بخشل تھلھو کی کتاب: قوم، قوم پرستی اور قومی سوال


سال 2018 میں مجھے شوق ہوا کہ میں سیاسی نظریات کو ترتیب سے پڑھوں اور سمجھوں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں یوٹیوب پر ایسی ویڈیوز بنانا چاہتا تھا جو سندھ کے لوگوں کو سندھی میں سیاسی نظریات کی سمجھ کے لیے بنیادی مواد فراہم کریں۔ اس مقصد کے تحت میں نے پہلا کتاب اپنے دوست جمیل جونیجو کے ذریعے بھیجی گئی اینڈریو ہیوڈ کی کتاب ”پولیٹیکل آئیڈیالوجیز“ پڑھی۔ اس میں مجھے بہت سے سیاسی نظریات کے بنیادی اصول اور ان کی ترقی و پھیلاؤ کا مواد ملا۔

لیکن اس میں مجھے قوم پرستی کے سیاسی نظریے کے بارے میں خاص معلومات نہیں ملیں۔ ہیووڈ کا خیال تھا کہ یہ صرف ایک سیاسی رجحان ہے۔ اس لیے میں نے فیس بک پر ایک پوسٹ رکھ کر دوستوں سے قوم پرستی کے بارے میں کتب کی مدد طلب کی، تب جناب جامی چانڈیو نے مجھے جواب دیا کہ ان سے کتاب لے لوں۔ جناب جامی سے کتاب لینے کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔ اس کے بعد میں ان سے سیاست، تاریخ، تصوف، فلسفہ اور دیگر موضوعات پر تقریباً بیس کتب لے کر پڑھ چکا ہوں۔ ابھی بھی ان کا ایک کتاب میرے پاس ہے جس کا مطالعہ میں دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کروں گا۔

بہرحال، میں جناب جامی سے کتاب لینے پہنچا۔ جناب جامی سے جب بھی کوئی موضوع کی کتاب لیتا ہوں تو پہلے ان سے اس موضوع کے بارے میں سوال کرتا ہوں تاکہ بنیادی معلومات مل سکیں، باقی تفصیل تو ویسے ہی کتابوں میں ہوتی ہے۔ جناب نے قوم کے تصور، قومیت، قوم پرستی جیسے موضوعات پر بہترین بات چیت کی اور پھر مجھے دو کتابیں دیں۔ ان کتابوں میں سے ایک ارنسٹ گیلنر کی کتاب، ”قومیں اور قوم پرستی“ اور دوسری امو آگزمیرلی کی کتاب تھی جس کا عنوان بھی یہی تھا۔

جامی صاحب کی بات چیت سے ہی کئی تصورات واضح ہو گئے، لیکن جیسے جیسے میں گیلنر کی کتاب پڑھتا گیا، مجھے یہ بات زیادہ واضح ہوتی گئی کہ جو بات جامی صاحب نے مجھے نشست میں کہی تھی کہ اس موضوع پر اردو اور سندھی میں کوئی علمی و فکری معیار کی حامل اصل کتاب موجود نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ تراجم اور ایک دو لکھنے والوں کی کتابیں ہیں، لیکن ان کی گرفت اس موضوع پر اتنی مضبوط نہیں کہ ان کو کسی بڑے مطالعے کے دوران حوالہ کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ جیسے ہی میں نے گیلنر کی کتاب کا جان بریولی کے تحریر کردہ تعارف کو پڑھا تو اس نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ بریولی نے نہ صرف ان پہلوؤں کو سامنے لایا جو گیلنر سے رہ گئے تھے، بلکہ ان خیالات پر بھی تنقید کی جو گیلنر کے نظریات پر علمی انداز سے کی گئی تھی۔

پھر گیلنر کی کتاب پڑھتے ہوئے میرے کتاب پڑھنے کے معیار ہی بدل گئے۔ اس کے بعد میں نے یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لی کہ کوئی بھی فکری یا سیاسی یا تاریخی کتاب جس میں حوالہ جات کے بغیر صرف لکھاری کے ذاتی بیانات، وضاحتیں اور خیالات ہوں اور اس میں موجود مواد پر نہ تو تنقیدی نظر ڈالی گئی ہو اور نہ ہی تجزیہ کیا گیا ہو، ایسی کتاب دوبارہ نہیں پڑھوں گا۔ دوسری بات یہ کہ ان کتابوں سے بھی پرہیز کروں گا جن میں غیر براہ راست حوالہ جات ہیں۔ مراد یہ کہ جو حوالہ جات مصنف دیتا ہے وہ اصل کتاب کے متن سے نہیں بلکہ کسی اور کی اس کتاب کے متعلق تحریر کردہ کسی کتاب یا آرٹیکل سے لیے گئے ہیں۔ کیونکہ جو شخص بھی کسی مصنف کے متعلق حوالہ جات دیتا ہے تو وہ اپنی اس اسکیم اور مقصد کے تحت انہیں منتخب کرتا ہے۔

