دا ٹیررسٹ :حر بغاوت پر لکھا گیا واحد انگریزی ناول
جنوری 1972 میں لندن کے ایک اشاعت گھر سے شایع شدہ دا ٹیررسٹ، دوسری حر بغاوت کے بارے میں لکھا گیا ایک طویل ناول ہے۔ یہ ناول، مشہور انگریز تاریخ دان اور پولیس کمشنر ہیوٹریور لیمبرک المعروف ایچ ٹی لیمبرک کے زبردست نوکِ قلم کی تحریر ہے۔ کتاب کی سرورق پہ کہانی کے مرکزی کردار سائیں رکھیو کی فرضی تصویر دی گئی ہے۔ یہ تصویر اس کتاب کے سولہویں باب میں درج ایک واقعے سے متعلق ہے۔ کتاب کے اندر حر باغیوں کے کافی پینسل اسکیچ بھی دیے گئے ہیں۔ سرورق کی تصویر اور دوسرے پینسل اسکیچ، لیمبرک نے خود بنائے تھے۔
پینسل اسکیچوں کے علاوہ، انگریز فوج اور حر باغیوں کے مابین جہاں جہاں مشہور مقابلے ہوئے یا جہاں جہاں آپریشن ہوئے، ان علاقوں کے نقشے بھی اس کتاب میں شامل کیے گئے ہیں۔ لیمبرک نے یہ کتاب معروف مصنف، سول سرونٹ اور ہندستانی فوج کے مؤرخ فلپ میسن کے نام منسوب کی ہے۔ ناول کے ابتدائیے میں، سندھ کے بارے میں ایک تفصیلی اور علمی تعارفی نوٹ دیا گیا ہے تاکہ غیر سندھی قارئین ناول کا پس منظر سمجھ سکیں۔
ایچ ٹی لمبرک، حر بغاوت کے عروج کے ادوار میں 1942 سے 1946 تک چار سال، سندھ حکومت میں اہم انتظامی عہدوں پر فائز رہے اور انتہائی خطرناک اور متحرک پولیس آپریشنز میں سرگرم کردار ادا کیا۔ ان آپریشنوں کے دوران اس نے حر بغاوت اور سندھی زبان کے بارے میں بہت سارا ریکارڈ اکٹھا کیا۔ یہ وہ ہاتھ سے لکھے چھوٹے بڑے کاغذات تھے جو کہ حر باغی بھاگتے ہوئے چھوڑ جاتے تھے یا لڑائیوں میں ان سے گر پڑتے تھے۔ ان کاغذات میں بہت سارے خفیہ پیغامات تھے۔ اس کے علاوہ لیمبرک نے پولیس رپورٹیں، گرفتار کیے گئے حر باغیوں کے حلفیہ بیان اور گواہوں کے بیان بھی اکٹھے کر لیے تھے۔
اس ریکارڈ کے علاوہ، صوبے میں ہر قسم کے لوگ حر باغیوں کے بارے میں لمبرک کو خطوط اور مختلف نوعیت کے کاغذات بھیجتے رہتے تھے۔ ان خفیہ سرکاری دستاویزات کے علاوہ، لمبرک نے 1944 میں شایع شدہ ’رپورٹ آن آپریشنز۔ اپر سندھ فورس‘ سے بھی مدد لی۔ اس منتشر مواد کو، جس کا بہت بڑا حصہ سندھی زبان میں تھا، لمبرک نے خود انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اس کتاب کی تمہید کے طور پہ، لمبرک نے نومبر 1950 میں حر بغاوت کے بارے میں پندرہ صفحات پر مبنی ایک مختصر نوٹ بھی قلمبند کیا تھا۔
پھر، 1967 میں سر پَرسِیول گرفتھس، انڈین پولیس ایسوسی ایشن کے اشتراک سے، ہندستانی پولیس کی تاریخ لکھی جس کا عنوان تھا: ’ٹو گارڈ مائی پِیپل:دا ہسٹری آف انڈین پولیس‘ ۔ سرگرفتھس نے لمبرک کا یہ نوٹ اپنی کتاب میں شامل کیا ہے۔ سر گرفتھس کی مذکورہ کتاب 1971 میں چھپ کر منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں پہلی حر بغاوت ( 1886 تا 1893 ) کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
اس ناول کا دوسرا اہم ماخذ، 113 صفحات کا وہ ریکارڈ ہے جو کہ بمبئی سے گزشتہ صدی کی شروعات میں چھاپا گیا تھا۔ اس ریکارڈ میں حر جماعت کی شروعات، پہلی حر جماعت کی چیدہ چیدہ باغیوں کا شخصی تعارف اور ان تین سالوں میں پہلی حر بغاوت کو ختم کرنے کے لیے جو آپریشن کیے گئے ان کا طریقہ کار بتایا گیا ہے۔
