ایران کا ثقافتی ورثہ جہاد ہے اور مرگ بر فیمینیزم!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایران سے آنے والی تازہ خبروں کے مطابق جہاد کو آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنا ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے۔ خامنہ ای ایک سرگرم انقلابی رہے، شاہ ایران کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے تھے، جلا وطن ہونا پڑا۔ انقلاب کے بعد آئے تو بہت سے اہم عہدے ان کے منتظر تھے۔ تہران سے پارلیمینٹ کے نمائندے بنے، شورای انقلاب میں اہم مقام پر فائز رہے، تہران کے امام جمعہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور نائب وزیر دفاع بھی رہے۔ یہ سب ہونے کے بعد انہیں دو مرتبہ ایران کا صدر چنا گیا اور پھر جب خمینی صاحب کا انتقال ہوا تو انہیں ایرانی انقلاب کا رہبر اور بطور مذہبی رہنما چن لیا گیا۔ تو خامنہ ای صاحب نے ایرانی عوام کو بتایا، ”ثقافتی ورثہ کیا ہے؟ مثال کے طور پر، جہاد کے لیے تیار رہنا اور اس پر یقین رکھنا ثقافتی ورثے کہا جائے گا۔ “

اس کے بعد اپنے بیان میں انہوں نے مرد عورت کی برابری کو بھی مغربی اور صیہونی سازش قرار دیا اور انکشاف کیا کہ مغربی تھنکرز اب یہ سب کچھ کرنے کے بعد پچھتا رہے ہیں۔ فیمینیزم یہودیوں کی پیداوار ہے اور ہمیں اس سے دور رہنا چاہئیے۔ یاد رہے کہ خامنہ ای ایران میں سپریم لیڈر یا رہبر معظم ہیں جو وہاں صدر سے بڑا بلکہ سب سے بڑا عہدہ ہوتا ہے۔ تمام سرکاری اور فوجی تقرریاں تک ان کی مرضی سے ہوتی ہیں اور وہ کسی کو جواب دہ نہیں ہیں۔

ایران میں جہاں پہلے ہی خواتین پر سخت ترین پابندیاں ہیں، ان کے لیے سکارف اور مخصوص طرز کا برقع موجود ہے، اعلی تعلیمی مواقع کم ہیں، نوکریاں کرنے کو برا سمجھا جاتا ہے، کھیلوں میں وہ زیادہ حصہ نہیں لے سکتیں، گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہ مردوں کے زیر تسلط ہیں، معلوم نہیں کہ وہاں آیت اللہ کو فیمینیزم سے ایسا کیا خطرہ محسوس ہوا جو انہوں نے اسے بھی شیطان بزرگ والے کھاتے میں ڈال دیا۔ ایسا سخت ترین قانون ہو کہ حجاب کی پاسداری نہ ہونے کی صورت میں عورتیں گرفتار ہو جائیں، اخلاقی پولیس زندہ باد، سائیکل چلانے پر جیل کے دروازے کھل جائیں اور یہاں تک کہ انسٹاگرام پر بغیر سکارف تصویر لگانے پر دھر لی جائیں تو وہاں فیمینیزم بے چارہ کس کھیت کی مولی ہے۔ جہاں فیمیل ہونا چھتیس پابندیاں لگا دے وہاں چہ فیمینیزم اور چہ اس کا شوربہ! چند خواتین صرف حجاب کے بغیر سوشل میڈیا پر تصویریں لگاتی ہیں اور اسی پر وہ بیبیاں اتنی خوش ہیں تو حکومت کی تو موج ہے کہ وہ اور کچھ نہیں مانگتیں، اگر ان سے ناراض ہو کر آپ فیمینیزم پر بیان دیں گے تو آپ خود اپنی بچیوں کو ایک نیا راستہ دکھا رہے ہوں گے اور عالمی میڈیا کو الگ چٹ پٹی خبریں پیش کریں گے۔