یاد رہے کہ یہ میرا ذاتی تجربہ اور خیال ہے۔ اس سے دوستوں کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ہر انسان کے کتابوں کے معیار مختلف ہو سکتے ہیں اور ہر ایک کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ اسے جس قسم کا مواد پسند ہے اور جس طرح لکھا ہوا مواد پسند ہے، اسے پڑھیں۔ میرے کتاب پڑھنے کا نکتہ نظر صرف ایک کتاب نے بدل دیا۔

بات کچھ لمبی ہو گئی لیکن ہمیں کامریڈ بخشل کی تحریر کردہ نئی کتاب ”قوم، قوم پرستی اور قومی سوال (سندھ اور پاکستان کے پس منظر میں )“ پر رائے دینا ہے۔ کتاب میں کل 180 صفحات ہیں جن میں سے بارہ صفحات پر کامریڈ نے کتاب کا مقدمہ تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب کا مقدمہ مصنف نے خود تحریر کیا ہے، اس کا سبب وہ خود ہی بتا سکتے ہیں کہ انہیں کیوں یہ ضروری نہیں سمجھا کہ کسی اور اسکالر سے اس کا مقدمہ یا تعارف لکھوایا جاتا؟ شاید مصنف کو محسوس ہوا ہو گا کہ دوسرا شخص اس موضوع کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے گا۔ کتاب کے باقی 168 صفحات میں صفحہ نمبر 155 سے 172 تک کتاب کے تینوں ابواب کے الگ الگ حوالہ جات ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ مصنف نے تمام حوالہ جات کو ایک منظم انداز سے الگ الگ باب کے حساب سے ترتیب دیا ہے۔

کچھ جگہوں پر یہ حوالہ جات غیر براہ راست ہیں۔ مثال کے طور پر، جیسے کہ مصنف نے گیلنر کی بات جہاں بھی شیئر کی ہے، وہاں حوالہ میں گیلنر کی کتاب کا نہیں بلکہ امو آگزمیرلی کی کتاب ”تھیوریز آف نیشنل ازم“ کا حوالہ دیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ امو آگزمیرلی کی کتاب میں پورا باب گیلنر کے نظریات پر بحث کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔

کتاب کا پہلا باب ”قوم“ کے بارے میں ہے۔ اس باب میں ابتدائی پانچ عنوانات قوم کی تعریف اور اس کی ساخت، قوموں کے مختصر نظریات کا خاکہ، معروضی یا موضوعی، قومی ریاست، اور قومی شناخت کے عالمی فکری مطالعات سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد جلد ہی مصنف سندھ کے قومی تصور پر آ جاتا ہے۔ اگرچہ بحث میں مزید دلائل لائے جا سکتے تھے، لیکن چونکہ کتاب کا عنوان ہی قوم، قوم پرستی، اور قومی سوال کو سندھ اور پاکستان کے پس منظر میں دیکھنے کا ہے، اس لیے گفتگو کو مختصر رکھنا ضروری ہے۔

ان عنوانات میں مصنف قوم کے متعلق نظریاتی بحث پیش کرتا ہے، جس میں قوم کو ایک سیاسی وجود کے طور پر دیکھنے کے لیے مختلف کتابوں کے حوالے اور نظریہ دانوں کے نقطہ نظر شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں گیلنر، ایمل آگزیمرلی، رینن، انسائیکلوپیڈیا فرانسیا، انتھنی ڈی اسمتھ، کے کے عزیز، پارٹھا چیٹرجی اور کئی دوسرے مصنفین کے براہ راست یا بلاواسطہ حوالے شامل ہیں۔ درمیان میں قوم کی تعریف اور اس سے متعلق مختلف نظریاتی نظریات جیسے قدیمیت پسندی (Primodialism) ، دائمیت پسندی (Perennialism) ، تعمیریت پسندی (Constructivism) ، اور انسٹرومنٹلزم وغیرہ کو مختصر انداز میں پیش کیا گیا ہے، حالانکہ ان نظریاتی بنیادوں کے پیچھے وسیع فکری بحث موجود ہے۔

