جب شاہِ ایران نادر شاہ نے گجرات پر حملہ کیا
اٹھارہویں صدی میں دہلی کے بدلتے سیاسی حالات لاہور پر براہ راست اور گجرات پر بالواسطہ اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ ایسی سیاسی صورتحال میں گجرات چار وجوہات کی بنا پر متاثر ہوتا رہا تھا: اول، اس کا جغرافیائی محل وقوع جس کے شمال مغرب میں دریائے جہلم اور جنوب مغرب میں دریائے چناب تھا۔ یہ دونوں دریا پنجاب میں داخل ہونے کا بہترین راستہ تھے۔ دوم، گجرات دریائے سندھ کی حدود سے نکل کر پنجاب کی حدود میں پہلا مضبوط قصبہ تھا۔ سوم، گجرات کے زرعی وسائل حملہ آوروں کے لئے خوراک کا بہترین ذریعہ تھے اور چہارم، عسکری حوالے سے سب سے اہم وجہ سولہویں صدی کا قلعہ اکبر تھا جو حملہ آور فوج کو ایک محفوظ چھاؤنی فراہم کرتا تھا۔ ان چاروں وجوہات کی بنا پر اس صدی میں گجرات کی سیاسی حیثیت مسلمہ تو رہی مگر یہی وجوہات گجرات کی بربادی کا بھی باعث بنیں۔ دہلی کے مغل حکمرانوں کو ماتحت کرنے کے لیے غیر ملکی حملہ آور دریائے سندھ کے راستے پنجاب میں داخل ہوتے، گجرات کو روندتے ہوئے اور لاہور کو زیر کرتے ہوئے دہلی کا رخ کرتے تھے۔ اس کی مثال ایرانی بادشاہ نادر شاہ کی ہے جس نے گجرات کو صرف اس لیے تباہ کیا تھا کہ دہلی میں مغل بادشاہ اور پنجاب کے عوام پر دہشت بٹھا سکے۔
نادر شاہ نے 18 نومبر 1738 ء کو دو لاکھ ستر ہزار فوج کے ساتھ ہندوستان پر حملہ کیا۔ دریائے سندھ عبور کرنے کے بعد اور پنجاب میں داخل ہونے پر اس نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ اپنی بندوقوں اور تلواروں کی زد میں آنے والی ہر چیز کو ختم کر دیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں بالخصوص لاہور کے صوبیدار نواب زکریا خان کے دل میں دہشت بیٹھ جائے۔ نادر شاہ کی فوج نے گجرات کے مشرق میں شاہ دولہ دربار کے قریب سے دریائے چناب کو عبور کیا اور گجرات کو تباہ کر کے شہر پر قبضہ کر لیا۔ گجرات میں قیام کے دوران نادر شاہ نے کچھ شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے مقامی با اثر افراد میں تقرر نامے بھی جاری کیے جیسے گجرات کے مشہور قانونگو گنیش داس بڈھیرا کے ایک رشتہ دار، بھوانی داس ایرانی بادشاہ نادر شاہ کے پنجاب کے حملے کے دوران گجرات کے ایک رئیس تھے جن کی تقرری کا شاہی حکم نادر شاہ نے جاری کیا تھا۔
گجرات پر قبضہ کرنے کے بعد جنگی حکمت عملی کے طور پر نادر شاہ نے اپنے ایک سالار مرزا نور بیگ کو قلعہ گجرات میں ایک فوجی دستے کے ساتھ چھوڑا اور خود باقی کی فوج کے ساتھ وزیر آباد کا رخ کیا جہاں مرزا قلندر بیگ کی زیر کمان صوبیدار لاہور کی فوج نادر شاہ کو لاہور کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ طبل ِ جنگ کی تھاپ پر شاہِ ایران کی فوج وزیر آباد کی طرف بڑھ رہی تھی۔ قلندر بیگ کی فوج نے نادر شاہ کی فوج کے خلاف سخت ترین مزاحمت کی اور جنگ صبح سے شام تک جاری رہی لیکن بالآخر قلندر بیگ جنگ ہار گیا۔ جیت پر ایرانی فوج نے گوجرانوالہ اور ایمن آباد کو تباہ کر دیا جس سے آبادی بہت کم ہو کر رہ گئی۔ اب نادر شاہ کی نظر لاہور پر تھی جس کے لیے اس نے مرزا نور بیگ کی قیادت میں گجرات کے قلعہ میں موجود تازہ دم فوج کو لاہور مارچ کرنے کا حکم دیا۔
