ڈاکٹر سید حسین نصر ایک آفاقی شخصیت: قسط اول


دولت و شہرت کی اسیری، سرمایہ داری کی حکمرانی، حرص و ہوس کی عالمگیری، دانش و دین سے بیزاری کے اس عہدِ ناہنجار و دل فگار میں کچھ ایسے نادر و نایاب لوگ بھی موجود ہیں۔ جو علم و دانش کی ترسیل و تبلیغ، فکر و فن کی آبیاری میں مصروفِ عمل ہیں۔ جو اپنے ماضی سے رشتہ توڑ چکے ہیں نہ مستقبل کی فکر میں بدحواس و سرگرداں ہیں۔ جو فقط عظمت رفتہ کے گن گاتے ہیں۔ بلکہ تہذیب جدید کی نیرنگیوں پر بھی غور و فکر کرتے ہیں۔ سوچتے ہیں۔ اچھا سوچتے ہیں۔ لکھتے ہیں تو قلم توڑ کے جی جلا کے لکھتے ہیں۔ من کی کھیتی پہ تفکر و تعقل کا ہل چلا کے لکھتے ہیں۔ خزاں کے عہد میں گل و لالہ کی آبیاری و گل کاری کرتے ہیں۔ اور یہ ضروری تو نہیں ہر سوچ صائب ہو۔ ہر لکھا خطا و غلطی سے پاک ہو۔ کچھ سوچ نادرست ہو کر، بعض لکھت قرین حق نہ ہو کر بھی کسی شخصیت کی علمی و تحقیقی خدمات کو، فکر و نظر کی گہرائیوں کو سراہا جا سکتے ہیں۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی فکر کے خلاف کسی بھی شخصیت کو قبول کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہیں مگر بہت کم لوگ۔ بالخصوص ہم جس پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس خطہ ارضی سے ہمارا رشتہ ہے۔ وہاں پچھلے کئی صدیوں سے مناظرانہ فضا غالب رہی۔ جس کی وجہ سے ہمارے عمومی مزاج مناظرانہ و محاربانہ ہے۔ اس فضا میں کسی متنوع الجہات، ان گنت صفات کی مالک شخصیت پر لکھنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ دشنام و عتاب سہنے کا جگرا نہ ہو تو اس طرح کے شخصیات پر لکھنا نہایت اذیت ناک ہے۔

مجھے ذاتی طور پر ایسی متنوع الجہات شخصیات پسند ہیں۔ کیونکہ یہ اشخاص کسی نہ کسی طور پر علم و دانش کے حصول میں مشغول رہتے ہیں۔ کچھ نیا لکھنے، پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لفظ و معنی کے درمیان اک نیا تعلق پیدا کرنے کی، اک نئی تعبیرات و توجیہات پیش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ جس کی بدولت دوسرے صاحبان فکر و نظر کو تفکر و تعقل کا موقع ملتے ہیں۔ اپنے پاس پہلے سے موجود روایات و اقدار، نظریات و افکار پر تنقیدی نظر دوڑانے کے مواقع ملتے ہیں۔

ایسے ہی شخصیات میں سے اک نابغہ روزگار، مفکر و ادیب و فلسفی و شرق شناس جناب ڈاکٹر حسین نصر کی ذات ہے۔ جو اپنی ذات میں اک انجمن، اک گلستان ہے۔ تین چار برس قبل حسین نصر کی ذات سے آشنا ہوئی۔ کچھ اہل علم دوستوں کی زبانی اس عظیم دانشور سے واقف ہوا۔ میری سیمابی و متجسس طبیعت کو ہر روایات سے پرے شخصیات کے بارے جانکاری کا بہت شوق رہا ہے۔ اب بھی ہے۔ یہی شوق مجھے ”حسین نصر“ کے افکار و خیالات اور انفرادیت پڑھنے کی طرف لے گیا۔

پچھلے سال ایران کے شہر قم المقدس میں اک کتب میلہ لگا۔ جہاں سے اک کتاب ”نصر، سنت، تجدد“ کے نام سے ہاتھ لگی۔ حسین نصر کی ذات سے آشنائی تھی۔ ان کے بارے میں کچھ مضامین پڑھے تھے۔ یوٹیوب پر ان کو کئی بار سنا ہوا تھا۔ کتاب کی فہرست پر سرسری نظر دوڑائی تو اس کتاب میں ”حسین نصر“ کے تمام افکار و نظریات، سوانح حیات پر مکمل قلم فرسائی کی ہوئی تھی۔ کتاب خرید لی اور ایک دو دنوں کے اندر ہی بالاستعیاب مطالعہ کرنے کی کوشش کی۔ آج مطالعہ کر کے مہینوں بعد اس کتاب کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچا کہ اردو میں تلخیص پیش کروں۔ کیونکہ حسین نصر کی ذات سے غالباً اہل اردو زبان واقف نہیں۔ ان کے تمام رشحات قلم فرنگی زبان و فارسی زبان میں ہیں۔ شاید ایک، دو کتب اردو میں ترجمہ ہوئی ہیں۔

یہ کتاب ”نصر، سنت، تجدد، بررسی افکار سید حسین نصر“ ایک ایرانی پی ایچ ڈی اسکالر عبداللہ محمدی نے۔ فارسی زبان میں لکھی ہے۔ ”کانون اندیشہ جوان“ تہران سے شائع ہوئی ہے۔ پانچ فصول اور 272 صفحات پر مشتمل ہے۔

اس کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ سید حسین نصر کے تمام افکار و خیالات اور نظریات مجموعاً بطور اجمالی مکمل پڑھنے کو میسر ہوں گے۔ اس برق رفتار دور میں کسی شخصیت کی تمام کتابوں کی ورق گردانی کرنا، تمام افکار و نظریات کو تفصیل کے ساتھ، جزئیات کو مدنظر رکھتے ہوئے پڑھنا نہایت مشکل اور جانگسل ہے۔ اور ہر کسی کے پاس وقت نہیں۔ وقت و فرصت ہو تو پڑھنے کا سمجھنے کا حوصلہ نہیں۔ ایسے میں کوئی ایسی کتاب ہاتھ لگ جائے تو نہایت خوشی و مسرت ہوتی ہے۔ جس میں ان کے تمام افکار و نظریات یکے بعد دیگرے، ترتیب وار آسان الفاظ میں بیان کیے ہوں۔ مستزاد اس پر مختصر نقد بھی ہو۔

Facebook Comments HS