مثال کے طور پر صرف گیلنر کی بات کی جائے تو انہوں نے قوم کو انسانی تہذیب کے زرعی دور میں صرف ایک عمرانی وجود قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں قوم کا سیاسی تصور دراصل سرمایہ دارانہ دور کی پیداوار ہے، جس میں شہروں کی طرف لوگوں کی نقل مکانی، جاگیرداروں کے پرانے سیاسی و معاشی رشتوں سے آزادی، شہروں میں نئے رشتوں کا قیام اور جدید تعلیم لوگوں کو ایک نیا اجتماعی احساس ”ہم“ سے روشناس کراتی ہے۔ اسی وجہ سے موجودہ دور میں قوم کو ایک سیاسی وجود سمجھا جائے گا، لیکن زرعی دور میں اسے ایک عمرانی وجود کے طور پر ہی تصور کیا جائے گا۔

اس سے پہلے مصنف کے کے عزیز کے پیش کردہ تیرہ نکاتی فریم ورک کو بھی سامنے لاتا ہے، جس کا پہلا نکتہ روایتی تعریفوں کے برعکس مشترکہ احساس ہے۔ اس تمام نظریاتی مواد پر مصنف کا کیا موقف ہے، اس کے بارے میں سمجھنے کے لیے کچھ اور غور و فکر کی ضرورت ہے۔ تاہم، بحث کا نتیجہ یہی ہے کہ قوم کا سیاسی تصور ایک اجتماعی احساس ہے۔ کئی قوموں کی تشکیل میں ان کی زبانیں مختلف ہوتی ہیں (مثلاً سنگاپور کی قوم) ، اسی طرح عقائد، مشترکہ تاریخ وغیرہ بھی مختلف ہوتے ہیں (جیسے کہ گیلنر کی دی گئی لیٹونیا کی مثال) ۔ لیکن محکومیت کا احساس (نوآبادیاتی قوم کا احساس) یا ریاست کی طرف سے زبردستی مسلط کردہ قوم کا تصور بھی اسی احساس کا ایک جابرانہ اور غیر فطری پہلو ہے۔

یہ باب پڑھتے ہوئے یہ احساس بھی شدت سے ہوتا ہے کہ مصنف کو اس بحث کو آہستہ آہستہ مکمل کرنا چاہیے تھا کیونکہ سندھی زبان میں اس موضوع پر پہلے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ اس لیے اس مضمون کی گہرائی اور وسعت کا تقاضا تھا کہ اس بحث کو ایک بہتر ترتیب کے ساتھ پیش کیا جاتا۔ باقی قوم کے متعلق جتنے بھی متضاد اور مختلف تصورات ہیں، جیسے ریاستی قوم، قومی ریاست، موضوعی یا معروضی نظریات وغیرہ، ان پر مصنف نے مختصر مگر بہترین طریقے سے روشنی ڈالی ہے۔

اس باب میں قومی شناخت کا سوال بھی انتہائی اہم ہے، اور اسے بھی مختصر انداز میں مکمل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، حالانکہ یہ بحث بھی بہت وسیع ہے کہ قومی شناخت میں کون سے پیمانے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ قوم کی روایتی تعریف اب تاریخ کی مختلف مثالوں کے ساتھ رد ہو چکی ہے کہ، ”اسے ایک خاص زبان، مخصوص جغرافیائی علاقے، مشترکہ تاریخ اور ایک سیاسی مقصد ہونا چاہیے (اس میں بعض لوگ عقیدے کو بھی شامل کرتے ہیں، جیسے مسلم لیگی رہنماؤں کا دو قومی نظریہ) ۔

“ کیونکہ دنیا میں اب بہت سی قومی ریاستیں (جنہوں نے قوم ہونے کی بنیاد پر اپنی الگ ریاست بنائی ہے، جیسے سنگاپور، ملائیشیا، ہندوستان) اور دوسری طرف بہت سی ریاستی قومیں (جنہوں نے ریاستی جبر کے نتیجے میں قومیتوں کے وجود کو ختم کر کے انہیں زبردستی ایک قوم کا رنگ دیا ہے، جیسے پاکستان) ہیں جن پر یہ تعریف مکمل طور پر صادق نہیں آتی۔

دوسرا یہ کہ اس بحث میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ، ”ایک احساس کی صورت میں شناخت ہمیں ہماری زبان اور ثقافت کی صورت میں ملتی ہے۔ انسان ایک سماجی وجود ہے اور مختلف شناختوں کا مجموعہ ہے۔ کچھ شناختیں انسان کی اختیار میں ہوتی ہیں، جبکہ دوسری شناختیں اس کے اختیار میں نہیں ہوتی ہیں۔“ اس سے پہلے مصنف صفحہ 11 پر گیلنر کے شاگرد انتھونی ڈی اسمتھ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے، جو کہ اصل میں گیلنر کے اس تصور پر تنقید ہے کہ قوم صرف ایک احساس کا نام ہے جو کہیں بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