جب نور بیگ اپنی فوج کے ساتھ گجرات سے روانہ ہوا تو یہاں لوگوں کو مزید پریشانیوں نے آ گھیرا۔ راہزنوں نے قصبے میں داخل ہو کر غارت گری شروع کر دی۔ گجرات میں ہونے والی تباہی کے چشم دید گواہ آنند رام مخلص تھے جو ایک تاریخ دان لغت نگار اور شاعر تھے۔ انہوں نے گجرات اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں ہونے والی تباہی کے بارے میں یوں لکھا ہے :
”وزیر آباد، ایمن آباد، گجرات جیسے بڑے شہر اور بڑے دیہات سیاہ راکھ میں تبدیل ہوچکے تھے۔“
اسی طرح ایک ایرانی شاعر اور اسکالر شیخ علی ہزن جو 1734 ء میں ایران سے ہندوستان ہجرت کر کے آئے تھے ’لاہور سے سرہند جا رہے تھے‘ انھوں نے نادر شاہ کی اس تباہی کے مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان الفاظ میں بیان کیا:
”پورا صوبہ مکمل فسادات کی زد میں تھا۔ ہر شخص لوٹ مار میں لگا ہوا تھا جبکہ ہزاروں راہزنوں نے عوامی شاہراہوں کو گھیرے میں لیا ہوا تھا۔“
نادر شاہ کے مظالم کی خبر پنجاب میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ایرانی فوج لاہور پہنچی اور 1738 ء میں صوبیدار لاہور کی فوج کی کمزور سی مزاحمت کے بعد لاہور پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ نادر شاہ تھوڑے عرصہ کے لئے نئے مفتوحہ شہر میں رہا، پھر دہلی کی طرف بڑھا اور بالآخر 29 دسمبر 1738 ء کو مغل بادشاہ محمد شاہ کو بھی زیر کر لیا۔ دہلی، ایرانی سلطنت کا ایک حصہ بن گیا اور اس کے نئے فاتح نے فتح کی خوشی میں نئے سکّے جاری کیے اور مساجد میں دعائیں کی گئیں۔
دہلی میں پانچ ماہ کے قیام کے بعد نادر شاہ مئی 1739 ء میں ایران کے لئے روانہ ہوا۔ اس بار گجرات کی بجائے ایرانی بادشاہ نے ہندوستان سے نکلنے کے لیے سیالکوٹ کا راستہ چنا کیونکہ اس کی فوج نے پہلے ہی پنجاب میں اتنے بڑے رقبہ میں تباہی پھیلا دی تھی کہ اس کے لشکر کے لیے راشن ملنا کافی مشکل ہو گیا تھا۔
ایرانی لشکر 5 جون 1739 ء کو سیالکوٹ کے نزدیک کلووال اور اکھنور پہنچا۔ صوبیدار لاہور زکریا خان اس سفر میں نادر شاہ کے ہمراہ تھے۔ اس مقام پر ایرانی بادشاہ نے کشتیوں سے بنے ایک پْل کے ذریعے دریا کو عبور کیا لیکن دریا کی تیز سیلابی لہروں نے دو ہزار فوجیوں سمیت وہ خزانہ بھی نگل لیا جو نادر شاہ نے مغل بادشاہ اور دہلی کے دیگر امراء سے تاوان کے طور پر حاصل کیا تھا۔ بھرپور کوششوں کے باوجود نادر شاہ دریا میں سے خزا نے کو نکلوانے میں ناکام رہا حتیٰ کہ ماہر تیراک بھی بلوائے گئے لیکن سونے چاندی کے کچھ برتنوں کے سوا باقی کا خزانہ بازیافت نہ ہو سکا۔ نادر شاہ نے اس موقع پر گجرات ’سیالکوٹ اور پسرور کو زکریا خان کے حوالے کرنے کا شاہی حکم جاری کیا اور شاہی فرمان میں زکریا خان کو سالانہ بیس لاکھ روپے کی آمدنی ان ضلاع سے اکٹھی کر کے ایرانی خزانے میں جمع کروانے کا پابند کروایا۔ یہ علاقے صوبہ پنجاب کے امیر ترین اضلاع تھے جو اس سے قبل ملتان کے خدا یار خان عباسی کے تحت تھے۔
اگلے نو برسوں تک گجرات نے پنجاب میں امن کو برقرار رکھنے کے لیے ایرانی خزانے کو محصول کی ادائیگی کے لئے سخت جدوجہد کی یہاں تک کہ 1748 ء میں افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان پر حملہ کر کے بشمول گجرات پنجاب پر ایرانی اقتدار کو ختم کر دیا اور اپنی حکمرانی قائم کردی۔


