قدیم چینی مفکر کنفیوشس کے مکالمات

اپنا غیر مشہور ہونا مجھے پریشان نہیں کرتا۔ اصل پریشانی یہ ہے کہ میں دوسروں کو نہیں جانتا ”یہ اس مفکر کی باتیں ہیں جسے دنیا کنفیوشس کے نام سے یاد کرتی ہے۔ ان کی زندگی لوگوں کو تعلیمات دینے میں کٹ گئی تھی۔ ان کی تعلیمات سے آج دنیا سیراب ہو رہی ہے۔ نئے مفکر پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کی حکایات سے لوگوں کی فکری صلاحیتیں روشن ہو رہی ہیں۔ 479 قبل مسیح میں اس کی اولیٰ حکایت لوگوں کو انسانیت کی طرح راغب کروانا تھی۔
انھوں نے کہا تھا ”جہاں تک پڑوس کا تعلق ہے تو انسانیت ہی اسے خوبصورت بناتی ہے۔ اگر آپ کسی ایسی جگہ پر رہنے کا انتخاب کریں جہاں انسانیت کا فقدان ہو تو آپ کی عقل و دانش کیسے ترقی کر سکتی ہے“ ؟ ان کے کہنے کا مطلب یہی ہے کہ ایسی جگہ کا انتخاب نہ کریں جہاں انسانیت زوال پذیر ہے، زوال پذیر معاشرہ ہر عاقل کو بانجھ بنا سکتا ہے۔ آپ کی صلاحیت کو مفلوج کر سکتا ہے۔
ان کی حکایات اگر پڑھیں تو زندگی کے مقصد سے آپ آشنا ہوں گے۔ چونکہ زندگی جینا اور زندگی گزارنے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ اسے سمجھنے میں آسانی تب ہوگی جب آپ عاقلوں کی کہی ہوئی باتوں کو عملی طور پر اپنی زندگی میں بروئے کار لائیں۔ بقول کنفیوشس ”انسانیت پسند لوگ انسانیت میں راحت محسوس کرتے ہیں اور دانا شخص انسانیت سے فائدہ اٹھاتا ہے“ انھوں نے ہر چیز پر اپنی رائے دی ہے ان کی تعلیمات پر کسی کا دسترس ہے تو مجھے یقین ہے وہ ایک عالم سے کم نہیں چونکہ کنفیوشس کے پاس انسان، برائی، نیکی، والدین کی خدمت، کم تر انسان اور برتر انسان، انسانی رویوں کے اوپر، اخلاق اور رہن سہن پر خاصی معلومات ملیں گی۔
ان کا کمال یہ تھا کہ کس طرح لوگوں کو ایک اچھے کام کی جانب راغب کر سکو۔ اس کا یہ فقرہ ذہن نشین کریں ”اگر تم ہر کام کرتے وقت اپنے مفاد کو مدِنظر رکھو تو بہت سے لوگوں سے ناراض رہو گے“ یہ وہ باتیں ہے جو کنفیوشس نے 571 قبل مسیح کو کہی تھیں لیکن آپ کو ایسا لگے گا کہ موجودہ وقت کی بات ہو رہی ہے۔
ان کی خود کی زندگی کے بارے میں حتمی رائے نہیں ملتی۔ یہاں اگر مکالماتِ کنفیوشس کے مترجم کی بات کو کوٹ کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا ”کنفیوشس کی زندگی کے متعلق دستیاب معلومات میں فسانے کو حقیقت سے الگ کرنا بہت مشکل، بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ چنانچہ زیادہ تر معلومات کو محض افسانہ خیال کرنا ہی بہتر ہو گا“ ۔ چونکہ 479 قبل مسیح کی باتوں کو موجودہ دور میں ثابت کروانا ناممکن ہے یاسر جواد مذکورہ کتاب کے عرضِ مترجم میں بیسویں صدی کے ایک اہم چینی مورخ فنگ یولان کو کوٹ کرتے ہیں کہ ”چینی تاریخ پر کنفیوشس کے اثرات کو مغرب میں سقراط کے اثرات جیسا قرار دیتا ہے“ ۔ ان کی پیدائش اور زندگی کی طرح مرنے کے وقت عمر کے حوالے سے بھی محض کہانیاں ملتی ہیں۔ کنفیوشس کے گولڈن الفاظ ”برا مت سوچو“
چند حکایات قارئین کے لیے درج ذیل ہیں
1۔ جو شخص عمدہ الفاظ بولتا اور چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھتا ہو وہ شاذ ہی انسانیت پسند شخص خیال کیا جاتا ہے۔
2۔ برتر انسان عام استعمال کا برتن نہیں۔
3۔ غور و فکر کے بغیر مطالعہ بیکار ہے اور مطالعہ کے بغیر غور و فکر خطرناک۔
4۔ کیا میں تمھیں علم کے بارے میں بتاؤں؟ جو تم جانتے ہو، جانتے ہو، جو تم نہیں جانتے، نہیں جانتے۔ یہی علم ہے۔
5۔ اگر تم درست چیز کو جانتے ہوئے بھی اس پر عمل نہ کر سکو تو یہ بزدلی ہے۔
6۔ برتر انسان اپنی راستی سے آگاہ ہوتا ہے، اور کم تر انسان مفاد سے۔