اس پر سمتھ تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”تاریخ کوئی ٹافیوں کی دکان نہیں ہے جہاں سے اس کے بچے اپنی مرضی سے انتخاب کر کے ان کے ساتھ ہو لیں۔“ وہاں تھوڑی دیر کے لیے یہ خیال آتا ہے کہ قوم کا ایک فسطائی تصور بھی ہے، جیسے کہ جرمن نازیوں کا قوم کے بارے میں زمین پر سب سے برتر ہونے کا تصور، اٹلی کے مسولینی کا فاشسٹ قومی تصور وغیرہ۔ لیکن اسی بات کو مصنف صفحہ 16 پر رد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ، ”محنت اور سرمائے کی بنیاد پر سماج اور ریاست کے رشتے میں یہ شناختیں بدلتی رہتی ہیں۔“

مصنف اس بات کو یوں ختم کرتا ہے کہ ”قومی شناخت کے انتخاب کا سوال بدلتی ہوئی حالات کے دباؤ اور فرد کے سیاسی رجحان کے مجموعی عمل میں جواب پاتا ہے۔“ اتنی بڑی بحث کو مکمل طور پر سمیٹنا ممکن نہیں اور پڑھنے والے کا دل چاہتا ہے کہ ان تمام تصورات پر مزید گفتگو کی جائے۔ جہاں تک ان تصورات کی ترتیب کا تعلق ہے، وہ بھی ایک بڑا موضوع ہے۔ تاہم، یہاں مصنف سے یہ گزارش ضرور کی جائے گی کہ اگر کتاب کا دوسرا ایڈیشن آئے تو قوم کی تعریف، مختلف نظریات، ان کے باہمی اختلافات اور مشترکہ پہلوؤں کو ایک بڑے باب کی صورت میں لکھا جائے تاکہ پڑھنے والے کو اپنی رائے قائم کرنے میں مدد مل سکے کہ وہ ان نظریاتی بیانات میں سے کسے اپنے لیے موزوں سمجھتا ہے۔ اگر گیلنر اور امو آگزیمرلی جیسے نظریہ دانوں کا مفصل ذکر بھی کیا جائے تو پہلے باب میں تصور کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔

دوسرے باب میں اچانک ہی سندھ کی قوم کے بارے میں غلط فہمیوں پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ میری رائے میں یہ بحث کتاب کے آخری حصے میں ہونی چاہیے تھی کیونکہ عالمی فکری مباحثوں کے مقابلے میں یہ سوالات (جو کہ بے حد اہم ہیں اور جنہیں مصنف نے عمدگی سے نبھایا ہے ) کچھ الگ محسوس ہوتے ہیں۔ اگر کتاب کی ترتیب کچھ اس طرح ہوتی کہ پہلے حصے میں عالمی مفکرین کے تفصیلی تصورات، ان پر تجزیہ و مباحثہ، قوم پرستی کا تصور، اور آخر میں سندھ کی قوم اور قومی سوالات کے متعلق مفروضے، حقائق، دلائل اور مباحثے شامل ہوتے تو اس کتاب کی اہمیت مزید بڑھ جاتی۔

اس کے بعد دوسرے باب میں قوم پرستی کے بارے میں ایک شاندار فکری بحث موجود ہے۔ مصنف اس حصے میں پہلے حصے کی نسبت زیادہ واضح اور ترتیب وار گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس باب میں قوم پرستی کی ابتدا (جیسے کہ قوم پرستی سرمایہ داری دور کی پیداوار ہے اور اس کے بارے میں انیسویں صدی سے قبل کوئی خاص مواد نہیں ملتا) پر عمدہ فکری مباحثہ کیا گیا ہے۔ اس بحث میں قوم پرستی کو ایک جدید تصور کے طور پر دیکھتے ہوئے انیسویں اور بیسویں صدی میں اس کے سامراج مخالف، حقوق کی حصولیت، قومی ریاست کی تشکیل وغیرہ جیسے موضوعات پر مفصل گفتگو کی گئی ہے۔ مصنف یورپ کے مختلف قومی ڈھانچوں اور ان کی قوم پرستانہ ترقی کی مثالوں سے اپنی بات سامنے لاتا ہے جو کہ تجزیے کا ایک عمدہ پہلو ہے۔

