کلائمیٹ چینج یا کلائمیٹ کا چیلنج؟


گشتہ چند سال سے کلائمیٹ چینج کی اصطلاح سننے کو مل رہی ہے۔ اور سمجھنے والے اس کے شدید اثرات بھی براہ راست ملاحظہ کر رہے ہیں مگر عوام اور سادہ لوح مسلمان ہر کام کو اللہ تعالی کی رضاٗ، مصلحت اور قسمت کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بری الذمہ کر دیتے ہیں۔ آئیے آج ذرا اس نئی اصطلاح کی حقیقت وجوہات اور اثرات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کلائمیٹ چینج یا موسمیاتی تبدیلی سے مراد زمین کے طویل مدتی موسمی نظام میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں، جو عام طور پر درجہ حرارت بڑھنے، بارش کے پیٹرن میں تبدیلی، سمندر کی سطح اور شدید موسمی واقعات کی تعداد میں اضافے سے ظاہر ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے کارخانوں اور سڑکوں پر چلنے والی کروڑوں گاڑیوں سے دھواں اور یہ زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہے۔ ان گرین ہاؤس گیسوں جیسے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین کے اخراج سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جسے عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دھواں، کوئلے اور فوسل آئل یعنی ڈیزل پٹرول اور کیروسین آئل کا استعمال، گاڑیوں کی کثرت۔ انجن کی حدت اور دھواں، ائر کنڈیشنز کا بے تحاشا استعمال اور صنعتی، کمرشل اور گھریلو فضلہ جلانا سب فضائی آلودگی، گلوبل وارمنگ اور کلائمیٹ چینج کی وجوہات ہیں جو اب ایک عالمی چیلینج بن چکا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی انسانی زندگی، ماحول اور معیشت پر منفی اثرات ڈالتی ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے سبب گلیشیئر پگھل رہے ہیں، جس سے بے تحاشا سیلاب آتے ہیں، سمندروں کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے اور ساحلی علاقوں کو سیلاب اور کٹاؤ کا سامنا ہے۔ موسمی پیٹرن میں تبدیلی کے باعث بارشوں میں بے قاعدگی آ رہی ہے، موسم گرما میں سردی کا آنا اور موسم سر ما میں سردی کے نہ ہونے، بے وقت کی شدید ژالہ باری سے زرعی پیداوار اور خوراک کی کمی جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، شدید موسم جیسے طوفان، خشک سالی، ہیٹ ویوز اور جنگلات کی آگ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں گزشتہ چند سال سے سموگ کی شکل میں ایک اور آفت کا سامنا ہے۔ سموگ بھی ایک قسم کی فضائی آلودگی ہے جو زیادہ تر شہری اور صنعتی علاقوں میں پیدا ہوتی ہے اور اس کا سبب گاڑیوں، کارخانوں اور دیگر انسانی سرگرمیوں سے نکلنے والا دھواں ہوتا ہے۔ سموگ میں مختلف کیمیائی اجزاء، جیسے سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، اور اوزون شامل ہوتے ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے ان علامات کی انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن میں سانس کی بیماریاں، پانی اور خوراک کی قلت، اور ہیٹ اسٹروک جیسے مسائل شامل ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی سے معیشت کو بھی بے تحاشا نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان نقصانات کو کم کرنے کے لئے حکومتوں کو ماحول دوست پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے جن میں صاف توانائی کے ذرائع (جیسے سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور) کو فروغ دینا، فوسل فیولز کے استعمال میں کمی، اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر قابو پانے کے لیے قوانین بنانا شامل ہیں۔

مزید برآں، جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کی مہمات کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کیا جا سکتا ہے۔ شہروں کی منصوبہ بندی میں بھی ماحول دوست اقدامات اور شجر کاری کو اپنانا چاہئیں

عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے طرز زندگی میں تبدیلیاں لائیں، جیسے توانائی کی بچت کرنا، پلاسٹک کے بجائے ماحول دوست متبادل اپنانا، پانی اور بجلی کا استعمال دانشمندی سے کرنا، اور پبلک ٹرانسپورٹ یا بائیسکل کا استعمال بڑھانا۔

اگرچہ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ کوپ 29 اجلاس کا مقصد کلائمیٹ چینج کے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے مختص فنڈز کو سالانہ سو ارب ڈالر تک بڑھانا تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم خود اپنی طرز زندگی میں تبدیلی نہیں لائیں گے۔ توانائی کا بے تحاشا اور بے جا استعمال کم نہیں کریں گے۔ جنگلات کی کٹائی کا سدباب نہیں کریں گے، پانی کا ضیاع نہیں روکیں گے اور شجرکاری میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے ہم دوسروں کے آسرے اور امداد پر اس عالمی چیلنج سے نمبرد آزما نہیں ہوسکتے۔

Facebook Comments HS