بے پردہ عورتیں اور حیادار پاکستانی مرد
ایک دفعہ کسی کام سے کوالالمپور ملائشیا جانا ہوا، تھکا دینے والے ٹرپ کے بعد واپسی کا دن آیا تو ائرپورٹ چند گھنٹے پہلے پہنچ گیا، کوالالمپور کا ائرپورٹ بہت بڑا اور پر رونق ہے جہاں ٹائم گزارنا کافی آسان ہے۔
فلائٹ سے ایک گھنٹہ پہلے اپنے گیٹ کے سامنے پہنچا تو بہت سارے پاکستانیوں کو لاہور کی پرواز کا منتظر پایا، میں بھی ایک سیٹ پر بیٹھ گیا، میری ساتھ والی سیٹوں پر دو عدد پاکستانی جو حلیے اور گفتگو سے لیبر ویزا پر آئے محنت کش معلوم ہو رہے تھے اور چند سالوں کے بعد پاکستان چھٹی پر جا رہے تھے، ملائشیا کے آزاد اور سیکولر معاشرہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے تھے کہ یہ کس قسم کا اسلامی ملک ہے؟ بے حیائی اور خباثت اپنے عروج پر ہے، اسلام سے اس قدر دوری؟ توبہ توبہ۔
یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ملائشیا میں رہتے ہوئے بھی یہاں نہیں رہتے، یعنی شاید وہ کسی ایسی جگہ کام کرتے ہوں جہاں ان کا شہروں اور بازاروں کا چکر بہت کم لگتا ہو۔ گاہے بگاہے وہ دونوں ائرپورٹ پر موجود بے پردہ عورتوں کو تسلی سے گھورنے کے بعد بڑی بڑی گندی گالیوں اور ان کے ساتھ موجود مرد حضرات کو مختلف جانوروں کی تشبیہات سے نواز رہے تھے، میں خاموشی سے ان کے تبصرے سن رہا تھا کہ بورڈنگ کی اناؤنسمنٹ ہوئی۔
جہاز میں بیٹھے تو میری ساتھ والی سیٹوں پر وہ دونوں ”حاجی صاحبان“ براجمان ہو گئے، ملائشین ائر لائن جہاز میں الکوحل (شراب) بھی سرو کرتی ہے، جیسے ہی شراب کی ٹرالی نمودار ہوئی تو تقریباً تمام پاکستانی جن کو میں دیکھ یا سن پا رہا تھا ائر ہوسٹس سے دو دو گلاسوں کی فرمائش کر رہے تھے وہ بھی منت اور سماجت کے انداز میں، ان کے انداز سے مجھے بچپن کے وہ دن یاد آ گئے جب محلے میں کوئی ختم یا نیاز کی چیز بانٹتا تھا تو کئی بچے اپنے بھائیوں کا حصہ بھی مانگ رہے ہوتے تھے، ائر ہوسٹس پریشانی اور غصے میں مسلسل آنکھیں رول کر رہی تھی، پھر اس نے مدد کے لیے میل (فلائنگ سٹیورٹ) کو بلایا۔
جب ٹرالی ہماری آئل کے پاس آئی تو ساتھ بیٹھے دونوں جوانوں نے وسکی لینے سے انکار کر دیا، میں ان کی اس بات سے ابھی متاثر ہو ہی رہا تھا کہ دونوں بضد ہوئے کہ وسکی بئیر میں ڈال کر دو کیونکہ تم لوگ تھوڑا ڈالتے ہو اس لیے جب بئیر اور وسکی کا کراس ہو گا تو یہ زیادہ اور بہتر چڑھے گی، میں نے حیرانی سے ان دونوں کی طرف دیکھا، اسی اثنا میں ائر ہوسٹس نے مجھے آئس سے بھرا گلاس اور کوک کا کین تھمایا، کوکا کولا، آئس سے بھرے گلاس میں انڈیلتے ہوئے میں نے وہ تمام گالیاں جو یہ گیٹ پر عورتوں کو نکال رہے تھے ان میں چند بہترین پنجابی گالیوں کا اضافہ کر کے دل ہی دل میں ان کو فارورڈ کیں اور میرے من کو کچھ حد تک ٹھنڈ پہنچی، رہتی کسر ٹھنڈے سوڈے نے من کی ٹھنڈ کے ساتھ کراس ڈال کر پوری کر دی۔