مصنف دائیں بازو اور بائیں بازو کی قوم پرستی پر بھی تفصیلی تبصرہ کرتا ہے۔ دائیں بازو کی قوم پرستی کی مختلف اقسام جیسے کہ ریاستی قوم پرستی، جاگیردارانہ قوم پرستی، سرمایہ دار یا لبرل قوم پرستی، مذہبی قوم پرستی، لسانی قوم پرستی، نسلی قوم پرستی اور فاشسٹ قوم پرستی کو واضح کرتا ہے۔ دوسری جانب، بائیں بازو کی قوم پرستی کی اقسام، سماجی اور دیہی قوم پرستی، عوامی قوم پرستی، نوآبادیاتی مخالف قوم پرستی اور دائیں بازو اور بائیں بازو کی قوم پرستی کے تعلق پر بھی تفصیلی گفتگو کرتا ہے۔

ایک اہم نکتہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ کوئی بھی طبقاتی معاشرہ ایک پیچیدہ نظام ہوتا ہے جس میں ایک ہی قسم کی تفریق نہیں ہوتی بلکہ یہ مختلف پیمانوں پر تقسیم ہوتا ہے۔ یہ تفریق قومی اور طبقاتی دونوں پہلوؤں پر مشتمل ہو سکتی ہے، جیسے کہ قومی استحصال، طبقاتی تفریق، صنفی، ذات پات اور مذہبی فرق وغیرہ۔

اگلے حصے میں مصنف قوم پرستی اور حب الوطنی پر بھی بحث کرتا ہے جو اپنے آپ میں ایک نہایت صاف اور سیدھا موضوع ہے۔ اس کے بعد ہندوستانی، سندھی اور پاکستانی قوم پرستی پر مباحثہ کیا گیا ہے جو کہ مدلل اور سادہ انداز میں لکھا گیا ہے۔ یہ تسلسل پاکستان بننے کے بعد سندھ کی قوم پرستی کی ترقی اور موجودہ حالات میں قوم پرست سیاست کے تجزیے پر ختم ہوتا ہے۔

تیسرے باب میں قومی سوال شروع ہوتا ہے جس میں سندھ کے تاریخی سیاسی مقدمے کو قدیم دور سے سندھ پر حملہ آور غیر ملکی حکمرانوں (برہمنوں، عربوں، ارغونوں، ترخانوں، مغلوں ) کے علاوہ مقامی حکمرانوں (سما، سومروں ) اور نیم مقامی خاندانی حکمرانوں (کلہوڑوں، ٹالپروں ) اور پھر انگریز دور اور پاکستان بننے کے بعد کے قومی سوالات کے تاریخی تسلسل میں بہترین طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ اس تحریر کا تسلسل ہے جس کا آغاز ابراہیم جویو نے اپنی کتاب ”سندھ بچاؤ، کنڈ بچاؤ“ سے کیا تھا۔ اس میں جی ایم سید، رسول بخش پلیجو، کامریڈ حیدر بخش جتوئی، عبدالواحد آریسر اور اس دور کے دیگر مفکرین نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ یہ باب سندھ کے سیاسی مقدمے کا ایکسرے ہے جس میں ہم ان تمام پہلوؤں اور جڑوں کو دیکھ سکتے ہیں جنہوں نے سندھی قوم کو آج کے دن تک پہنچنے میں مدد فراہم کی ہے۔

کچھ الفاظ میں اس تجزیے کو ختم کرتے ہوئے، کامریڈ بخشل کا آخری جملہ اہمیت رکھتا ہے کہ ”ہر وہ سیاست جو سامراجیت، سرمایہ داری، جاگیرداری، ماحولیات، اور پدرشاہی کے سوالات کو چھوڑ کر صرف قومی سوال کو حل کرنے کی بات کرتی ہے، وہ بے بنیاد اور بے مقصد ہے۔“

اگر مجھے ان تینوں ابواب کو ایک سے دس کے درمیان اسکور دینے کا اختیار ہو تو میں پہلے باب کو دس میں سے چھ نمبر دوں گا۔ یہ نمبر میں فوری تکمیل، ترتیب کی کمی، دو تین نامکمل حوالہ جات، اور بحث کا اختتامی نکتہ نہ ہونے کی وجہ سے کاٹوں گا۔ دوسرے باب کو دس میں سے آٹھ اور تیسرے باب کو دس میں سے پورے دس نمبر دوں گا۔ اس حساب سے کتاب کا مجموعی اسکور تیس میں سے چوبیس بنتا ہے۔ البتہ یہ اسکور دیگر قارئین پر بھی منحصر ہے کہ وہ اس کتاب کو اپنے معیار کے تحت کتنا اسکور دینا چاہیں گے۔

Facebook Comments HS