پہلی حر بغاوت کے بڑے مرکز خیرپور، نوابشاہ اور سانگھڑ کے جنگلی علاقے تھے۔ یہ بغاوت ’بارہ سرکش باغی‘ کے نام سے مشہور ہوئی کیونکہ اس بغاوت کے رہنما سب سے زیادہ مطلوب12 حر باغی تھے۔ پہلی حر بغاوت میں تقریباً سارے کے سارے جنگجو، ’لیوکس‘ نامی ایک پولیس افسر کے ساتھ مقابلوں میں مارے گئے تھے۔ انگریز سرکار نے اس بغاوت کے بارے میں 113 صفحات کا ایک فائل بنایا تھا۔ یہ فائل پولیس افسروں کو پڑھنے کے لیے دیا جاتا تھا تاکہ وہ موجودہ بغاوت کے اصل محرکات بھی سمجھ اور جان سکیں۔ لمبرک کے مطابق یہ پیپر، حر بغاوت کو زیر دست کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوا۔ اس سارے ریکارڈ، ور واقعات اور زبانی احوال کو جوڑ کر، افسانوی صورت دے کے لیمبرک نے یہ انتہائی دلچسپ ناول لکھا ہے۔
’دا ٹیررسٹ‘ ناول کا اسٹائل ایک ترتیب وار روزنامچے (کرانیکل) کی طرح ہے۔ پولیس تھانوں پر حملوں، ٹرینیں گرانا اور پولیس کے خاص کارندوں اور افسروں کو مارنے کے منصوبوں کی تیاری، اسلحے اور لڑاکا فورس کی فراہمی اور حملوں کا گرافک بیان، مار دھاڑ سے بھرپور فلم کی طرح آگے بڑھتا ہے۔ ناول میں حر بغاوت کے خفیہ نیٹ ورک، اس نیٹ ورک میں حر خواتین کا کردار، باغیوں کا طریقہ کار، تربیتی کیمپ، باغیوں کے رہنما پیر صبغت اللہ کی سیاسی لائن، اولین حملوں کی منصوبہ بندی کس طرح کی گئی وغیرہ شامل ہیں۔ ناول کے پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بغاوت کو ختم کرنا انگریز سرکار کے لیے اتنا دشوار کیوں بن گیا تھا۔
دوسری حر بغاوت جن دنوں میں منظم ہو رہی تھی، آزاد صوبے کی حیثیت میں، 1936 میں سندھ میں پہلے انتخابات ہوئے تھے۔ اس الیکشن کے بارے میں بھی اس کتاب سے اہم معلومات حاصل ہوتی ہے۔ سندھ کی سماجی و معاشی ساخت کے علاوہ سندھی لوگوں کا ذہن کس طرح سوچتا ہے، سندھی گھروں میں خواتین کے موضوع کیا ہوتے ہیں، ان باتوں کے حوالے سے لمبرک کی معلومات کو پڑھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ ایک انداز میں یہ صرف حر بغاوت پر نہیں بلکہ سندھ پر انگریزی میں لکھا پہلا ناول گنا جاسکتا ہے۔ اس ناول میں بیان کیے گئے واقعات کو پسند یا ناپسند کرنا پڑھنے والے کی مرضی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ دا ٹیررسٹ میں بہت سارے تاریخی واقعات بتائے گئے ہیں جو کہ سندھ کی تاریخ اور سماج میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔


بہت شکریہ۔
انگریز ایک قابل حکم راں تھے۔ ہم سے ان کے بغض یا نفرت اپنی جگہ لیکن وہ ہماری حرکتوں اور معاملات سے آگاہی رکھتے تھے۔
میں آج تک کہتا ہوں کہ لوگ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے قیام پر فوج کو مطعون کرتے ہیں۔ جب کہ وہ ایک سویلین علاقہ تھا تو مقامی پولیس اسٹیشن کے لوگوں کے کان کبھی کیوں نہیں کھڑے ہوئے۔
ہمارے آج کے حکم رانوں نے ان اداروں کو اتنا خراب کردیا ہے کہ انگریز دور کی بے انتہا اہم باتیں اب متروک ہوچکی ہیں۔ جب کہ وہ آج بھی اتنی ہی اہم ہیں۔