خاتون حر حلقہ زنجیر میں


موہلن برگ کالج امریکہ کی یہودی پروفیسر، مصنفہ اور کلچرل اینتھروپولوجسٹ ڈاکٹر ماورا فنکیلیسٹن کو فلسطینیوں کی آزادی کے لیے آواز اٹھانے، صیہونیت اور اسرائیلی نسل پرست پالیسیوں پر تنقید کرنے کی پاداش میں کالج انتظامیہ نے نوکری سے معطل کر دیا۔ ڈاکٹر ماورا نے فلسطینی شاعر ریمی کنازی کی ایک نظم اپنے ذاتی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔ ڈاکٹر ماؤرا کا جرم صرف یہ تھا کہ انھوں نے حالیہ غزہ جنگ میں 45 ہزار افراد (عورتوں و بچوں سمیت) کی قاتل اسرائیلی ریاست پر تنقید کی تھی۔ ذرا تصور کیجئے کہ کیا 45 ہزار معصوم انسانوں کا قتل زیادہ ہیبت ناک درندگی ہے یا اس درندگی پر تنقید کرنا؟ دراصل ڈاکٹر ماورا کی پوسٹ اسرائیلی فوجی بربریت کے خلاف ایک یہودی خاتون پروفیسر کا ناپسندیدگی کا اظہار تھا۔ ظلم و استبداد پر قائم حکومتوں کے لیے عوامی تنقید ناقابل برداشت ہوتی ہے۔

امریکی حکومت اور ادارے دنیا بھر کو آزادی تحریر اور تقریر اور جمہوریت کا سبق پڑھاتے ہیں، اپنے سیاسی و تجارتی مفادات کے لیے ”انسانی حقوق کی سیاست“ کرتے ہیں۔ ملٹی نیشنلز کے بزنس کو ہموار راہ فراہم کرنے کے لیے تیسری دنیا کے غریب ممالک پر ”انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں“ کے نام پر معاشی و تجارتی پابندیاں عائد کرتے ہیں لیکن اپنے ہی ملک میں ایک پروفیسر کی اسرائیل پر تنقید برداشت نہیں کر سکتے۔ کسی بھی پروفیسر کو ان کے سیاسی نظریات کی بنیاد پر معطل یا برطرف کرنا اکیڈمک فریڈم، فری اسپیچ اور Critical Thinking کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کالج انتظامیہ کے بقول مذکورہ پوسٹ (یہودیوں کے خلاف) کالج کی پالیسیوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صیہونیت، یہودیت  نہیں ہے۔ صیہونیت ایک سیاسی و تاریخی نظریہ ہے جس کی بنیاد پر اسرائیل جیسی نوآبادیاتی نسل پرست، خون آشام، قاتل اور دہشت گرد ریاست وجود میں آئی ہے۔ دنیا بھر کے ہزاروں یہودی ڈاکٹر ماورا کی طرح فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اسرائیل پر تنقید یہودیت یا سامیت مخالفت  بالکل بھی نہیں ہے لہٰذا کالج کا یہ دعویٰ غلط ہے۔

البرٹ آئن اسٹائن سگمنڈ فرائیڈ، ایرک فرام، نوم چومسکی جیسے انتہائی معروف یہودی سائنسدانوں اور دانشوروں نے ہمیشہ اسرائیل کی نسل پرست پالیسیوں پرکھل کر تنقید کی ہے۔ پولینڈ کے آشوٹز کیمپ سے زندہ بچ جانے والے پر یمو لیوی اسرائیل کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسرائیلی سیاستدان و صحافی یوری ہینری کھل کر اسرائیل کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں۔ سینکڑوں یہودی ربی اسرائیلی صیہونیت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے ہزاروں یہودی فلسطینیوں کے حق میں مارچ کرتے ہیں، پولیس تشدد سہتے ہیں گرفتار ہوتے ہیں

موہلن برگ کالج کے اقدامات نے صیہونیت پر کسی بھی تنقید کو سامیت مخالفت تنقید سے جوڑ کر انتہائی شدت پسند صیہونیوں کے موقف کو مضبوط کرنے اور فلسطین کے حوالے سے دائیں بازو کے نقطہ نگاہ کو تقویت دی ہے۔ غزہ میں جاری قتلِ عام اور فلسطین کی تحریکِ آزادی کے حوالہ سے امریکی عوام کا اپنی حکومت اور اسرائیل کے خلاف تنقید اور مزاحمت کو روکنے کے لیے امریکی حکومت یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں آمرانہ پالیسیوں کو نافذ کر رہی ہے۔ اسرائیل کے خلاف حالیہ احتجاج کی لہر کے دوران زبان بندی کے لیے پروفیسروں کو معطل اور طلبہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ماؤرا یقیناً بہت جلد بحال ہوجائیں گی لیکن موہلن برگ کالج کا یہ سیاہ فیصلہ تاریخ کے سیاہ صفحات پر درج ہو چکا ہے۔

امریکی حکومت 1948 ء میں اسرائیل کے قیام سے لے کر آج تک اپنے واچ ڈاگ اسرائیل کے دفاع پر 141 بلین ڈالر خرچ کرچکی ہے۔ اسرائیل پر خرچ کی جانے والی یہ رقم خطہ میں امریکہ کی اسٹریٹجک انویسٹمنٹ ہے۔ امریکی تیل، اسلحہ اور ہائی ٹیک انڈسٹری سے وابستہ سرمایہ دار اور امیزون اور گوگل جیسی کمپنیوں کے مالیاتی مفادات فلسطینی نسل کشی سے براہِ راست منسلک ہیں۔ ایسے میں امریکی حکومت ہر اس آواز کو دبانے کی کوشش کرے گی جو امریکی ریاست کی شکل میں سرمایہ داروں اور ملٹی نیشنلز کے مفادات کو متاثر کرسکے۔

Facebook Comments HS