کے مقابلے میں معاشی ویژن کے فقدان اور سفارتی کمزوری کے باوجود لیڈرشپ کی صف میں ضرورکھڑا کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی کومفاہمت کی نہیں ایک اور بے نظیر بھٹو کی ضرورت ہے جو جیالوں کو متحرک بھی رکھے اور سیاسی پتے بھی ٹھیک کھیلے۔ پاکستان کوایک ایسے ذوالفقار علی بھٹو کی ضرورت ہے جس کی سیاسی بصیرت محترمہ بے نظیر بھٹو سے مستعار لی ہو جو سفارتی اور معاشی محاذ پر اسلامی اتحاد کو لیڈ کر سکے اور سیاسی محاذ پر کسی مارشل لا کا شکار نہ ہو۔