یہ وہ انقلاب تھا کہ جس میں بائیں بازو کی خواتین نے بڑے پیمانے پر مردوں کے ساتھ احتجاجی مظاپرے کیے تھے تاکہ انہیں شاہ ایران کے جبر واستبداد سے نجات مل سکے مگر ایک اور دریا ان کا منتظر تھا جب وہ پہلے دریا کے پار ہوئیں۔ انقلاب کے فورا بعد شروع کے چند احکامات میں سے ایک حجاب تھا، جس کے خلاف ترقی پسند ایرانی خواتین عین اسی وقت سے جنگ لڑ رہی ہیں لیکن ابھی تک کوئی خاص کامیابی نظر نہیں آتی۔ مسیح النژاد، معصومہ عطائی اور نیلوفر عردلان وہاں حقوق نسواں کی جنگ میں موجود بڑے نام ہیں۔ اس سب کے باوجود اتنا ممکن ہوا ہے کہ خواتین بچ بچا کر رنگ دار دوپٹے سروں پر حجاب کے سے سٹائل میں اوڑھ لیتی ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہاں معصومہ عطائی پر ان کے سسر نے تیزاب پھینک کر انہیں اندھا کر دیا ہے، نیلوفر ایک بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے میں اپنے شوہر کی روک ٹوک کے باعث نہیں جا سکیں اور مسیح النژاد ویسے بھی ”مائی سٹیلتھی فریڈم“ نامی مہم کی وجہ سے زیر عتاب رہتی ہیں۔ یہ وہی مہم ہے جو حجاب کے بغیر سوشل میڈیا پر تصویریں پوسٹ کرنے کے لیے شروع ہوئی تھی۔ حجاب یا پردے پر کسے اعتراض ہو سکتا ہے، لیکن جب ریاست اسے مسلط کر دے اور بلاتخصیص ہر ذی عقل خاتون کے لیے وہ لازم ہو جائے، تو پھر ایسے راستے ڈھونڈے جاتے ہیں۔ ابھی اسی مہینے عاصمہ جہانگیر بھی ایران میں انسانی حقوق کی المناک صورت حال پر ایک طویل رپورٹ اقوام متحدہ میں پیش کر چکی ہیں۔

آیت اللہ کے ان دو بیانات پر تفصیلی روشنی ڈالنے کی ضرورت اس لیے تھی کہ پاکستان میں ایک اچھا خاصہ طبقہ ان کا فالوور ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے مقلدین ہمارے فقہی محاذوں پر خیمہ زن ہیں۔ جہاد کے معاملے پر ابھی تک ایران کا موقف ایسے واضح الفاظ میں نہیں آیا تھا، نہ ہی بحیثیت مجموعی فیمینیزم پر واضح بات کی گئی تھی۔ دنیا کی ایک قدیم ترین تہذیب کا حامل ایران، آذر، مانی، بہزاد، حافظ، سعدی، نظیری اور رومی کا ایران، اشکانیوں اور ساسانیوں کے آثار قدیمہ رکھنے والا ایران، زرتشت کا ایران، فروغ فرخ زاد اور شیریں عبادی کا ایران، ڈاکٹر مصدق کا ایران اگر آج جہاد کو اپنا ثقافتی ورثہ قرار دیتا ہے تو ہمیں اپنی فکری بنیادوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ریاست کے اندر موجود تشدد پسند عناصر پہلے ہی بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں، ایک فرقہ مزید اس بنیاد پرست سوچ کی نذر ہو جائے، اس سے پہلے بہت کچھ سوچنا چاہئیے اور سمتیں ری ڈیفائن ہونی چاہئیں۔ ہماری بہنیں بیٹیاں اپنے شوق سے پردہ کریں، سکارف لیں، برقع اوڑھیں، سو بسم اللہ، لیکن کسی اور ملک سے اگر شدت پسندانہ سوچ درآمد کی جائے گی تو بھئی ہمارے یہاں پہلے بھی کمی نہیں ہے، اپنا دین دھرم سنبھالیے اور دوسروں کو ان کے دین پر رہنے دیجیے۔

سیمیں بہبانی ابھی دو سال پہلے انتقال کر گئیں، ایرانی شاعر تھیں، ان کی نظم میں حزن و ملال دیکھیے اور شکر کیجیے کہ ابھی ہم بہرحال اس کیفیت سے دور ہیں؛

دل بہت اداس ہے اے دوست
یہ آنسو بہانا چھوڑ کر
اگر اس پنجرے سے دور جانا بھی چاہوں
تو کہاں جاوں؟ کس جگہ جاؤں
مجھے گلشن کا راستہ بھی نہیں آتا
میں نے تو بس یہی قفس دیکھا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 486 posts and counting.See all posts by husnain