پی ٹی وی اداکار شفیع محمد کی سترہویں برسی


muhammad salim gujranwala

شفیع محمد پی ٹی وی کراچی مرکز کے انتہائی کامیاب اور با صلاحیت ادا کار جنھوں نے پاکستان کے ہر گھر میں اپنی پہچان بنائی۔ 1949 ء میں سندھ کے ایک قصبے کنڈ یارو میں پیدا ہوئے۔

اپنے تیس سالہ عہد فن میں انہوں نے پچاس سے زائد قسط وار اور سو سے زائد ایک قسط کے ڈراموں میں اپنے فنی جوہر دکھائے۔

ڈرامہ سیریل تیسرا کنارہ ان کی پہچان کا باعث بنا اور ڈرامہ سیریل آنچ نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا جس میں انہوں نے جلیس الحسن کا لازوال کردار ادا کیا۔ ڈرامہ سیریل آنچ کا ایک منظر ڈرامہ کی تاریخ کا ایک بہترین منظر ہے جس میں عورت کی عصمت و کردار کو اس سے زیادہ نہیں سراہا جاسکتا ہے۔

شگفتہ اعجاز، شفیع محمد کی دوسری بیوی ہوتی ہے۔ اختلافات کے باعث وہ اس کا گھر چھوڑ کر ہوسٹل چلی جاتی ہے۔ فیملی کورٹ میں مقدمے کی کارروائی شروع ہوتی ہے، وکیل استغاثہ شگفتہ اعجاز سے پوچھتا ہے کہ وہ فلاں تاریخ کو ایک مرد کے ساتھ بائیک پر بیٹھ کر کہاں جا رہی تھی؟

وکیل استغاثہ کا یہ سوال سن کر شفیع محمد عدالت کی اجازت سے کھڑا ہو کر کہتا کہ میرے اپنی زوجہ سے کئی اختلافات ہیں لیکن مجھے اس کی عصمت و کردار کے متعلق کوئی شک نہیں ہے۔ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ میں یہ مقدمہ جیتتا ہوں یا ہارتا ہوں لیکن مجھے اپنی بیوی کی یہ رسوائی پسند نہیں ہے۔ میں اس مقدمے سے دستبردار ہوتا ہوں۔

اس منظر کے مکالمے اگرچہ ڈرامہ نگار کے تھے لیکن شفیع محمد نے اپنی لازوال ادا کاری سے یہ مکالمے ایسے ادا کئیے جو ڈرامہ کی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔

اپنے انداز نشست و برخاست اور گفتگو سے فن ادا کاری کو نئی جہت دینے والے محمد شفیع نے 1970 میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے بطور صدا کار اپنے عہد اداکاری کا آغاز کیا۔ وہ ایک پڑھے لکھے ادا کار تھے۔ انہوں نے جامعہ سندھ سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹرز کیا اور جامعہ حیدر آباد سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا عہد اداکاری تین دہائیوں پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے اردو اور کچھ سندھی ڈراموں میں اپنی ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ شفیع محمد بھاری بھر کم جسم کے مالک تھے، ان کی لہجے میں بہت ٹھہراؤ، سنجیدگی اور متانت پائی جاتی تھی۔ ان کی آواز صدا کاری اور ادا کاری کے لیے انتہائی موزوں تھی۔

انہوں نے پی ٹی وی کے بہترین ادا کار کا اعزاز بھی حاصل کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا تھا۔ شفیع محمد کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ 2006 میں وہ کسی بیماری کا شکار ہو کر انتہائی کمزور و لاغر ہو گئے تھے، اور دیکھتے ہی دیکھتے فن ادا کاری کو ایک انمٹ جہت دینے والا پی ٹی وی کا یہ روشن ستارہ 17 نومبر 2007 ء کو اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔

Facebook Comments HS

One thought on “پی ٹی وی اداکار شفیع محمد کی سترہویں برسی

  • 18/11/2024 at 10:26 صبح
    Permalink

    شکریہ۔
    اللہ تعالی ان کی منزلیں آسان کرے۔
    شفیع محمد شاہ پی ٹی وی کے سالانہ ایوارڈ میں کم از کم دو مرتبہ بیسٹ ایکٹر کا ایوارڈ جیتے تھے۔ یہ وہ دن تھے جب ایک سے ایک بڑا اداکار پی ٹی وی پر چھایا ہوا تھا۔
    پرائیویٹ چینل آنے کے بعد جب این ٹی ایم اور ایس ٹی این کی نشریات کراچی میں شروع ہوئیں (یہ وہ دن تھے جب دن میں ٹی وی پر سی این این اور شام کو ڈرامے اور فلمیں نشر ہوتی تھیں)۔
    انہی دنوں اصغر ندیم سید کا لکھا ایک لافانی کھیل نشر ہوا۔ چاند گرہن۔

    مرکزی کردار ایاز نائیک اور ہما نواب نے ادا کئے مگر اصل شہرت اور ان سب پر بھاری کردار وڈیرے لال حسین شاہ کا تھا جو شفیع محمد نے ادا کیا جس کے مقابل فریال گوہر شاہ نے گل بہار بیگم کا کردار ادا کرکے 1991 میں اس ڈرامے کو امر کردیا تھا۔

    یو ٹیوب پر اس ڈرامے کو دیکھا جاسکتا ہے

    https://www.youtube.com/watch?v=RbJys7pARog

Comments are closed.